30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
موت سے پہلے موت کی تیاری
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!موت سے پہلے موت کی تیاری کر لیجئے تاکہ جب قبْر میں حبیبِ خدا سے یا حشر میں خدائے ذو الجلال سے ملاقات ہو تو کسی قسم کی شرمندگی اور رسوائی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ بلکہ جب اس دنیائے فانی سے ہمارے کُوچ کا وقت آئے تو اس حسرت میں مبتلا نہ ہوں، اے کاش! کچھ دیر مہلت مل جاتی تو نیک اعمال بجا لاتے ۔ حالانکہ منقول ہے : اَلْمَوْتُ جَسْرٌ يُوْصِلُ الْحَبِيْبَ اِلَى الْحَبِيْب یعنی موت تو ایک پل ہے جو دوست کو دوست تک پہنچاتا ہے ۔ (فیض القدیر، ۳/ ۳۰۷) اور مروی ہے کہ ایک انصاری صحابی نے بارگاہِ نبوت میں عرض کی :
یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! کونسا مومن سب سے زیادہ عَقْل مند ہے ؟ تو آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’موت کو زیادہ یاد کرنے والے اور موت کے بعد کی زِنْدَگی کے لیے بہترین تیاری کرنے والے لوگ سب سے زیادہ عَقْل مند ہیں ۔ ‘‘(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہم سب کو موت سے پہلے موت کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے ۔ بندہ مومن کے لیے خوفِ خدا اور رَجاء (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے رَحْم ت کی امید) دونوں ہونا ضروری ہے ۔ آج مسلمان جہاں دیگر بَہُت سی بُرائیوں کا شِکار ہیں وہیں ایک بہت بڑی نادانی یہ بھی عام ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رَحْم ت اور اس کی نعمتوں پر تو یقین رکھتے ہیں لیکن کَما حَقُّہُ اس کی ناراضی کا خوف اپنے دِلوں میں نہیں رکھتے اور اس کی وجہ سے گناہوں پر دلیر ہوتے جارہے ہیں ۔ اپنی اصلاح اور نفس کو گناہوں سے باز رکھنے کے لیے موت کا تصوُّر بہت مفید ہے ، اسی لیے اولیائے کرام رَحْمہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام ہر وقت موت کا تصوُّر جمائے رکھتے اور اس دارِ فانی کو واقعی عارضی سمجھتے تھے ۔ کاش! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ان نیک بندوں کے صدقے ہمیں بھی موت کا تصور جمائے رکھنے کی توفیق مل جائے ۔
اٰمین بجاہِ النبی الامین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
اچھی اچھی نیتیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس سے پہلے کہ موت ہمیں آخرت کے سفر پر روانہ کرے ، آئیے راہِ آخرت کے مسافر بننے سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کر لیجئے کہ فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : نِیَّۃُ الْمُؤْمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہٖ یعنی مسلمان کی نیّت اس کے عمل سے بہتر ہے ۔ (2)
٭ آج کے بعد میری کوئی نماز قضا نہیں ہوگی ۔
٭ صف اوّل میں جماعت کے ساتھ پانچوں وقت نماز پڑھوں گا ۔
٭ جھوٹ، غیبت، چغلی سے بچتا رہوں گا ۔
٭ ماں باپ کو نہیں ستاؤں گا ۔ ٭ حرام روزی نہیں کماؤں گا ۔
٭ سنتوں پر عمل کروں گا ۔ ٭ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی سے بچوں گا ۔
پیارے اسلامی بھائیو!مذکورہ اچھی اچھی نیتوں کے علاوہ بھی ہر نیک کام کرنے اور برائی سے بچنے کی بے شمار نیتیں کی جاسکتی ہیں، اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہم سب کو نمازی بنائے ، ہمارے دل سے گناہوں کا کانٹا نکل جائے اور ہمیں مدنی قافلوں کا مسافر بنائے ۔ مدنی قافلوں کی برکت سے جب ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے گھر یعنی مسجد میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مہمان بنیں گے تو یقیناً اپنے ربّ کی نافرمانی کے کاموں سے بھی اتنی دیر تک دور رہ کر اپنے ربّ کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے ، مدنی قافلوں کی برکت سے مدنی ماحول نصیب ہو گا اور یہ مدنی ذہن بھی بنے گا کہ میں نے بہت نمازیں قضا کرلیں، اب میں نہ صرف خود نماز پڑھوں گا بلکہ دوسروں کو بھی نمازکی ترغیب دلا کر کم از کم ایک اسلامی بھائی کو اپنے ساتھ مسجد میں لیتا جاؤں گا ۔ میں خود بھی نیکیاں کروں گا اور دوسروں کو بھی نیکی کی دعوت دوں گا ۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
مدنی انعامات:
پیارے اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ !پندرھویں صدی کی عظیم علمی و روحانی شخصیت، شیخ طریقت، اَمِیرِ اَہلسُنَّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اس پُرفتن دور میں نیک بننے کے لیے ہمیں مَدَنی انعامات کی صُورت میں ایک بہترین جَدْوَلْ عطا فرمایا ہے جس کے ذریعے ہم آسانی سے اپنے روز مرہ کے معمولات میں رہتے ہوئے فرائض و واجبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ نوافل و مستحبات کی بھی بجا آوری کرسکتے ہیں ۔
مَدَنی انعامات کا رِسالہ حاصل کر کے اس کے مُطابق عَمَل اور روزانہ فکرِ مدینہ کے ذریعے اس کو پُر کرنے کامعمول بنا لیں گے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ دین ودنیا کی بے شمار برکات حاصل ہوں گی ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمین بجاہِ النبی الامین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
[1] ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب ذكرالموت والاستعداد لہ ، ۴ / ۴۹۶ حدیث ، ۴۲۵۹
[2] المعجم الکبیر، ۶/ ۱۸۵، حدیث : ۵۹۴۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع