دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Mazarat Par Hazri Ka Tariqa | مزارات پر حاضری کا طریقہ

book_icon
مزارات پر حاضری کا طریقہ

سُوال: اسکوٹر ىا کار وغىرہ چلاتے ہوئے جس ایریا کو دیکھنا ہوتا ہے بعض لوگ اُسے چھوڑ کر اِدھر اُدھر نظریں گھما رہے ہوتے ہیں تو کیا  ڈرائیونگ کرتے ہوئے بھی پریشان نظری ممکن ہے ؟  

جواب: اب تو لوگ  ڈرائیونگ کرتے ہوئے موبائل فون پر پرىشان کلامى کر رہے ہوتے  ہىں اور یوں بےچارے کسی سے ٹکرا بھی جاتے ہوں گے ۔ اسکوٹر ہو یا  کار سب جگہ پرىشان نظرى ممکن ہے لىکن ڈرائیونگ کرتے ہوئے اپنی  نظر کی باگ تھوڑی ڈھیلی  رکھنا پڑے گى کىونکہ ڈرائىونگ کرتے ہوئے اگر تھوڑی سی  بھى کوتاہی  کى تو اپنى اور دوسروں کى جانوں کا اندیشہ ہے  لہٰذا ڈرائیونگ کرتے ہوئے آنکھوں کے قفلِ مدىنہ کو تھوڑا سنبھال کر رکھنا  ہو گا ۔ میری زندگى گزر گئى مگر میں نے کبھى اسکوٹر نہىں چلائی اور نہ ہی  مجھے اسکوٹر چلانا آتی ہے بلکہ  اسٹارٹ کرنا بھی نہیں  آتی البتہ میں   بندے  چلانا سىکھتا ہوں مگر وہ بھى سىکھ نہیں پاىا ۔ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کبھی بھی  پرىشان نظری  نہىں فرماتے تھے اور نہ ہی راہ چلتے ہوئے بِلاضَرورت کسى شے کو دىکھتے تھے ۔ اعلىٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کا یہ  شعر بڑا قابلِ توجہ ہے :

نىچى نظروں کى شرم و حىا پر دُرُدو

                 اونچى بىنى کى رِفعت پہ لاکھوں سلام  (حدائقِ بخشش)

یعنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی نگاہیں شرم  و حىا سے نىچی رہتیں  اور جب آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اُوپر دىکھتے  تو لوحِ محفوظ دىکھ لىتے تھے۔ اِسی طرح اعلىٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ  کا ایک شعر یہ بھی ہے :

سَرِ عرش پر ہے تری گُزر دِلِ فرش پر ہے تری نظر

                     ملکوت و ملک میں کوئی شے نہیں وہ جو تجھ پہ عیاں نہیں    (حدائقِ بخشش)

ىعنی آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم عرش کى بھى سىر کرتے ہیں ، ساتوىں زمىن کے نىچے بھى دىکھ لىتے  ہىں اور دِلِ فرش  یعنی  دِل کى بات کو بھی  جان لىتے ہیں۔ دِل ىعنى گوشت کا وہ  لُوتھڑا جسے دِل کہتے ہے اس کا  نظر آنا تو اپنى جگہ پر ہے مگر اس کے اندر کىا ہے ؟ىہ غىب کى خبر ہے اور پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اللہ پاک  کى عطا سے  اسے بھى جان لىتے تھے۔

یااِلٰہی! رنگ لائیں جب مری بےباکیاں

                 ان کی نیچی نیچی نظروں کی حیا کا ساتھ ہو   (حدائقِ بخشش)

کسی کو اِدھر اُدھر دیکھتا پائیں تو اس پر فضول نظری کا حکم نہ لگائیں

اگر آپ  کسى کو اِدھر اُدھر دىکھتا پائىں تو اپنے دِل میں اُس کے لیے یہ بُرا خیال نہ جمائیں کہ یہ بِلاضَرورت اِدھر اُدھر دیکھتا ہے، یہ بے عمل ہے کہ کہیں ایسا گمان کرنے کی  وجہ سے آپ گناہ گار نہ  ہو جائیں۔ یاد رَکھیے !آدمی بسااوقات بھیڑ دیکھنےکےلیے تعجب سے بھی اِدھر اُدھر دیکھتا ہےکہ اتنی عوام کہاں سے  آئی  ہے!نیز یہ مَدَنی پُھول ہمیشہ کے لیے ذہن نشین کر لیجیے کہ  جو بِلاضَرورت اِدھر اُدھر دىکھتا ہے اُسے بے عمل نہىں کہتے، بے عمل اُسے کہتے ہىں کہ جو فرض، واجب  ىا سُنَّتِ مُؤکدہ تَرک کرتا ہو اور جو سُنَّتِ غىر مُؤکدہ یا مستحبات تَرک کرتا ہے اُسے بے عمل نہیں کہا جائے گا۔ اب  اگر امام صاحب نے اِدھر اُدھر دىکھا ىا فضول بات کى ىا زور سے قہقہہ لگایا تو اپنی سوچ یہ  نہ بنائیں  کہ ىہ امام  بےعمل ہے، عالِم سارے اىسے ہی  ہوتے ہیں لہٰذا اب اِس کے پىچھے نماز نہیں  پڑھنی ۔  ایسی بھول نہ کیجیے گا بلکہ ایسے موقع پر”ىا شىخ اپنى اپنى دىکھ“والا مُعاملہ ہو گا اور ہم اپنے آپ کو دیکھیں گے اور عُلَما کى اِصلاح کرنے کے بجائے اپنى اِصلاح کرىں گے۔ بعض اوقات ہمىں لگتا ہے کہ ىہ بِلاضَرورت دىکھ رہا ہے اور فُضُول نگاہی کر رہا ہے  جبکہ یہ ہو سکتا ہے کہ اُس کے نزدىک ضَرورت ہو اور وہ اس وجہ سے دىکھ رہا ہو مثلاً کسی شخص نے اس کے پاس آنا تھا مگر وہ نہ آیا تو اب وہ یہ سوچ کر بار بار دیکھ رہا ہو  کہ فُلاں آنے والا تھا وہ کہیں آ تو نہیں رہا  تو یُوں اِس صورت میں اُس کا  دیکھنا فُضُول نہ  تھا لیکن  آپ اُسے بُرا سمجھ کر خواہ مخواہ بَدگمانى کے وبال مىں پڑے۔ ایسے موقع پر اپنا یہ ذہن بنائیے کہ اگر ہم  اىک اُنگلی کسی کی طرف  اُٹھائیں گے تو  تىن اُنگلیاں اپنى طر ف آئیں گی ۔ (اِس موقع پر نگرانِ شُوریٰ نے فرمایا: )کسی کی حفاظت پر مامور سیکورٹی گارڈ کو تو اِدھر اُدھر دیکھنا ضَروری ہے کہ  آگے  پیچھے اور اُوپر نیچے سے کوئی نقصان پہنچانے والا تو نہیں آ رہا۔ (اِس پر امیراہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اِرشاد فرمایا: )ہاں! ضَرورتاً دیکھا جا سکتا ہے جیسے مبلغ یا مُقَرِّر دَورانِ بیان اِدھر اُدھر دیکھتے ہیں۔  بعض اوقات اِدھر اُدھر دیکھنے کی  ضَرورت نہیں ہوتی مگر پھر بھی  عادت ہونے کی وجہ سے دیکھتے ہیں ۔ بہرحال ىہ ذہن مىں رہے کہ فُضُول اِدھر اُدھر دىکھنایا بِلاوجہ سىنرى دىکھنا ىہ گناہ نہىں ہے لہٰذا کسی کو یہ نہ بولىں کہ اپنی نظر نیچی رکھ اور اِدھر اُدھر  مَت دىکھ ورنہ  گناہ گار ہو جائے گا۔ بعض اوقات آدمی  ضَرورت سے بھى اِدھر اُدھر دىکھتا ہے لہٰذا ہم کسى پر فضول نظری کا حکم نہ لگائىں وہ خود دیکھ لے  کہ میرا ىہ دیکھنا  فضول ہے ىا غىر فضول ہے ۔ اىسے  مُعاملات مىں ہمیں اپنی فِکر کرنی چاہیے  ورنہ ہم وَسوسوں کا شکار ہوں گے یا  خواہ مخواہ گناہوں میں پڑ یں گے  ۔  

 اَمرد یا عورت کی طرف دیکھنے والے پر بَدنگاہی کاحکم لگانا کیسا؟

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن