30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرتِ علّامہ عَبدُ الرَّءُوْف مُناوی رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں: امام غزالی رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہاں ہنسانے والی بات سے مراد ایسی بات ہے جس میں غیبت، ایذائے مُسْلِم(یعنی مسلمان کو تکلیف دینے)(یا کوئی گناہ) کا پہلو پایا جائے ورنہ محض مِزاح والی بات پر یہ وعید نہیں ہے۔ (فیض القدیر،2/425،تحت الحدیث:1984)
کامیڈین مُتَوجّہ ہوں!
”مرآت‘‘جلد6،صفحہ463پر ہے:اِس فرمانِ عالی سے آج کل کے مَسْخَرے (یعنی کامیڈین) وغیرہ عِبرت پکڑیں جو لوگوں کو ہنسا کر گزارہ کرتے ہیں، جن کی کمائی لوگوں کی ہنسائی ہے۔ اِس حصۂ حدیث:’’زَبان کی وجہ سے جتنی لَغْزِش.....‘‘کے تحت ہے: ’’پاؤں کی پِھسْلَن سے زَبان کی لغزش (یعنی پِھسْلَن) زیادہ خطرناک ہے کہ پاؤں کی لَغْزِش
(یعنی پِھسْلَن) سے بدن چوٹ کھاتا ہے مگر زَبان کی لَغْزِش(یعنی پِھسْلَن) سے دل، جان ،ایمان زخمی ہوتا ہے۔ زَبان کی لغزش(یعنی پِھسَلْنے) سے ہی قتل و خون ہوتے ہیں، زَبان ہی کی لَغْزِش سے انسان کا فرو بے دین ہوجاتا ہے، اِبلیس (یعنی شیطان) اپنی زَبان کی لَغْزِش کی سزا اب تک پارہا ہے۔“
کامیڈی شو کا مسئلہ
کامیڈین کا مذاق مَسْخَری کاشو (SHOW)مجموعی طور پر ناجائز ہے کہ اس میں دیگر لوگوں کا مذاق اُڑانا یا دیکھنے والوں کو مذاق اُڑانے کی تعلیم اور کئی لوگوں کی دل آزاری پائی جاتی ہے، یونہی فُحْش (یعنی بے حیائی والی حرکتوں) کا استعِمال بھی اشارے کِنائے میں موجود ہوتا ہے، فکس (FIX) افراد کی غِیْبَت یا ان کی مَجبوریوں کا مذاق اڑانا بھی عام ہوتا ہے،جو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع