30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سَیِّدُنا امام محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِیْ نقل فرماتے ہیں : حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام نے بارگاہ ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کی : ’’یا اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ ) ! جو اپنے بھائی کو بُلائے ، اُسے نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے تو اس کی جزا کی ا ہے ؟ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’میں اس کی ہر بات پر ایک سال کی عبادت کا ثواب لکھتا ہوں اور اسے جہنم کی سزا دینے میں مجھے حیاء آتی ہے۔ ‘‘ (مکاشفۃ القلوب، باب فی الامر والمعروف، ص۴۸)
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ضلع مظفر آباد (کشمیر، پاکستان) کے علاقے اپر گوجرہ (درل نکر) کے مقیم اسلامی بھائی محمد توفیق خورشید عطاری المدنی دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول کی برکات کا تذکرہ کچھ اس طرح کرتے ہیں : بچپن میں گھر والوں نے مجھے حفظِ قراٰن کرانے کے لئے ایک سنّی مدَرسے میں داخل کروادیا تھا جہاں میں قرآنِ مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل کرنے لگا، مگر افسوس! میری عمَلی حالت بہت ابتر تھی۔ نیکی وں سے کوسوں دور، گناہوں میں مخمور آوارہ لڑکوں کی طرح زندگی گزار رہا تھا۔ سنتوں پر عمل کرنے کا شوق تھا نہ ہی عبادتِ الٰہی بجالانے کا کوئی ذوق۔ میرے اُجڑے گلستان میں عمل کی بہار کچھ اس طرح آئی، ہمارے ایک عزیز جن کی دوکان پر اکثر میرا آنا جانا لگا رہتا تھا ، ایک دن وہ مجھ سے کہنے لگے: توفیق بھائی! آپ قرآن مجید حفظ کررہے ہیں لیکن آپ کی عادات و اطوار عام لڑکوں کی طرح ہی ہیں ، آپ اپنے سر پر عمامہ تو دور کی بات ٹوپی تک نہیں پہنتے، اس طرح آپ کے اور اسکول و کالج کے عام لڑکوں کے درمیان کی ا فرق رہ گیا۔ مزید کہنے لگے: میرا بھانجہ بھی سردارآباد (فیصل آباد) میں دعوتِ اسلامی کے مدرسۃُ المدینہ میں قراٰن پاک حفظ کرنے کی سعادت حاصل کررہاہے مگر اس کا اخلاق، کردار، طریقۂ گفتار نیز اپنے پرائے سے ملنے کا انداز قابلِ رشک ہے۔ جب وہ رمضان المبارک کی چھٹیوں میں گھر آئے تووہاں ہونے والی عملی تربیت دیکھ کر سب گھر والے بے حد خوش ہوئے ، ان کا معمول تھا کہ سنت کے مطابق کھاتے پیتے ، گھر میں داخل ہوتے وقت بلند آواز سے سب کو سلام کرتے، والدین کے ہاتھوں کو چومتے ، نظریں جھکاکر گفتگو کرتے، کھانے کے دوران سنتیں بیان کرتے اورسب گھر والوں کو سنتوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلاتے۔مدرسۃ المدینہ کے طالبِ علم کی یہ مدنی بہار سن کر مجھے اپنی بدعملی پر ندامت ہونے لگی چنانچہ میں نے ہاتھوں ہاتھ دعوتِ اسلامی کے مدرسۃُ المدینہ میں داخلہ لینے کی نیت کی اور اُسی سال سردارآباد (فیصل آباد) جا پہنچا اور مدرسۃُ المدینہ ( فیضانِ مدینہ) مدینہ ٹاؤن میں داخلہ لے کر مدَنی ماحول کا فیضان پانے میں مشغول ہوگیا۔ کچھ ہی عرصہ میں حیرت انگیز طور پر مجھ میں نمایاں تبدیلی واقع ہونے لگی۔ آہستہ آہستہ میں بھی دعوتِ اسلامی کے مدَنی رنگ میں رنگتا چلا گیا، عمامہ شریف کا تاج ہر وقت میرے سر پر رہنے لگا، نمازِ پنجگانہ کا پابند بن گیا، ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں بھی شرکت کرنے لگا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ 1998ء میں مدرسۃ ُالمدینہ سے قراٰن پاک حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی اور اس کے بعدجامعۃُ المدینہ میں داخلہ لے کر عالم کورس کرنے میں مشغول ہوگیا۔ جامعۃُ المدینہ کے سنّتوں بھرے مدنی ماحول میں میرا کردار مزید اچھا ہوگیا، جہاں علمِ دین کا اکتساب ہوا وہیں اپنے علم پر عمل کرنے، مدَنی قافلوں میں سفر کے ذریعے اسے دوسروں تک پہنچانے اور مدَنی کاموں کے ذریعے اصلاحِ اُمت کرنے کا سنہری موقع بھی ہاتھ آیا۔ نیز شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہسے بیعت ہوکر قادری عطاری بننے کا شرف بھی نصیب ہوگیا ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّفیضانِ امیراہلسنّت سے درسِ نظامی (عالم کورس) مکمل کرچکا ہوں اور تادمِ تحریر تقریباً 4 سال سے جامعۃُ المدینہ میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہا ہوں ۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مظفرآباد (کشمیر) کے مقیم اسلامی بھائی ابو جمیل محمد شکی ل عطاری المدنی اپنی سابقہ گناہوں بھری زندگی اور اس سے توبہ کے احوال کچھ یوں زینتِ قرطاس کرتے ہیں : یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں میٹرک کا اسٹوڈنٹ تھا اور دنیوی فکروں سے آزاد تھا۔ اسکول کے آزادانہ ماحول نے مجھے آوارہ بنادیا تھا۔ اسی پُرفِتَن ماحول میں اسکول کے کچھ ایسے لڑکوں سے میری دوستی ہوگئی جو بے نمازی ، سنّتوں سے عاری اور فلموں ڈراموں کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع