30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ ترجمہ:جویہ دعا کسی پرچہ پر لکھ کر میت کے سینہ و کفن کے نیچے رکھ دے اسے قبر کا عذاب نہ ہو گا اور نہ منکر نکیر نظر آئیں اور وہ دعا یہ ہے:
لَا اِلٰہَ الَّا اللہ وَاللہ اکبر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ ۔(1)
کفن میں عمامہ
سوال: میت کے کفن میں عمامے کو شامل کرنا کیسا؟
جواب: علماء و مشائخ و اشراف(سید صاحبان) حضرات کے لئے متأخرین علما نے مستحسن یعنی اچھا قرار دیا۔اور اگرمیت علما و مشائخ و اشراف حضرات سے نہیں ہے تو اسے عمامہ نہ پہنایا جائے ۔
درمختار میں علامہ حصکفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
واستحسنها المتاخرون للعلماء والاشراف ولا باس بالزیادة علی الثلاثة ویحسن الکفن لحدیث حسنوا اکفان الموتی فانهم یتزاورون فیما بینهم یتفاخرون بحسن اکفانهم (2) ترجمہ: علما اور اشراف کو مرنے کے بعد عمامہ باندھنا متاخرین نے مستحسن قرار دیا ہے اور تین کپڑوں سے زیادہ میں کفن دینے میں کوئی حرج نہیں اور کفن اچھا دینا چاہئے کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ مردوں کوبہترین کفن دیا کرو کہ وہ باہم ملتے ہوئے اچھے کفن پر فخر کرتے ہیں۔
[1] … فتاوی رضویہ،9/108۔
[2] … درمختار،كتاب الجنائز،3/112۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع