سوال:کیا جَل کر مَرنے والا شخص بھی شہید ہے؟
جواب:جی ہاں !جَل کر مَرنے والا شخص بھی شہید ہے۔( )
سوال:اگر کوئی شخص گندم، جَو، آٹا، کھجور اور کشمش میں سے ہر ایک سے الگ الگ صَدقۂ فطر دینا چاہے تو کیا ایسا کرنا دُرُست ہے؟
جواب:اگر کوئی شخص گندم، جَو، آٹا، کھجور اور کشمش ان میں سے ہر ایک کے ذَریعے الگ الگ صَدقۂ فطر دینا چاہتا ہے تو دے سکتا ہے اِس میں کوئی حرج نہیں ہے،صَدقۂ فطر ایک سے ادا ہو جائے گا اور باقی نفل ہو جائیں گے۔ بندے کو چاہیے کہ اللہ پاک کی راہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرے،جتنا گُڑ ڈالیں گے اُتنا ہی میٹھا ہو گا۔اگر کسی کو اللہ پاک نے اتنا مال دیا ہے کہ سب سے قیمتی اور مہنگی کھجور عجوہ سے بھی صَدقۂ فطر دے سکتا ہے تو ضَرور دینا چاہیے ۔اہلِ مدینہ اور اہلِ حرم عجوہ کھجور سے بآسانی صَدقۂ فطر ادا کر سکتے ہیں کہ وہاں یہ کھجور پائی جاتی ہے۔اِنسان جس طرح اپنی دُنیا سنوارتا ہے مثلاً گھر میں صوفے، پلنگ اور نجانے کیا کیا سجاوٹیں کرتا رہتا ہے اسی طرح اگر دِینی مدارس اور مَساجد میں رَقم دے گا تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ اس کی بَرکت سے اَعمال میں عمدگی آئے گی ،ساتھ ہی آخرت کی تیاری بھی ہوتی رہے گی اور قبر کے مُعاملات بھی آسان ہو جائیں گے۔بے شک اللہ پاک کی راہ میں دیا ہوا مال آخرت میں بہت فائدہ دے گا۔
سوال:صَدقۂ فطر کی رَقم کتنی ہے؟ ( )
جواب:1441سنِ ہجری بمطابق 2020 کے رَمضانُ المبارک میں پاکستان کی کرنسی کے مُطابق ایک صَدقۂ فطر کی رَقم مندرجہ ذیل ہے:
گندم کا آٹا دَرمیانی کوالٹی 100 روپے گندم کا آٹا اعلیٰ کوالٹی 125 روپے
جَو دَرمیانی کوالٹی 320 روپے جَو اعلیٰ کوالٹی 400 روپے
کھجور دَرمیانی کوالٹی 1200 روپے کھجور اعلیٰ کوالٹی 2000 روپے
کشمش دَرمیانی کوالٹی 1900 روپے کشمش اعلیٰ کوالٹی 2400 روپے
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کا یومِ عرس 25 صفر المظفر ہے۔( )اِس مناسبت سے اگر کوئی اپنی طرف سے 2500 کا بھی فطرہ دینا چاہے تو بالکل دے سکتا ہے۔دُنیا میں کئی ایسے لوگ ہیں جن کے لیے 2500 کی رَقم کچھ معنیٰ نہیں رکھتی۔ رَمَضان ُالمبارک اور عیدُ الفطر سال میں ایک بار ہی آتے ہیں اور صَدقۂ فطر بھی ایک ہی بار دینا ہوتا ہے۔
سوال:اگر کسی کے والدین ایسی عمر کو پہنچ گئے ہیں کہ روزہ نہیں رکھ سکتے تو ایسی صورت میں شَرعاً کیا حکم ہو گا؟
جواب:اگر کسی کے والدین ایسی عمر کو پہنچ گئے ہیں کہ روزہ نہیں رکھ سکتے ( ) تو ایسی صورت میں روزوں کا فدیہ دینا ہو گا، ایک روزے کا فدیہ ایک صَدقۂ فطر کی رَقم بنے گی۔ 1441 ہجری بمطابق 2020 میں اگر گندم کے اِعتبار سے کوئی فدیہ دینا چاہتا ہے تو ایک روزے کا فدیہ دَرمیانی کوالٹی کے حساب سے 100 روپے اور اعلیٰ کوالٹی کے حساب سے 125 روپے ہو گا۔یوں دَرمیانی کوالٹی کے حساب سے 30 روزوں کا فدیہ 3000 روپے بنے گا۔ہاں اگر کوئی ایسا شخص ہے کہ عمر 100 سال ہونے کے باوجود اتنی طاقت رکھتا ہے کہ روزہ رکھ لے گا تو اب فدیہ دینے سے گزارا نہیں ہو گا بلکہ روزہ رکھنا فرض ہو گا،اگر چہ روزوں کا فدیہ دے دیا ہو وہ سب نفل ہو جائے گا۔( ) یاد رہے فدیے کا جو مسئلہ بیان ہوا ہے یہ بوڑھے اَفراد کے لیے ہے،ان نوجوان اَفراد کے لیے نہیں ہے جو بیمار ہیں یا ڈاکٹر نے ان کی بیماری کو لا علاج کہہ دیا ہے،ان پر تو روزہ رکھنا ہی فرض ہے۔حدیثِ پاک میں ہے:اللہ پاک نے جو بیماری اُتاری ہے ساتھ ہی اس کا علاج بھی اُتارا ہے۔( )ڈاکٹر کسی خاص بیماری کے علاج کو دَریافت نہ کر سکے ہوں تو یہ الگ بات ہے۔ڈاکٹر صاحب کو بھی چاہیے کہ کسی بھی بیماری کو لاعلاج نہ بتائے بلکہ محتاط جملہ کہہ دیا کرے کہ ہماری ڈاکٹری میں اس کا علاج ابھی تک دَریافت نہیں ہوا۔
سوال:شوال المکرم کے نفل روزے اور منَّت مانے ہوئے روزے کیا ایک ہی نیّت سے رکھے جا سکتے ہیں؟
جواب:اگر کسی نے ویسے ہی دِل میں منَّت مانی ہے کہ میرا فلاں کام ہو جائے تو اتنے دِن روزے رکھوں گا تو یہ شرعاً منَّت نہیں کہلائے گی۔منَّت میں یہ شرط ہوتی ہے کہ اللہ کے لیے کی جائے اور کہنے والا اتنی آواز سے کہے کہ خود اس کے کان سُن لیں اور جس چیز کی منَّت مانی ہے اس کی مثل کوئی عبادت واجب ہوتی ہو تو یہ شَرعاً منَّت کہلائے گی۔( )رَمضان المبارک کے روزے فرض ہیں اور نفل روزہ اس کی مثل ہے تو یہ واجب ہو جائے گا مثلاً اگر کسی شخص نے یہ منَّت مانی کہ ’’اگر میرا بیٹا تندرست ہو جائے تو اللہ پاک کے لیے میں 12 روزے رکھوں گا ‘‘اب یہ جملہ اتنی آواز میں کہا کہ خود سُن لیا، بالفرض اگر کہنے والا خود بہرا ہے یا اس کے آس پاس اتنا شور ہے کہ اسے اپنی آواز سنائی نہیں دی لیکن اگر یہ مَوانع موجود نہ ہوتے تو آواز سُن لیتا تو منَّت ہو جائے گی اور اسے پورا کرنا واجب ہو جائے گا۔ایسی منَّت ِ واجبہ کے روزے الگ رکھنے ہوں گے اسے نفل روزوں کے ساتھ نہیں رکھا جائے گا۔
حدیثِ پاک میں ہے:جس نے رَمَضان ُالمبارک کے مکمل روزے رکھے اور شوالُ المکرم کے مہینے میں بھی چھ روزے رکھے تو گویا اس نے پورا سال روزے رکھے۔( )ایک اور رِوایت میں ہے کہ جس نے رَمَضان ُالمبارک کے روزے رکھے اور شوالُ المکرم کے چھ روزے رکھے تو وہ گناہوں سے ایسے پاک و صاف ہو گیا جیسے آج ہی وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے ۔( )
قرآنِ مجید کلامِ الٰہی ****
کتاب کا نام مصنف/مؤلف/متوفیٰ مطبوعات
کنزالایمان اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان، متوفی۱۳۴۰ھ مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۳۲ھ
بخاری امام ابو عبدُ اللہ محمد بن اسماعیل بخاری،متوفی۲۵۶ھ دارالکتب العلميۃ بیروت ۱۴۱۹ھ
مسلم امام ابو الحسین مسلم بن حجاج قشیری، متوفی۲۶۱ھ دارالکتاب العربی بیروت۱۴۲۷ھ
ابو داود امام ابو داود سلیمان بن اشعث سجستانی، متوفی۲۷۵ھ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۲۱ھ
معجم اوسط امام ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی ،متوفی۳۶۰ھ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۲۲ھ
مجمع الزوائد حافظ نور الدین علی بن ابی بکر ہیتمی، متوفی۸۰۷ھ دار الفکر بیروت۱۴۲۰ھ
مراٰة المناجیح حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی، متوفی۱۳۹۱ھ ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور
شمس المعارف الکبریٰ حضرت شیخ ابو العباس احمد بن علی بونی ،متوفی ۶۲۲ھ کوئٹہ
رد المحتار سید محمد امین ابن عابدین شامی،متوفی۱۲۵۲ھ دارالمعرفۃ بیروت۱۴۲۰ھ
فتاویٰ ھندية ملانظام الدین، متوفی۱۱۶۱،وعلمائے ھند دارالفکربیروت۱۴۱۱ھ
فتاویٰ رضویہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان، متوفی۱۳۴۰ھ رضا فاؤنڈیشن لاہور۱۴۲۷ھ
فتاویٰ امجدیہ مفتی محمد امجد علی اعظمی، متوفی۱۳۶۷ھ مکتبہ رضویہ کراچی
فتاویٰ اہلِ سنَّت(قسط:09) دار الافتا اہل سنَّت مکتبۃ المدینہ کراچی
بہارِشریعت مفتی محمد امجد علی اعظمی، متوفی۱۳۶۷ھ مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۲۹ھ
سوانح امام احمد رضا علامہ بدر الدین احمد صاحب قادری رضوی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر