30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تجہیز وتکفین میں اتباع سنّت کی ہدایت،اور ورثا پر لازم ہے کہ اس پر عمل کریں اور سب سے پہلے خود اپنی اصلاح، گناہوں سے توبہ، اﷲ پاک اور رسول اللہ کی طرف رجوع، موت کا خوشی کے ساتھ انتظار کرنا کہ آتے وقت ناگواری نہ ہو،اس وقت ناگواری معاذاﷲ بہت سخت ہے، اس میں برے خاتمہ کاخوف ہے۔نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:
مَنْ اَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ اَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ
یعنی جو اﷲ سے ملنا پسند کرے گا اﷲ اس سے ملنا پسند فرمائے گا اورجو اللہ سے ملنے کو مکروہ رکھے گا اﷲ اس سے ملنا مکروہ رکھے گا۔صحابہ کرام نے عرض کی :یارسول اﷲ !ہم میں کون ایسا ہے کہ موت کو مکروہ نہ رکھے گا؟فرمایا:’’یہ مراد نہیں بلکہ جس وقت دم سینہ پر آئے اُس وقت کا اعتبار ہے اُس وقت جو اﷲ سے ملنے کو پسند کرے گا اﷲ تعالیٰ اس سے ملنے کو دوست رکھے گا اور ناپسند تو ناپسند۔
اپنے ذمہ نماز یا روزہ یا زکوٰۃ جوکچھ باقی ہو فوراً بقدرِ قدرت اس کی ادا میں مشغول ہو حج نہ کیا ہو اور فرض تھا تو دیر نہ لگائے۔ بوجہ مرض طاقت نہ رہی توحج بدل کرادے اگر اخیر دم تک طاقت نہ پائے گا ادا ہوجائے گا، ورنہ جب قوت پائے خود ادا کرے،حقوق العباد جس قدر ہوں جو ادا کرنے کے ہیں ادا کرے،جو معافی چاہنے کے ہیں معافی چاہے اوراس میں اصلاً تاخیر کو کام میں نہ لائے کہ یہ شہادت سے بھی معاف نہیں ہوتے، معافی چاہنے میں کتنی ہی تواضع کرنی پڑے اُس میں اپنی کسرِ شان نہ سمجھے اس میں ذلت نہیں ذلت اس میں ہے کہ جس روز بارگاہِ عزّت میں حاضر ہو،اس طور پر کہ ،اُس کا حق د بایا ہے، اُسے بُرا کہا ہے، اُس کی غیبت کی ہے، اسے مارا ہے، اور وہ حقدار اس سے لپٹیں، اُس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع