30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بابُ الاسلام (سندھ) بیراج روڈ سکھرمدینہ مارکی ٹ کے مقیم اسلامی بھائی غلام مجتبیٰ عطاری المدنی اپنی داستان عشرت اور اس کے خاتمے کے اسباب کچھ یوں تحریر کرتے ہیں : دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں آنے سے پہلے میں گناہوں کے مُہلک مرض کا شکار تھا اوراس کا اصل سبب گھر کے ماحول کا درست نہ ہوناتھا، یہی وجہ تھی کہ نت نئے فیشن اپنانا، فلموں ڈراموں کے ذریعے حرام دیکھنا سننا میرے شب و روز کے معمولات میں شامل تھا۔ گانے سننے کا اس قدر جنونی تھا کہ مَعَاذَاللّٰہ جب تک دوچار گانے نہ سن لیتا نیند ہی نہ آتی تھی، بلکہ اکثر اوقات گانے سنتے سنتے ہی سوجاتا تھا۔بدقسمتی سے نمازیں قضا ہونے کا کوئی احساس نہ تھا۔الغرض میرے چہار سو غفلت وجہالت کا اندھیرا تھا، جس کے کافور ہونے اور میری زندگی میں مدَنی انقلاب کا سورج طلوع ہونے کا سبب کچھ یوں بنا، خوش قسمتی سے ہمارے پڑوس میں مدَنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی رہائش پذیر تھے جو میری حالت ِزار سے بخوبی واقف تھے۔ ایک روز جب اُن سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بڑے ہی میٹھے انداز میں میری قبر و آخرت کی بہتری کی خاطر مجھ پر انفرادی کوشش فرمائی اوراسلامی احکام جاننے اور اپنے ایمان کو جلا بخشنے کے لئے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی ترغیب دلائی۔ ان کے میٹھے کلمات میرے کانوں میں رس گھولنے لگے اور میں اجتماع کے لئے راضی ہوگیا اور یوں ایک بار ہفتہ وار اجتماع میں شریک ہوگیا۔جب میں اجتماع گاہ پہنچا تو وہاں ہر طرف سنتوں کی بہار سبز عماموں کا نکھار اور اسلامی بھائیوں کی کثیر تعداد دیکھ کر بہت اچھا لگا ، میرے لیے یہ ایک نئی دنیا تھی جہاں پیار ومحبت کی فضا قائم تھی، عاشقانِ رسول کا اندازِ گفتار بڑا ہی پیار بھرا تھا، میں وہاں کے پُرکی ف مناظر سے خوب محظوظ ہوا ، مزید سنّتوں بھرے بیان اور اختتامِ اجتماع میں ہونے والی دعا نے میری سوچ وفکر کا محور ہی بدل دیا ، میرے دل پر ایک عجب سکون کی کی فیت طاری ہوگئی، میں اس سنّتوں بھرے اجتماع کی برکتوں سے مالامال ہوکر گھرلوٹا۔ اس کے بعد ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنا اپنا معمول بنالیا جس کی برکت سے رفتہ رفتہ دِل پر لگی گناہوں کی سیاہی دھلنے لگی، عاشقانِ رسول کی قرب کی برکت سے میرے اندر عمل کا ایسا جذبہ بیدار ہوا کہ پہلے نمازوں کے قضاہونے پر کوئی افسوس وملال نہیں ہوتا تھا مگر اب میں نمازوں کی پابند کے ساتھ ساتھ قبر وآخرت کی بہتری کی فکر سے سرشار ہوگیا۔ پھر جب رمضان المبارک کے مُقَدَّس مہینے کی آمد ہوئی تو مذکورہ اسلامی بھائی ایک بار پھرمیرے پاس تشریف لے آئے اورمجھے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے تربیتی اعتکاف میں بیٹھنے کی ترغیب دلانے لگے، دعوت ِاسلامی کے مدنی ماحول سے تو میں پہلے ہی متأثر ہوچکا تھا لہٰذا اس نیک کام کے لیے ہاتھوں ہاتھ تیار ہوگیا اور گھروالوں سے اجازت لیتا ہوا مدَنی ماحول میں اعتکاف کرنے جا پہنچا۔ تربیتی اعتکاف میں خوب نیکی اں کمانے، سنّتیں اپنانے اور علمِ دین حاصل کرنے کا موقع مُیَسَّر آیا، باجماعت نمازیں ادا کرنے اور اشراق و چاشت و اوابین کے نوافل پڑھنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ اعتکاف کی ان مبارک گھڑیوں کے دوران ایک بار مدَنی حلقے میں شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے دِل سوز بیان ’’گانے باجے کی ہولناکی اں ‘‘ کی کی سٹ چلائی گئی، یہ بیان میں بغور سننے لگا کی ونکہ میں گانے باجے سننے کا بے حد شوقین تھا۔ اس بیان میں آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے گانے باجے سننے کی تباہ کاریوں اور اس کے سبب قبر و حشر میں ملنے والی سزاؤں کو دِل ہلادینے والے انداز میں بیان فرمایا تھا۔ میں جیسے جیسے یہ بیان سنتا گیا میرے دِل میں ایک ہلچل سی بپا ہوتی گئی، مجھ پر خوفِ خُدا کا غلبہ ہونے لگا اور میراجسم کانپنے لگا۔ ایک ولیِ کامل کے پُرتاثیر بیان نے میرے دِل کی کایا پلٹ دی اور میرے اندر مدَنی انقلاب برپا ہوگیا۔مجھے گانے باجوں کے گناہ سے نفرت ہوگئی اورمیں نیکی اں کرنے کے جذبے سے سرشار ہوگیا، چنانچہ اس بیان کی برکت سے میں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی مقدس بارگاہ میں اپنے تمام گناہوں سے توبہ کی ، گانے باجے سننا چھوڑ دیے اور آئندہ گناہوں سے بچتے ہوئے سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی نیّت کی ۔ اعتکاف کی برکت سے میرے دل کی دنیا ہی بدل چکی تھی، دل میں علمِ دین حاصل کرنے کا جذبہ بیدار ہوچکا تھا چنانچہ علمِ دین کی انمول دولت حاصل کرنے کے لئے میں نے جامعۃُ المدینہ میں داخلہ لے لیا اورعلمِ دین حاصل کرنے میں مشغول ہوگیا۔ عالمِ کورس کرنے کے دوران نیکی کی دعوت عام کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دسمبر 2006ء میں سند ِفراغت حاصل کی ۔ تادم ِتحریر جامعۃُ المدینہ سکھر (باب الاسلام سندھ) میں بحیثیت مدرس چار سال سے علمِ دین کی خدمت کر رہا ہوں مزیدکابینات سطح پر مجلسِ رابطہ بالعلماء والمشائخ کا ذمہ دار بھی ہوں ۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع