دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Mazarat Par Hazri Ka Tariqa | مزارات پر حاضری کا طریقہ

book_icon
مزارات پر حاضری کا طریقہ

گھنٹہ گھنٹہ گپىں مارتے ہیں۔ بہرحال عشا کی جماعت کے دو گھنٹے کے اندر سو جانے والے مَدَنی اِنعام پر عمل کرتے ہوئے جلد سو جانا چاہیے۔ دعوتِ اسلامى کے مَدَنی کاموں کو روزانہ دو گھنٹے دینا  عشا کے بعد ہی شرط نہىں ہے بلکہ یہ دو گھنٹے کسی بھی وقت دیئے جا سکتے ہیں۔

انٹرنیٹ کے گھریلو اور مُعاشرتی نقصانات

سُوال: رات جاگنے کی عادت میں انٹرنىٹ بھى اپنا پورا کِردار ادا کر رہا ہے ۔ باہر  گھومنا پھرنا نہ بھى ہو تو گھر مىں انٹرنىٹ چلاتے چلاتے لوگ  رات گزار دىتے ہىں اور فجر کے وقت نىند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ Male، Female یعنی مَرد وعورت دونوں مىں ىہ مَسائل موجود ہیں ۔ بىوى پرىشان ہے کہ شوہر گھر پر  آتا بھی ہے تو انٹرنىٹ پر لگا رہتا ہے۔ کبھی کوئی  گىم اور کبھی کوئی فلم لے کر بىٹھا ہوتا ہے۔ اىک Research(تحقیق)کے مُطابق اِس وقت بڑھتى ہوئى طلاقوں کا اىک سبب انٹرنیٹ کا زیادہ اِستعمال بھی ہے۔ بہرحال گھر کے مُعاملات کو چلانے اور اپنى زندگى کی انمول سانسوں کو گنوانے سے بچانے کے حوالے سے کچھ مَدَنى پھول عطا فرما دیجیے۔ (نگرانِ شُوریٰ کا سُوال)

جواب:  سُوال کے لیے جو تمہىد باندھى گئی ہے اگر اِسى پر کوئى غور کر لیا جائے  تو بات سمجھ آ جائے گی  کہ انٹرنیٹ کے بے جا اِستعمال مىں اپنی اور گھر کى بَربادى ہے لہٰذا گھر کو چلانے کے لیے میاں بیوی کو اِس کے زیادہ اِستعمال سے بچنا ہو گا ۔ اگر  بىوى نیٹ اِستعمال کر رہی ہو اور اُسی وقت اُسے شوہر کہے کہ مجھے چائے بنا کر دے دو تو اُسے چاہیے کہ لَبَّیْک کہتی ہوئی اُٹھے اور ہاتھوں ہاتھ چائے بنا کر پیش کر دے، اگر  اُس وقت نہىں اُٹھے گى تو گھر کیسے چلے گا؟ بیوی کو شوہر کی اِطاعت کرنی چاہیے کہ قرآنِ پاک میں ہے: (اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ) (پ۵، النساء: ۳۴) ترجمۂ کنزالایمان: مَرد افسر ہیں عورتوں پر۔ “ اگر بیوی  شوہر کى اِطاعت نہىں کرے گى تو آپس میں مُنہ مارى ہوتى رہے گى۔ عورت سامنے سے جواب دے گى تو پھر دُنىا کى بَربادی کے ساتھ آخرت کى تباہ کارى بھى ہو گی۔ ہر فرىق سامنے والے کى غَلَطىاں ثابت کرنے کى کوشش کرے گا۔ جھوٹ ، غىبت، تہمت اور دِیگر گناہوں کے دَروازے کھلىں گے مثلاً بیوی کہے گی کہ  مجھے مارپیٹ کر کے ظلم کرتا تھا ، کھانا اور خرچى نہىں دىتا تھا ۔ جواب میں شوہر  کی طرف سے بھی اِلزاموں کی بوچھاڑ ہو گى اور اِس جنگ کا نتیجہ مَعَاذَ اللّٰہ طلاق ىا جُدائى پر ہو گا۔ بس اللہ پاک مسلمانوں پر رحم فرمائے۔  

(نگرانِ شُورىٰ نے فرمایا: )اِسلام نے میاں بیوی کے جو حقوق بیان کیے ہیں یہ وہ باتیں ہیں جو آپ کے گھر کو آباد اور  آپ کو خوشحال کرتى ہیں مثلاً شوہر نے بیوی سے کہا چائے بنا کر لادو تو زوجہ کو چاہیے کہ ہاتھوں ہاتھ بنا کر لا دے۔ اس کے بجائے اگر کسی کا کلچر کے پىچھے بھاگنے کا مِزاج  ہو گا  کہ بیوی کىوں چائے بنائے، شوہر خود چائے نہىں بنا سکتا؟ عورت کیوں اُٹھ کر پانی لا کر دے، کیا شوہر خود پانى نہىں پى سکتا ؟بیوی کیوں کپڑے نکال کر دے شوہر کیا خود یہ نہیں کرسکتا ؟ اگر بات بات پر اِس بحث مىں اُلجھیں گے جیسا کہ اِس وقت مُعاشرے  میں یہ سوچ  پھیلائی  جا رہی ہے  اگر کوئی اِن کی باتوں میں آگیا تو  گھر ٹوٹنے اور  بَرباد ہونے سے بچت کی کوئی صورت نہیں ہے ۔ ایسی سوچ رکھنے والی بیوی ذرا غور کرے کہ اگر شوہر ہی اُٹھ کر سب کچھ کر سکتا تھا تو پھر  گھر میں آپ کى ضَرورت کتنى رہے گى اور کتنى نہىں رہے گى ؟ اللہ پاک نے مَرد اور  عورت کو جس مقام اور مَرتبے پر رکھا ہے اور قدرت کا جو نِظام بنا ہوا ہے کہ گھر کے مُعاملات عورت کے سپرد ہیں اور  باہر کے مُعاملات شوہر کے سپرد ہىں اِسى کو لے کر چلنے مىں ہى ہمارى دُنىا و آخرت کى بھلائى ہے۔ اگر مَرد وعورت میں سے ہر ایک اپنے اپنے دائرۂ  کار مىں رہ کر اپنى ذِمَّہ دارىاں نبھائے گا تو اِنْ شَآءَاللّٰہ گھر اَمن کا گہوارہ  بنے گا۔  

کھانا پینا چھوڑنا آسان مگر موبائل چھوڑنا مشکل

سُوال: بعض لوگ سوشل مىڈىا پر پورى پورى رات ضائع کر دیتے ہیں اور  اس کے ساتھ غىر ضَرورى لگاؤ رکھتے ہیں تو ایسے لوگ  گھر میں اپنے بىوى بچوں کے دَرمىان رہتے ہوئے بھی دماغی طور پر وہاں  حاضِر نہیں ہوتے جس کے باعِث وہ ان کى ذِمَّہ دارىوں کو صحىح ادا نہىں کر پاتےاور اسی طرح وہ اپنے رِشتہ  داروں اور پڑوسىوں کے حقوق بھی ادا نہیں کرتے  تو یُوں وہ حقوقُاللہ اور حقوقُ العباد سے غفلت کا مُظاہرہ کرتے ہیں ۔ نیز  غىر ضَرورى سوشل مىڈىا ىا موبائل کے اِستعمال سے ذہنى اِنتشار اتنا زىادہ بڑھ جاتا ہے کہ بندہ اپنى شرعى ذِمَّہ دارىوں کى اَدائىگی بھی  نہىں کر پاتا اور جو لو گ موبائل میں گھسے  رہتے ہىں وہ موبائل کا صِرف  فُضُول اِستعمال ہی نہىں کرتے بلکہ گناہوں بھرا اِستعمال بھی  کرتے  ہىں اور موبائل کے اِستعمال کے سبب اپنی نمازىں قضا کرتے اور  جماعتىں بھی  چھوڑ دیتے   ہىں۔ ضَروری نہیں موبائل اِستعمال کرنے  والا اس کا اچھا اِستعمال ہی کرے بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہ فُضُول اِستعمال کرے اور پھر گناہوں میں جا پڑے ، بالخصوص عام نوجوان طبقہ جو عِلِم دِین  سے دُور ہے یا  جن کے گھر دِىنى ماحول نہیں ہوتا اىسے لوگ ىا تو موبائل کا  فُضُول اِستعمال کرتے ہیں ىا پھر گناہوں  کى طرف نکل جاتے ہىں لہٰذا جو لوگ موبائل کے فُضُول اور گناہوں بھرے اِستعمال کے عادى ہىں انہیں موبائل سے ہی اپنی  جان چھڑا لىنے کے حوالے سے کچھ مَدَنی پھول عطا فرما دیں تاکہ ان کی  دُنىا اور آخرت کے لیے بھلائی کا سامان ہو جائے۔ (مَدَنی مذاکرے میں شریک مفتی صاحب کا سُوال )

جواب: سب کچھ چُھوٹ سکتا ہے یہاں تک کہ  کھانا بھی  چُھوٹ سکتا ہے مگر موبائل سے جان چُھڑانا بڑا مشکل کام  ہے۔ موبائل کے زیادہ اِستعمال کو شاید موبائل فوبیا کہتے ہیں۔ اگر کسی نے اِس لیے موبائل اِستعمال کرنا چھوڑ دیا کہ میں موبائل کى وجہ سے گناہ مىں پڑ جاتا ہوں تو یہ اُس کا بہت بڑا کارنامہ ہے البتہ  جسے یہ  ظَنِّ غالب ہے کہ اگر میں  موبائل رکھوں گا تو گناہ سے  نہیں بچ سکوں گا تو اس پر موبائل چھوڑنا واجب ہو جائے گا تو ایسا شخص موبائل رکھے ہی نہیں یا پھر موبائل  کى اىسى بندشىں کر دے کہ وہ خود بھی ان بندشوں کو  نہ جانتا ہو۔ (اِس موقع پر مَدَنی مذاکرے میں شریک  مفتی صاحب نے فرمایا: )سب سے بڑى بندش ىہ ہے کہ اس کا انٹر نىٹ ہى ختم کر دے کیونکہ زیادہ تر فسا د کی چیزیں انٹر  نیٹ سے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن