30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حکایت سے ہمیں یہ درس ملا کہ فیض پانے کیلئے تڑپ سچی اور اِعتِقاد پکّا ہونا چاہئے ، ڈِھلمِل یقین( یعنی کچّے یقین )والا نہ ہو، مَثَلاً سوچتا ہو کہ فُلاں بُزُرگ سے یا فُلاں ولیُّ اللہ کے مزار پر حاضِری دینے سے نہ جانے فائدہ ہو گا یا نہیں ہو گا وغیرہ۔ ایسا شخص فیض نہیں پا سکتا ۔ نیز فیض ملنے میں وقت کی کوئی قید نہیں ہو گی اپنا اپنا مقدَّر ہو تا ہے کسی کو فور اًفیض مل جاتا ہے کسی کا برسوں تک کام نہیں ہوتا۔ کام ہو یا نہ ہو ’’یَک دَر گِیرو مُحکَم گِیر یعنی ایک دروازہ پکڑ اور مضبوطی کے ساتھ پکڑ‘‘ کے مِصداق پڑے رَہنا چاہئے۔
کوئی آیا پا کے چلا گیا کوئی عُمربھر بھی نہ پا سکا
مِرے مولیٰ تجھ سے گِلہ نہیں یہ تو اپنا اپنا نصیب ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۱۰) گلاب کے پھول
اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولاناشاہ امام اَحمد رضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں : ایک جگہ کوئی قَبْرکھل گئی اور مُردہ نظر آنے لگا ، دیکھا کہ گلاب کی دو شاخیں اُس کے بد ن سے لپٹی ہیں اور گلاب کے دو پھول اُس کے نَتھنو ں (یعنی ناک کے دونوں سوراخوں )پر رکھے ہیں ۔ اس کے عزیزوں نے اِس خیال سے کہ یہاں قَبْر پانی کے صدمے سے کُھل گئی، دو سری جگہقَبْر کھود کر(مرحوم کی لاش کو) اُس میں رکھا، اب جو دیکھا تو دو اَژدَہے (یعنی دو بَہُت بڑے سانپ) اُس کے بدن سے لپٹے اپنے پھَنوں سے اُس کا منہ بَھمبَھوڑ (یعنی نوچ) رہے ہیں ! حیران ہوئے ۔ کسی صاحِبِ دل سے یہ واقِعہ بیان کیا ، اُنہوں نے فرمایا : وہاں بھی یہ اَژدَھے ہی تھے مگر ایک ولیُّ اللہ کے مزار کا قُرب تھا ، اُس کی بَرَکت سے وہ عذاب رَحمت ہوگیا تھا، وہ اَژدَھے دَرَخت ِگُل کی شکل ہوگئے تھے اوران کے پھَن گلاب کے پھول۔ اِس(یعنی مرحوم) کی خیریت چاہو تو وَہیں لے جاکر دفن کرو ۔ وَہیں لے جاکر رکھا پھروُہی درختِ گل تھے اور وُہی گلاب کے پھول ۔(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ص۲۷۰مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کسی کی زمین پر زبردستی قبضہ نہ ہواورحقوقِ عامہ تلف کئے بغیر حتی المقدور اپنے مُردوں کو مزارات اولیاء کے قریب دفن کرنا چاہئے ، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اولیاء کرام کی برکتیں نصیب ہوں گی ۔میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولاناشاہ امام اَحمد رضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں : اپنے مُردو ں کو بُزُرگو ں کے پاس دَفن کرو کہ اِن کی بَرَکَت کے سبب اُن پر عذاب نہیں کیا جاتا ۔ ھُمُ الْقَوْمُ لاَیَشْقٰی بِھِمْ جَلِیْسُھُم۔
(یعنی)یہ ایسی قوم ہے جس کا ہم نشین(یعنی صحبت میں رہنے والا ) بھی محروم نہیں رہتا ۔ ولہٰذا حدیث میں فرمایا :
اَدْفِنُوْا مَوْتَاکُمْ وَسْطَ قَوْمِ الصّٰلِحِیْن
(یعنی ) اپنے مُردوں کو نیکوں کے درمیان دفن کرو۔ (اَلْفِرْدَوْس بمأثور الخطابج۱ ص۱۰۲ حدیث۳۳۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۱۱) قرض معاف ہوگیا
حضرت سیدنا حمیدی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : مجھ پر قرض تھا ، اسی پریشانی کے عالَم میں حضرت سیدنا محمد بن جعفر حسینی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کے مزار شریف پر حاضر ہوا۔ میں نے قرآن پاک کے کچھ حصے کی تلاوت کی اور رو دیا، ایک زائر (یعنی مزار کی زیارت کے لئے آنے والے)نے میرا رونا سن لیا اور مجھے کچھ سونا دیا اورکہا : اس صاحب ِ مزار کی خاطر یہ سونا لے لو۔ میں نے وہ سونا لیا اور چل دیا، ابھی چند ہی قدم چلا تھا کہ میرا قرض خواہ آگیا، مجھے دیکھ کر مسکرایا اور کہا : یہ سونا اُس زائر کو واپس کردیں کیونکہ میں اَجرو ثواب کا اُس کی نسبت زیادہ حق دار ہوں ۔ میں نے قرض خواہ سے اِس معافی کا سبب دریافت کیا کہ آپ کو میرا خیال کس نے بتایا ہے؟ وہ کہنے لگا : ’’ میں نے اس قبر والے بزرگ کو خواب میں دیکھا، انہوں نے مجھے کہا ہے کہ اگر تو حمیدی سے دَر گزر کرے گا تو میں تجھے جنت میں محل دلاؤں گا۔‘‘ اس نے نہ صرف میرا قرض معاف کردیا بلکہ مجھے مزید چھ درہم بھی دے دیئے۔ حضرت سیدنا علامہ سَخاوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : یہ تجربہ ہے کہ حضرت سیدنا محمد بن جعفر حسینی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کے مزار پر دُعا قبول ہوتی ہے۔ یہ قبرمصر میں سیِّدہ نفیسہ (بنت حسن بن زید بن حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم)کے مزار کے مغرب میں واقع ہے اور اس پر قُبہ بنا ہوا ہے۔ (جامع کرامات اولیاء، ج۱، ص۱۷۲)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع