30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(بابری چوک، باب المدینہ کراچی) میں داخلہ لے لیا اورعالم کورس کرنے میں مشغول ہوگیا۔دورانِ تعلیم مدَنی کاموں میں بھی حصہ لیتا رہا اور اپنی ظاہری وباطنی اصلاح کے پیشِ نظر اپنے میٹھے میٹھے مرشد شیخِ طریقت، امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بیانات سے بھی مستفیض ہوتا رہا۔نیزاسی دوران میں نے جامع مسجد فیضانِ معراج النبی ناز پلازہ ایم اے جناح روڈ باب المدینہ کراچی میں بطور موذن خدمت دین کا سلسلہ شروع کی ا ، اس مسجد کے امام وخطیب حاجی ابوماجد محمد شاہد عطاری المدنی تھے جو اس وقت دعوت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن نہیں بنے تھے انکی صحبت کی برکت سے مزید مدنی کام کا جذبہ ملا، انکے ساتھ مل کر مارکی ٹ میں علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کا بھی موقع ملا ۔ اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر جامعۃُ المدینہ سے سندِ فراغت حاصل کرنے کی سعادت سے ہمکنار ہوکر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ مدَنی مقصد’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ‘‘ کے تحت سنّتوں کی خدمت میں مصروفِ عمل ہوں اور ناز پلازہ (صدر، باب المدینہ کراچی) میں امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دے رہا ہوں اور اس کے علاوہ تقریباً 2 سال سے جامعۃُ المدینہ فیضانِ بخاری (کھارا در، باب المدینہ کراچی) میں بطورِ مُدَرِّس خدمتِ علمِ دین کر رہاہوں ، مجھ جیسا بیکار اور معاشرے کا بگڑا ہوا نوجوان جو کل تک ہاتھوں میں اسلحہ لیکر لوگوں کو خوف زدہ کرتا تھا آج امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے فیضان سے نیکی کی دعوت عام کرنے کی سعادت پارہاہے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ کس طرح بری صحبت کے سبب ایک شخص غنڈہ گردی اور بدمعاشی کی راہ پر چل نکلا پھر ان پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا کرم ہوا اور انہیں مدَنی ماحول مُیَسَّر آگیا ورنہ نجانے ان کا کی ا بنتا؟۔ یہ حقیقت ہے کہ انسان جیسی صحبت اختیار کرتا ہے ویسے ہی رنگ میں رنگتا چلا جاتا ہے۔سنّتوں کے عامل اسلامی بھائیوں کے ’’میٹھے بول ‘‘ اوران کی صحبت انسان کو سنّتوں کے مدنی رنگ میں رنگ دیتی ہے جبکہ شرابی ، بے نمازی ، چرسی ، اور غنڈا گردی کرنے والے کی بری صحبت انسان کے اخلاق وکردار کو داغ دار کردیتی ہے ۔ اچھا دوست انسان کے لیے مشعلِ راہ ہوتا ہے جبکہ برا دوست انسان کے لیے کسی ہلاکت خیز چیز سے کم نہیں جو دنیا و آخرت کی بربادی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
چنانچہ سرورِ ذیشان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:
’’اَلرَّجُلُ عَلٰی دِینِِ خَلِیْلِہٖ، فَلْیَنْظُرْ أَحَدُکُمْ مَنْ یُخَالِلُ ‘‘ ترجمہ: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہے، پس تم میں سے ہر شخص دیکھ لے کہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔ (ابوداؤد، کتاب الادب، باب من یؤمر ان یجالس، ۴ / ۳۴۱، حدیث:۴۸۳۳)
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{2} کرکٹ کاشائق مُدَرِّس کی سے بنا؟
میانوالی (پنجاب، پاکستان) کے محلہ نور پورہ سے تعلق رکھنے والے ابوالحسنین محمد عارف محمود عطاری (عمر تقریباً ۳۰ سال) کے تحریری بیان کا مفہوم ہے کہ مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل مجھے کرکٹ کھیلنے کا جنون کی حدتک شوق تھا، وقت برباد کرنے والے اس فعل سے نجات پانے کی صورت یوں بنی کہ ہمارے محلے کی جامع مسجد نوری میں ایک اسلامی بھائی جو باب الاسلام سندھ سے تعلق رکھتے تھے اور پاکستان ائیر فورس میں ملازمت کی وجہ سے پنجاب میں مقیم تھے روزانہ مغرب کی نماز کے بعد فیضانِ سنّت کا درس دیتے تھے۔ بڑے بھائی جان (جو تادمِ تحریر ائیر فورس، کامرہ بیس، اٹک، پنجاب میں سرکاری ملازم ہیں ) بھی اس درس میں شریک ہوتے تھے۔ بھائی جان پر درسِ فیضانِ سنّت کی برکتوں کا ایسا ظہور ہوا کہ ان کے دِل میں نیکی کا جذبہ پیدا ہوگیا لہٰذا انہوں نے مذکورہ اسلامی بھائی سے درس دینے کا طریقہ سیکھا اور پھر خود ہی درس دینا شروع کردیا۔ ہم بھی درسِ فیضانِ سنت سے خوب فیض یاب ہوتے اور پیارے آقا مکی مدنی مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیاری پیاری سنتیں سیکھتے، بھائی جان وقتاًفوقتاً مجھے نیکی کی دعوت دیتے اور ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی بھی ترغیب دلاتے، ان کی مسلسل انفرادی کوشش کی برکت سے میرا دل نیکی کی دعوت عام کرنے کے جذبے سے سرشار ہوگیا، میں بھی بڑے بھائی کی ہمراہ محلے کے دیگر اسلامی بھائیوں کو ہفتہ وار اجتماع کی دعوت دینے لگا ۔ اس طرح ہمارے علاقے سے اسلامی بھائیوں کا ایک قافلہ ہر ہفتے بعد نمازِ مغرب جامع مسجد میاں سیف العلی محلہ میانہ (میانوالی) میں ہونے والے ہفتہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع