30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭ قَبْرکو سجدۂ تعظیمی کرناحرام ہے اور اگر عبادت کی نیِّت ہو تو کُفْر ہے۔ (ماخوذ از فتاوٰی رضویہ ج ۲۲ص۴۲۳)
٭ کبھی کبھی ماں باپ کی قبروں کی زیارت کے لئے بھی جایاکریں ۔ ان کے مزاروں پر فاتحہ پڑھیں ۔ سلام کریں اور ان کے لئے دعائے مغفرت کریں اس سے ماں باپ کی اَرواح کو خوشی ہوگی اور فاتحہ کا ثواب فرشتے نور کی تھالیوں میں رکھ کر ان کے سامنے پیش کریں گے اور ماں باپ خوش ہو کر اپنے بیٹے بیٹیوں کو دعائیں دیں گے۔ (جنتی زیور ص۹۴)
٭ شَعبان الْمُعَظَّم کی پندرھویں رات جس کو شب ِبرأت کہتے ہیں بہت مبارک رات ہے۔ اس رات میں قبر ستان جانا، وہاں فاتحہ پڑھنا سنت ہے ، اسی طر ح بزرگان دین کے مزارات پر حاضِر ہونا بھی ثواب ہے۔ (اسلامی زندگی، ص۱۳۳، ملخصاً)
٭ اِسلامی بہنیں مزارات پر نہ جائیں بلکہ گھر سے ہی ایصالِ ثواب کردیا کریں ۔ہاں ! روضۂ رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی حاضر ی کے لئے جاسکتی
ہیں ۔ صدرُ الشَّریعہ بدرُ الطَّریقہ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : او ر اسلم (یعنی سلامتی کا راستہ )یہ ہے کہ عورتیں مُطلَقاً منع کی جائیں کہ اپنوں کی قُبُور کی زیارت میں تو وُہی جَزَع وفَزَع (یعنی رونا پیٹنا) ہے اور صالحین ( رَحِمَہُمُ اللہُ المبین) کی قُبُور پر یا تعظیم میں حد سے گزر جائیں گی یا بے ادَبی کریں گی تو عورَتوں میں یہ دونوں باتیں کثرت سے پائی جاتی ہیں ۔ (بہارِ شریعت جلد اوّل حصہ ۴ ص ۸۴۹مکتبۃ المدینہ)
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے عورَتوں کو مزارات پر جانے کی جابجا مُمانَعت فرمائی، چُنانچِہ ایک مقام پر فرماتے ہیں : امام قاضی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی سے اِستِفْتاء (سُوال ) ہوا کہ عورَتوں کا مَقَابِرکو جانا جائز ہے یانہیں ؟ فرمایا : ایسی جگہ جواز وعَدَمِ جواز( یعنی جائز و ناجائز کا) نہیں پوچھتے ، یہ پوچھو کہ اس میں عورت پر کتنی لعنت پڑتی ہے؟ جب گھر سے قُبُور کی طرف چلنے کا ارادہ کرتی ہےاللہ (عَزَّوَجَلَّ) اورفِرشتوں کی لعنت ہوتی ہے جب گھر سے باہَر نکلتی ہے سب طَرفوں سے شیطان اسے گھیر لیتے ہیں ، جب قبر تک پہونچتی ہے میِّت کی روح اُس پر لعنت کرتی ہے جب تک واپَس آتی ہی اللہ عَزَّوَجَلَّکی لعنت میں ہوتی ہے۔
(فتاوٰی رضویہ ج۹ ص۵۵۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۱۵) مفتیِٔ دعوتِ اسلامی کی جب قبر کُھلی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہئے، ہرماہ کم از کم تین دن کیلئے مَدَنی قافِلے میں سفر کرتے رہئے اور فکرِ مدینہ کے ذَرِیعے روزانہ مَدَنی انعامات کا رسالہ پُر کر کے ہر مَدَنی ماہ کی ابتِدائی دس تاریخوں کے اندر اندر اپنے ذمے دار کو جمع کرواتے رہئے۔آیئے ترغیب و تحریص کیلئے آپ کو ایک مَدَنی بہار سناؤں : شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہہ اپنی کتاب’’غیبت کی تباہ کاریاں ‘‘ صفحہ466پر لکھتے ہیں : تبلیغِ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کی’’ مرکزی مجلسِ شوریٰ ‘‘کے رُکن مُفْتِی ٔ دعوتِ اِسلامی الحاج اَلحافِظ اَلقاری حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد فاروق العطاری المدنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیکے بارے میں میراحُسنِ ظن ہے کہ وہ دعوتِ اسلامی کے مخلِص مبلِّغ اور اللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرنے والے بزرگ تھے اورگویا اس حدیث ِ پاک کے مصداق تھے : ’’ کُنْ فِی الدُّنْیَا کَاَنَّکَ غَرِیْبٌ یعنی دنیا میں اس طرح رہو کہ گویا تم مسافر
ہو ۔‘‘(صحیح البخاری ج۴ ص۲۲۳ حدیث۶۴۱۶)
۱۸محرم الحرام۱۴۲۷ھ بمطابق 17- 2-2006 بروز جُمُعَہ نَمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعداپنی قِیام گاہ (واقِع گلشنِ اقبال، بابُ المدینہ کراچی )میں اچانک حَرَکتِ قلب بند ہونے کے سبب بَعُمر تقریباً 30 برس جوانی کے عالم میں انتقال فرماگئے تھے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو صحرائے مدینہ ، باب المدینہ کراچی میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع