دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Mazarat Par Hazri Ka Tariqa | مزارات پر حاضری کا طریقہ

book_icon
مزارات پر حاضری کا طریقہ

نىک بندوں کا یہ شیوہ رہا ہے کہ اِقتدار کا نشہ کبھی ان حضرات پر سوار نہىں ہوا بلکہ  اِقتدار کی وجہ سے ان کا خوف مزىد بڑھ جاتا تھا کہ کہىں کوئی نااِنصافى یا کسى پر ظلم نہ ہو جائے، عدل و انصاف  کا دامن کہىں ہم سے چھوٹ نہ جائے۔  جتنا بڑا منصب ہوتا ہے اتنى ذِمَّہ دارى بھى بڑى ہوتى ہے ، اتنے اِمتحانات بھى سخت آتے ہىں۔ بہرحال مختصر سى زندگى ہے اللہ کرے کہ ہم  اِس زندگى کو اللہ پاک اور اس کے پىارے حبىب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے اَحکامات کے مُطابق گزارنے مىں کامىاب ہو جائىں ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم    

آنکھوں کا قفلِ مدینہ  کیا ہے؟

سُوال:  آنکھوں کے قفلِ مدینہ سے کیا مُراد ہے ، اِس کی وضاحت فرما دیجیے؟ ([1])

جواب: آنکھوں کے قفلِ مدینہ سے مُراد یہ ہے کہ بندہ پریشان نظری سے بچے مثلاً اگر کوئی سُنَّتوں بھرے  اِجتماع مىں بىٹھا ہوا ہے اور  بِلاضَرورت اِدھر اُدھر دىکھ رہا ہے جسے پرىشان نظری کہتے ہیں تو ایسا نہ کرے ۔ خواہ مخواہ اِدھر اُدھر دیکھنے کى اِسلام پذىرائى نہىں کرتا  جیسا کہ اِحىاءُ العلوم مىں ہے : ہر فضول نظر کا قىامت کے دِن حِساب ہے۔ ([2])راستہ چلتے ہوئے بھی بندہ بِلاضَرورت اِدھر اُدھر دیکھنے سے پرہیز کرے۔ ضَرورتاً جب دیکھے تو اِس میں بھی یہ اِحتیاط ہو کہ بَدنگاہى نہ ہو۔ پہلى نظر اگرچہ مُعاف ہے ([3]) لىکن اگر نظر جَم گئى اور  دِل خَراب ہو گىا تو اب پکڑ ہے۔ بہرحال  جب بھى نگاہىں نىچی رکھنے کى بات ہوتی ہے تو اس کا مطلب ىہى ہوتا ہے کہ بِلاضَرورت اِدھر اُدھردىکھنے سے خود کو بچائیں۔ باقی  راستہ چلتے ہوئے حتَّى الامکان نظر نىچى  رکھیں مگر اتنى نہىں کہ کسى بندے ، بندى یا  گاڑى سے ٹکرا جائیں۔     

 آنکھوں کا قفلِ مدینہ  لگانا کیسے ممکن ہے؟

سُوال: موجودہ دور میں آنکھوں کا قفلِ مدینہ لگانا کیسے ممکن ہے  کہ نگاہیں نیچی رکھنے کے سبب حادثہ ہو سکتا ہے؟ ([4])

جواب: قفلِ مدینہ لگانے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر وقت نگاہیں نیچی رکھی جائیں۔ ظاہر ہے ضَرورت کے وقت نگاہیں تو اُٹھانی ہو گی اور یہ قفلِ مدینہ کے منافی بھی نہیں مثلا ً اگر سڑک پار کرنی ہے تو نگاہىں اُٹھا کر دیکھنا تو پڑے گا۔ مدىنے جائیں گے  تو گنبدِ خضرا  دىکھنے کے لىے بھی تو نگاہ اُٹھانی ہو گی۔ راہ چلتے ہوئے بھی نظرىں اتنی نىچی نہیں کرنی کہ بندہ کسی  سے ٹکرا جائے۔ موقع کى مناسبت سے اوپر دىکھنا  بلکہ  آسمان کى طرف دىکھنا بھى جائز ہے ۔ چاند بھى تو دىکھا جاتا ہے بلکہ شَعْبَانُ الْمُعَظَّم، رَمَضانُ المبارک، شَوَّالُ الْمُکَرَّم، ذُوالْقَعْدَۃُ الْحَرَام اور ذُوالْحِجَّۃُ الْحَرَام اِن پانچ مہىنوں کا چاند دىکھنا وَاجِبُ الْکِفَایَہ ہے۔ ([5]) یعنی جو جو دىکھے گا سب کو واجب ادا کرنے کا ثواب ملے گا۔ اب قفلِ مدینہ کے زُعم میں ہر وقت نىچی نظر رکھنے والا چاند  کیسے دىکھے گا؟حالانکہ یہاں تو اوپر دىکھنا ثواب کا کام ہے۔  کعبہ کى زىارت کے لیے نگاہ اُٹھانی  ہو گی اور یہ بھی ثواب کا کام ہے۔ ([6])وحى کے اِنتظار مىں سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم آسمان کى طرف نگاہ اُٹھاتے تھے۔ ([7]) اگر کوئی  ڈرائىونگ کرتا ہے جو کہ 100 فىصد جائز کام ہے اب کیا اسے  قفلِ مدىنہ کی  وجہ سے نگاہیں نىچی  رکھ کر گاڑی چلانے کا کہا جائے گا؟ ظاہر ہے اِس طرح گاڑی چلانا ممکن ہی نہیں ہے ۔ ہاں! اگر کوئی ولی ہو اور نظریں نیچی کرنے کے باوجود وِلاىت کى نظر سے دىکھ  کر گاڑی چلا لے  تو اس کی کرامت ہے۔ کرامت کے ذَریعے تو یہ بھی ممکن ہے کہ بندہ سواری مىں بىٹھے بغیر منزل تک پہنچ جائے ۔ اىک ہی قدم مىں زمىن طے کر لىنا بھی کرامت کا ایک شعبہ ہے۔ ([8]) لیکن عام آدمى کے لىے ىہى ہے کہ جب ڈرائىونگ کرے گا تو سامنے دیکھنا ہی پڑے گا، اب چاہے مَرد پر نظر پڑے یا عورت پر۔ ہاں!  اگر کوئی قفلِ مدینہ کا ذہن  رکھتا ہو تو وہ ڈرائیونگ ہی نہ کرے جیساکہ مفتىِ دعوتِ اسلامى حاجی فاروق عطاری نے اپنی موٹرسائیکل اِس لیے بیچ دی تھی کہ اس کو چلاتے وقت بندہ نگاہوں کى حفاظت کىسے کرے؟ لہٰذا موٹرسائیکل ہی بیچ دی کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسرى۔ اُن دِنوں یہ عالَمى مَدَنى مَرکز فیضانِ مدینہ کے  مَرکزى جامعۃُ المدىنہ مىں غالباً تدرىس فرما رہے تھے۔ موٹرسائیکل بیچنے کے بعد پیدل فىضانِ مدىنہ آیا جایا کرتے تھے۔ ([9])بہرحال اسکوٹر چلانا 100 فىصد جائز ہے۔ اِس کو چلاتے وقت عورتوں پر نظر تو پڑے گى لیکن بندہ اپنے دِل کو سنبھالے اور اِرادتاً کسی عورت کو نہ دىکھے۔

کیا ڈرائیونگ کرتے ہوئے پریشان نظری ممکن ہے؟

 



[1]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)

[2]    احیاء العلوم، کتاب المراقبة والمحاسبة، المقام الاول من المرابطة الشاربة، ۵/ ۱۲۶-احیاء العلوم(مترجم)، ۵/ ۳۱۷ 

[3]    ابوداود،  کتاب النکاح، باب مایؤمر به من غض البصر، ۲/ ۳۵۸، حدیث: ۲۱۴۹ دار احیاء التراث العربی بیروت

[4]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)

[5]    بہارِ شریعت، ۱/ ۹۷۵، حصہ: ۵ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

[6]    شعب الایمان، الخامس والخمسون : باب فی بر الوالدین...الخ، ۶/ ۱۸۷، حدیث: ۷۸۶۰  دار الکتب العلمیة بیروت

[7]    اشعة اللمعات، کتاب الفتن، باب فی اخلاقہ وشمائلہ، ۴/ ۵۲۶ کوئٹہ

[8]    شرح العقائد، کرامات الاولیاء حق،  ص۳۱۴  مکتبة المدينه  باب المدينه كراچی

[9]    مفتیِ دعوتِ اسلامی، ص۳۲ ماخوذاً مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن