30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تھے ۔اب معلو م ہوا کہ یہ مولیٰ عَزَّوَجَلَّ کا کرم اور حضرتِ سلطانُ الْاَ ولیاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی کرامت اور اس بندۂ ناچیز پر رَحْمت و مَعُونَت ہے ۔ شکر بجا لایا اور حاضِر مُواجَہَۂ عالِیہ ہوکر مشغول رہا ۔ کوئی آواز نہ سنائی دی ،جب باہَر آیا پھر وُہی حال تھا کہ خانقاہِ اقدس کے باہَر قِیام گاہ تک پہنچنا دشوار ہوا ۔ فقیر نے یہ اپنے اوپرگُزری ہوئی گزارِش کی ،کہ اوّل تو وہ نعمتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ تھی اوَر رب ذوالجلال فرماتاہے: وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠(۱۱)
’’ اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں کو لوگوں سے خوب بیان کر ۔‘‘ مَع ھٰذا اِس میں غُلامانِ اولیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تعالٰی کیلئے بِشارت اور مُنکِروں پر بَلا و حسرت ہے۔ الہٰی!عَزَّوَجَلَّ صَدَقہ اپنے محبوبوں (رِضْوانُ اللّٰہِ تعالیٰ علیھم اَجمعین ) کاہمیں دنیا و آخِرت و قَبْر و حَشْر میں اپنے محبوبوں عَلَیہِمُ الرِّضْوَان کے بَرَکاتِ بے پایاں سے بَہرہ مند فرما۔ (اَحْسَنُ الْوِعَاء لِاٰدَابِ الدُّعاء ص ۱۴۰)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔
اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ حِکایت’’ بائیس خواجہ کی چَوکھٹ دِہلی شریف‘‘ کی ہے ۔اِس میں تاجدارِ دِہلی حضرت سیِّدُنا خواجہ محبوبِ الہٰی نظام ُالدّین اولیا ءرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی نُمایا ں کرامت ہے۔اِس حِکایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ باِلفرض اگر مزاراتِ اولیاء پر جُہَلاء غیر شَرْعی حَرَکات کررہے ہوں اور ان کو روکنے کی قُدرت نہ ہو تب بھی اپنے آپ کو اَہلُ اللّٰہ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تعالٰی کے درباروں کی حاضِری سے محروم نہ کرے۔ ہاں مگر یہ واجِب ہے کہ اُن خُرافات کو دل سے بُرا جانے اور اِن میں شامل ہونے سے بچے۔ بلکہ اُن کی طرف دیکھنے سے بھی خود کو بچائے۔ (فیضانِ بسم اللہ، ص۸)
عُرْس میں ناجائز کام ہوں تو صاحبِ مزار کو تکلیف ہوتی ہے
اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمنکی خدمت میں عرض کی گئی : حُضُوْر! بزرگانِ دِین کے اَعْرَاس میں جو اَفعال ناجائِز ہوتے ہیں ان سے ان حضرات کو تکلیف ہوتی ہے؟تو ارشاد فرمایا : بِلَاشُبہ اور یہی وجہ ہے کہ اِن حضرات نے بھی تَوَجُّہ کم فرمادی ورنہ پہلے جس قَدَرفُیُوض ہوتے تھے وہ اب کہاں ! (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ، ص۳۸۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 26 صفحات پر مشتمل رسالے ’’خوفناک جادوگر ‘‘کے صفحہ 19پرشیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہہ لکھتے ہیں : ایک بار اَورنگ زَیب عالمگیر علیہ رَحْمَۃُ اللہ القدیر سلسلۂ عالیہ چِشتیہ کے عظیم پیشوا خواجۂ خواجگان، سلطانُ الھند حضرت سیِّدُنا خواجہ غریب نواز حسن سَنْجَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیکے مزارِ پُراَنوار پر حاضر ہوئے۔ اِحاطہ میں ایک اندھا فقیر بیٹھا صدا لگارہا تھا : یا خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ! آنکھیں دے۔آپ نے اس فقیر سے دریافت کیا : بابا!کتنا عرصہ ہوا آنکھیں مانگتے ہوئے؟ بولا : برسوں گزر گئے مگر مراد پوری ہی نہیں ہوتی۔ فرمایا : میں مزارِ پاک پر حاضِری دے کر تھوڑی دیر میں واپَس آتا ہوں اگر آنکھیں روشن ہوگئیں فَبِہا (یعنی بَہُت خوب) ورنہ قتل کروا دوں گا۔ یہ کہہ کر فقیر پر پہرالگا کر بادشاہ حاضِری کے لئے اندر چلے گئے۔ اُدھر فقیر پر گِریہ طاری تھا اور رو رو کر فریاد کررہا تھا : یا خواجہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ! پہلے صرف آنکھوں کا مسئلہ تھا اب تو جان پر بن گئی ہے، اگر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے کرم نہ فرمایا تو مارا جاؤں گا۔ جب بادشاہ حاضری دے کر لوٹے تو اُس کی آنکھیں روشن ہوچکی تھیں ۔ بادشاہ نے مسکرا کر فرمایا : تم اب تک بے دِلی اور بے توجُّہی سے مانگ رہے تھے اور اب جان کے خوف سے تم نے دل کی تڑپ کے ساتھ سوال کیا تو تمہاری مُراد پوری ہوگئی۔ (خوفناک جادوگر، ص۱۹)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع