30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یَاسَیِّدِیْ وَرَحمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ پھر دُرُودِ غوثیہ تین بار، الحمد شریف ایک بار ، اٰیَۃُ الْکُرْسِی ایک بار، سُورۂ اِخْلَاص سات بار، پھر’’ دُرودِ غوثیہ‘‘ سات بار ، اور وَقت فُرصت دے تو سُوْرَۂِ یٰسٓ اور سورۂ مُلک بھی پڑھ کراللہ عَزَّ وَجَلَّسے دُعا کرے کہ الٰہی !اِس قِرائَ ت پر مجھے اِتنا ثواب دے جو تیرے کرم کے قابِل ہے، نہ اُتنا جو میرے عمل کے قابل ہے او راسے میری طرف سے اِس بندۂ مقبول کو نَذْر پہنچا۔ پھر اپنا جو مطلب جائز شرعی ہو ا س کے لیے دُعا کرے اورصاحبِ مزار کی رُوح کواللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں اپنا وسیلہ قراردے، پھر اُسی طرح سلام کر کے واپَس آئے۔ (فتاوٰی رضویہ مُخَرّجَہ ج ۹ ص ۵۲۲ ) دُرودِ غوثیہ یہ ہے :
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَ مَوْلَا نَا مُحَمَّدٍ مَّعْدِنِ الْجُوْدِ وَالْکَرَمِ وَاٰلِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ۔ (مَدَنی پنج سورہ ص۲۶۰)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مزاراتِ اولیاء پرنِیاز تقسیم کر کے بھی صاحبِ مزار کو ایصالِ ثواب کیاجاسکتا ہے ، یقینا اللہ عَزَّوَجَلَّکی رضاحاصل کرنے کے لئے نیاز وغیرہ تقسیم کرنے کی بڑی فضیلت ہے ، چنانچہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفتاویٰ رضویہ جلد24صفحہ 521پر لکھتے ہیں : کھاناکھلانا لنگر بانٹنا بھی مندوب(یعنی اچھاعمل) وباعثِ اَجرہے، حدیث میں ہے : رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں : اِنَّ اللہَ عَزَّوَجَلَّ یُبَاھِی مَلٰئِکَتَہٗ بِالَّذِیْنَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ مِنْ عَبِیْدِہٖ یعنی اللہتعالیٰ اپنے اُن بندوں کے ساتھ جو لوگوں کوکھانا کھلاتے ہیں فرشتوں پر ُمباہات(یعنی فخر) فرماتاہے۔
( الترغیب والترھیب ، ج۲، ص۳۸، الحدیث۲۲ ) (فتاوی رضویہ، ج۲۴، ص۵۲۱)
لیکن لنگر تقسیم کرتے ہوئے اس بات کا خیال ضرور رکھئے کہ کسی طرح بھی لنگر کی بے حُرمتی نہ ہو ، نہ پاؤں میں آئے، نہ مزار شریف کا فرش آلودہ ہو ، دھکم پیل سے بچنے کے لئے اسلامی بھائیوں کو بٹھا کر یا قطار بنا کر لنگر تقسیم کیا جائے ، آنے والے زائرین کے حقوق کا خیال رکھا جائے کہ لنگر تقسیم کرنے کی وجہ سے ان کو حاضری دینے میں کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے اور خاص طور پر مزار شریف کی تعظیم کا مکمل اہتمام کیا جائے، ایسا نہ ہو کہ ایک طرف لنگر توتقسیم کرکے اجروثواب کے مُسْتَحِق بنیں اور دوسری طرف مزار شریف کی بے ادبی کے مُرتکِب ہو جائیں ۔ کھانے کی نیاز کے ساتھ ساتھ مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کُتُب ورسائل کا ’’ لنگرِ رسائل‘‘ کرکے بھی بے شمار ثوابِ جاریہ صاحبِ مزار کی خدمت میں پیش کیا جاسکتا ہے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۷) داتا صاحب کو ایصالِ ثواب کی برکت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِین کو ایصالِ ثواب کرنا ہدایت کا ذَرِیعہ بھی بن سکتا ہے ، چنانچِہ کورنگی (باب المدینہ کراچی)میں مُقِیم اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے : غالباً 1992 ء کی بات ہے ، ہم اُن دنوں گلستانِ جوہر(بابُ المدینہ ) میں رہتے تھے۔چھوٹی سی عمر میں T.V. پر فلمیں ڈرامے دیکھنے کے منحوس شوق نے مجھے ناچنے کا شوقین بنادیا یہاں تک کہ میں نے ڈانس کے مقابلوں میں بھی حصّہ لیا اور اِنعامات بھی حاصِل کئے۔ جب میری تصویریں اخبارات میں چھپیں تو خاندان میں خوب پذیرائی ملی، میں ’’ پھول کر کُپّا‘‘ ہو گیا اور ڈانس سیکھنے کی اکیڈمی کے اندر داخِلہ لے لیا اور اس منحوس فن میں اتنی مَہارت حاصِل کی کہ’’ ڈانس ڈائریکٹر‘‘ (یعنی ڈانس سکھانے والا) بن گیا۔ میں نے فرانس ، تھائی لینڈ وغیرہ کا سفر کیا اور ہند سے’’کلاسیکل کَتَھک ڈانس ‘‘ بھی سیکھا۔اب میں ایسے مقام پر پہنچ چکا تھا کہ مشہور اداکارائیں اور اداکار مجھ سے ڈانس سیکھا کرتے تھے۔اِس بے حیائی کے ماحول میں مجھے ایسی جوان لڑکیاں بھی ملیں جو اچّھے سے اچّھا ڈانس سیکھنے کے لالچ میں ’’کچھ بھی ‘‘کرنے کو تیّار تھیں۔ اسی دَوران میری والِدَہ کا انتِقال بھی ہوامگر میری آنکھیں نہ کھلیں ۔لیکن والِدَہ کی ہدایت کی بدولت دُرودِ پاک سے مَحَبَّت تھی۔ غالِباً اپریل 2005 ء میں ایک ڈانس پروگرام کے سلسلے میں مرکزالاولیاء لاہور جانا ہوا، حُضُور داتا گنج بخش رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کے مزارِ پُر انوار کے سامنے سے گزرتے ہوئے میں نے انہیں دُرودِ پاک پڑھ کر ایصالِ ثواب کیا ۔ناچ ناچ کر تھک ہار کر جب سویا توخواب کے اندر کیادیکھتا ہوں کہ میرے مرحوم والِدَین بھڑکتی آگ کے گھیرے میں ہیں اور مجھے دیکھ کر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع