30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان کی رغبت کم نہ ہوجائے---اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔(1)
قرآنی آیات ،احادیث طیّبات،فقہی جزئیات اور ان اقتباسات سے بالکل واضح ہے کہ فی زمانہ جنازے کے ساتھ بلند آواز سے ذکر ونعت پڑھنا جائز ہی نہیں بلکہ مستحب و مستحسن عمل ہے۔مزید تفصیل و تحقیق کے لئے سلطان المحققین اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ علیہ کی معرکۃ الآراء تصنیف فتاوی رضویہ کی جلد 9 کے صفحہ 140تا 158 کا مطالعہ فرمائیں۔
جنازے کی وجہ سے اٹھنا یابیٹھنا
سوال:اگر کسی جگہ سے جنازہ گزرے تو اسے دیکھ کر اٹھنا کیسا ہے؟
جواب: کسی جگہ بیٹھے ہوں اور وہاں سے جنازہ گزرےتو کھڑا ہونا ضروری نہیں، اورکھڑے ہونے کے متعلق روایت میں جوحکم آیاہے ،وہ منسوخ ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پہلے کھڑے ہوتے تھے لیکن بعدمیں اسے ترک فرمادیا۔ ہاں جو شخص ساتھ جانا چاہتا ہے، وہ اٹھے اور جنازے کے ساتھ شامل ہو جائے۔درمختارمیں ہے:
( ولا يقوم من في المصلى لها اذا رآها ) قبل وضعها ولا من مرت عليه هو المختاروما ورد فيه منسوخ زيلعي ترجمہ:اورجوجنازگاہ میں ہے وہ جنازہ دیکھ کراسے رکھے جانے سے پہلے،اس کے لیے کھڑانہ ہواورنہ وہ جس کے پاس سے جنازہ گزرا،یہی مختارہے۔اورجوکھڑے ہونے کے متعلق روایت آئی ہے ،وہ منسوخ ہے ۔یہ علامہ زیلعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایاہے ۔
اس کے تحت ردالمحتارمیں ہے:
[1] … فتاوی رضویہ،9/142۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع