دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Masjidain Khushboodar Rakhain | مسجدیں خوشبو دار رکھیئے

Masjid Me Bache Ko Laane Ki Mumanaat

book_icon
مسجدیں خوشبو دار رکھیئے

مسجِد میں بچّے کو لانے کی مُمانَعَت

سرکارِ مدینہ،   سلطانِ باقرینہ ،  قرارِ قلب وسینہ ،  فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ با قرینہ ہے:  مسجدوں کو بچّوں اورپاگلوں اور خریدو فروخت اورجھگڑے اور آواز بلند کرنے اور حُدود قائم کرنے اور تلوار کھینچنے سے بچاؤ ۔    ( اِبن ماجہ ج ا ص ۴۱۵حدیث ۷۵۰)  ایسا بچّہ جس سے نَجاست  (یعنی پیشاب وغیرہ کردینے)  کاخطرہ ہو اور پاگل کو مسجِدکے اندرلے جانا حرام ہے اگر نَجاست کا خطرہ نہ ہو تو مکروہ۔  جو  لوگ جو تیاں مسجِد کے اندر لے جاتے ہیں ان کو اِس کا خیال رکھنا چاہئے کہ اگر نَجاست لگی ہو تو صاف کرلیں اور جو  تا پہنے مسجد میں چلے جانا بے اَدَبی ہے۔   (رَدُّالْمُحتارج۲ص۵۱۸) بچّے یا پاگل  (یابے ہوش یا جس پر جِنّ آیا ہوا ہو اس)  کو دم کروانے کیلئے چاہے  ’’پمپَر‘‘  لگا ہو تب بھی مسجد میں لے جانے کی شریعت میں اجازت نہیں ۔   اگر آپ ایسوں کو مسجِدمیں لانے کی بھول کرچکے ہیں تو برائے کرم !فوراً توبہ کرکے آیَندہ نہ لانے کاعَہد کیجئے ۔   ہاں فِنائے مسجِد مَثَلاً امام صاحِب کے حُجرے میں لے جاسکتے ہیں جبکہ مسجِد کے اندر سے لیکر نہ گزرنا پڑے۔   
گوشت یا مچھلی بیچنے والے کے لباس میں سخت بدبو ہوتی ہے لہٰذاان کو چاہئے کہ فارِغ ہو کر اچّھی طرح نہائیں ،  صاف لباس زیبِ تن فرمائیں ،  خوشبو لگائیں اور پھر مسجِد میں آئیں ۔ نہانا اور خوشبو لگانا شَرط نہیں صِرف مشورۃً عرض کیا ہے،  کوئی بھی ایسی ترکیب کریں کہ بد بُو مکمَّل طور پر زائِل (یعنی دُور)  ہو جائے۔  

سونے سے منہ میں بدبو ہو جاتی ہے

سوتے میں پیٹ کی گندی ہوائیں اُوپر کی طرف اٹھتی ہیں ،  لہٰذا بیدار ہونے پر منہ میں اکثر بدبُو ہوتی ہے۔  اِس ضِمن میں فتاوٰی رضویہ جلد 23 صَفْحَہ375 تا376 سے  ’’ سُوال جو اب ‘‘  مُلاحَظہ ہوں ۔  سُوال:  سونے سے اُٹھ کر آیۃُ الکرسی پڑھنا کیساہے؟  بعض اُستاد حُقّہ پیتے ہیں اور شاگرد کو  (قراٰن کریم)   پڑھاتے جاتے ہیں ۔ جو اب:  سونے سے اُٹھ کر ہاتھ دھوکر کُلّی کرلے اس کے بعد آیۃُ الکُرسی پڑھے،  اگر منہ میں حُقّے وغیرہ کی بدبُو ہو یا کوئی کھانے پینے کی چیز ہو تو بِغیر کُلّی کئے تِلاوت نہ کرے۔  جو  اُستاد ایسا کرتے ہیں بُرا کرتے ہیں ۔  واللّٰہُ تعالٰی اعلم۔  (فتاوٰی رضویہ ج ۲۳ ص ۳۷۵، ۳۷۶) ہمارے معطّر معطّر آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا وُجو دِ مسعود ہر وَقت مہکتا رہتا تھا، مزاجِ مُبارک میں نہایت نَفاست تھی ،  مسواک سوتے وَقت سِرہانے رہتی، اٹھتے توسب سے پہلے مسواک کرتے۔  اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّ سونے میں سرہانے مسواک رکھنا اور اُٹھ کر مسواک کرنا سنَّت  ہوا۔   رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب نیند سے بیدار ہوتے تو مِسواک کرتے تھے۔  ( ابوداوٗدج۱ص ۵۴ حدیث ۵۷)  

بعض غِذاؤں کی وجہ سے پسینے میں بدبُو

بعض غِذائیں ایسی ہوتی ہیں جن کے کھانے سے بدبو دارپسینہ آتا ہے ایسے اَفراد غذائیں تبدیل فرمائیں ۔  

مُنہ کی صفائی کا طریقہ

            جو مِسواک او ر کھانے کے بعد خِلال نہیں کرتے اور دانتوں کی صفائی کرنے میں سُست ہوتے ہیں اکثر اُن کے مُنہ بد بو دار ہوتے ہیں ۔ صِرف رَسمی طور پر مِسواک اور خِلال کا تنکا دانتوں سے مَس (TOUCH)  کر دینا کافی نہیں ہو تا۔   مسوڑھے زخمی نہ ہو ں اِس احتیاط کے ساتھ ممکنہ صورت میں غذا کا ایک ایک ذرّہ دانتوں سے نکالنا ہو گا ورنہ دانتوں کے در میان غِذائی اَجزا پڑے پڑے سڑتے اور سخت سَڑاند  (یعنی بدبُو)  کا باعِث بنتے رہیں گے ۔  دانتوں کی صفائی کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کوئی چیز کھانے اور چائے وغیرہ پینے کے بعد اور اِس کے علاوہ بھی جب جب موقع ملے مَثَلاً بیٹھے بیٹھے کوئی کام کر رہے ہیں اُس وَقت پانی کا گُھونٹ منہ میں بھر لیں اورجُنبِشَیں دیتے رہیں یعنی ہِلاتے  رہیں ،  اِس طرح مُنہ کا کچرا اورمَیل کُچیل صاف ہوتا رہے گا ۔  سادہ پانی بھی چل جائے گا اور اگر نمک والا قابلِ برداشت گرم پانی ہو تو یہ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ بہترین  ’’ ماؤتھ واش‘‘   ثابِت ہو گا۔  

داڑھی کو بدبو سے بچائیے

      داڑھی میں اکثر غذائی اَجزا اٹک جاتے ہیں ،  سونے میں بعض اوقات منہ کی بد بودار رال بھی داخِل ہو جاتی ہے اور اِس طرح بد بوآتی ہے لہٰذاوقتاً فوقتاً صابُن سے داڑھی دھو لینا مناسِب ہے۔ اِسی طرح سر کے بال بھی وقتاً فوقتاً دھوتے رہئے۔  فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:    ’’جس کے بال ہوں ان کا اکرام کرے۔  ‘‘  (ابوداوٗد ج ۴ ص ۱۰۳ حدیث ۴۱۶۳)  یعنی انہیں دھوئے ،  تیل لگائے اور کنگھی کر ے ۔  (اَشِعَّۃُ اللَّمعات ج۳ ص ۶۱۷) 

خوشبودار تیل بنانے کا آسان طریقہ

   سر میں سرسوں کا تیل ڈالنے والا سر سے ٹوپی یاعمامہ اُتارتا ہے تو بعض اوقات بد بو کا بھپکا نکلتا ہے لہٰذا جس سے بن پڑے وہ عُمدہ خوشبو دار تیل ڈالے خوشبو دار تیل بنانے کا ایک آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ کھوپرے کے تیل کی شیشی میں اپنے پسندیدہ عِطر کے چند قطرے ڈال کر حل کر لیجئے۔  خوشبو دار تیل تیّار ہے۔   (خوشبو دار تیل بنانے کے مخصوص ایسینس بھی خوشبویات کی دُکانوں سے حاصِل کئے جاسکتے ہیں )  سر کے بالوں کو وقتاً فوقتاً صابن سے دھو تے رہئے۔  

ہو سکے تو روز نہائیے

جس سے بن پڑے وہ روزانہ نَہائے کہ کافی حد تک بدن کی باہَری بدبو زائِل ہو گی اور یہ صحّت کیلئے بھی مُفید ہے۔   (مگرمُعتکِفین مسجِد کے غُسل خانوں میں بِلا سخت ضَرورت  کے نہ نہائیں کہ نَمازیوں کیلئے وُضُو کے پانی کی تنگی ہو سکتی ہے اور موٹر بھی بار بار چلنے کی وجہ سے خراب ہوسکتی ہے نیز تب نہائیں جب غسل خانے فنائے مسجِد میں ہوں اگر خارِج مسجِد میں ہوں تو غسلِ جمعہ کی بھی اجازت نہیں صرف فرض غسل کی اجازت ہے ) 

عِمامہ وغیرہ کو بدبُوسے بچانے کا طریقہ

بعض اسلامی بھائی کافی بڑے سائز کا عمامہ شریف باندھنے کا جذبہ تو رکھتے ہیں مگر صفائی رکھنے میں کوتاہی کر جاتے ہیں اور یوں بسا اوقات لاشُعُوری میں مسجِد کے اندر    ’’ بدبُو‘‘   پھیلانے کے جُرم میں پھنس جاتے ہیں ۔  لہٰذا مَدَنی التِجا ہے کہ عمامہ، سر بند شریف اور چادر استِعمال کرنے والے اسلامی بھائی موسِم کے اعتِبار سے یا ضَرورتاً مزید جلدی جلدی انہیں دھونے کی ترکیب بناتے رہیں ،  ورنہ مَیل کُچیل، پسینہ اورتَیل وغیرہ کے سبب ان چیزوں میں بد بو ہوجاتی ہے، اگر چِہ خود کو محسوس نہیں ہوتی مگر دوسروں کو بد بُو کے سبب کافی گِھن آتی ہے،  خود کو اس لئے پتا نہیں چلتا کہ جس کے پاس زیادہ دیر تک کوئی مخصوص خوشبو یا بد بو ہو اِس سے اُس کی ناک اَٹ جاتی ہے ۔  

عِمامہ کیسا ہونا چاھئے

سَخت ٹوپی پر بندھے بندھائے عمامے کا استِعمال بھی اس کے اندر بد بو پیدا کر سکتا ہے ۔  اگر ہو سکے توباریک ململ کے ہلکے پُھلکے کپڑے کاعمامہ شریف استِعمال کیجئے اور اس کیلئے کپڑے کی ایسی ٹوپی پہنئے جو  سر سے چِپڑی ہوئی ہو کہ ایسی ٹوپی پہننا بھی سُنّت  ہے۔ بندھا بندھایا عمامہ شریف سر پر رکھ لینے اور اُتار کر رکھ دینے کے بجائے باندھتے وقت ایک ایک پیچ کر کے باندھئے اور اِسی طرح کھولنے کی ترکیب کیجئے۔ اور بار بار ہوا لگنے کی وجہ سےاِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ بد بوبھی دُور ہوگی۔  عمامہ و سر بند شریف،  چادر اور لباس وغیرہ کو اُتار کر دھوپ میں ڈالنے سے بھی پسینے وغیرہ کی بد بو دُور ہو سکتی ہے۔  نیز ان پر اچّھی اچّھی نیّتوں کے ساتھ عُمدہ عِطر لگاتے رہنا بھی بد بُو کو دُور کر سکتا ہے۔ ضمناً عطر لگانے کی نیتیں او ر مواقع بھی مُلاحَظہ فرما لیجئے:   

خوشبو لگانے کی نیتیں اور مَواقِع

فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :   ’’مسلمان کی نیّت اسکے عمل سے بہتر ہے۔  ‘‘   (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیرج۶ص۱۸۵حدیث ۵۹۴۲) 
 (۱) سنّتِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے اس لئے خوشبولگاؤں گا (۲)   لگانے سے قبل بِسمِ اللّٰہ (۳) خوشبو آنے پر لگاتے ہوئے دُرُود شریف اور (۴)  لگانے کے بعد ادائے  شکرِ نعمت کی نیّت سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن کہوں گا (۵) ملائکہ اور  (۶)  مسلمانوں کو فرحت  (خوشی) پہنچاؤں گا (۷)  عقل بڑھے گی تواَحکا مِ شرعی یاد کرنے اور سنتیں سیکھنے پر قوّت حاصِل کروں گا  (امام شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکا فی  فرماتے ہیں : عمدہ خوشبولگانے سے عقل بڑھتی ہے۔    (احیاء العلوم ج۱ ص۲۴۴) )   (۸)  لباس وغیرہ سے بدبودُور کرکے مسلمانوں کو غیبت کے گناہوں سے بچاؤں گا    (کیونکہ کسی مسلمان کالباس وغیرہ بد بُودار ہو توبِلا اجازتِ شَرعی اُس کے  پیچھے سے مَثَلاً اِس طرح کہنا کہ’’اِس کے لباس یا ہاتھوں یا مُنہ سے بدبو آرہی تھی‘‘ غیبت ہے)  (۹)  موقع کی مُناسَبَت سے یہ نیتیں بھی کی جا سکتی ہیں مَثَلاً (۱۰)  نماز کیلئے زینت حاصِل کروں گا  (۱۱)  مسجِد (۱۲)  نَمازِ تہجُّد  (۱۳)  جمعہ  (۱۴)  پیرشریف (۱۵)   رَمَضانُ المُبارَک  (۱۶)  عیدُالفطر (۱۷) عیدُ الاَضحی (۱۸)  شبِ مِیلاد (۱۹)  عیدِ مِیلادُ النَّبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ (۲۰) جُلوسِ میلاد  (۲۱)  شبِ مِعراجُ النّبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  (۲۲) شبِ بَرَاء ت  (۲۳)  گیارہویں شریف  (۲۴)  یومِ رضا  (۲۵)  درسِ قراٰن و  (۲۶) حدیث  (۲۷)  تِلاوت (۲۸) اَورادووظائف  (۲۹) دُرُود شریف (۳۰) دینی کتاب کا مُطالَعہ  (۳۱)  تدریسِ علمِ دین  (۳۲)  تعلیمِ علمِ دین (۳۳)  فتویٰ نویسی (۳۴)  دینی کتب کی تصنیف و تالیف (۳۵)  سنتوں بھرے اجتماع (۳۶) اجتماعِ ذکرو نعت (۳۷)  قراٰن خوانی  (۳۸) درسِ فیضانِ سنّت (۳۹) عَلاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت (۴۰) سُنّتوں بھرا بیان کرتے وَقت  (۴۱)  عالم  (۴۲)  ماں  (۴۳)  باپ (۴۴)  مومنِ صالح (۴۵)  پیر صاحِب (۴۶)  موئے مبارک کی زیارت اور (۴۷)  مزار شریف کی حاضِری کے مواقع پر بھی تعظیم کی نیّت سے خوشبو لگائی جا سکتی ہے ۔  جتنی اچّھی اچّھی نیّتیں کریں گے اُتنا ہی زیادہ ثواب ملے گا۔  جبکہ نیّت کا موقع بھی ہو اور وہ نیّت شرعاً دُرُست بھی ہو۔ زیادہ یاد نہ بھی رہیں تو کم از کم دو تین نیّتیں کر ہی لینی چائیں ۔  
اے ہمارے پیارے پیارے اللہ عَزَّ وَجَلَّ آج تک ہم سے جتنی بار بھی مسجِد  میں بد بُو لے جانے کا گناہ ہوا ہواُس سے توبہ کرتے ہیں اور یہ عزم کرتے ہیں کہ آیَندہ کبھی بھی مسجِد میں کسی طرح کی بد بُو نہیں لے جائیں گے۔ یاربِّ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! ہمیں مساجد کو خوشبو دار رکھنے کی سعادت دے۔  یااللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں ہر طرح کی ظاہِری باطِنی بد بوؤں سے پاک ہو کر مسجد میں حاضِری کی سعادت عطا فرما۔  یا اللہ عَزَّوَجَلَّ! ہمارے     خوشبودار سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صَدقے ہمیں گناہوں کی بد بوؤں سے نَجات دے اور خوشبوؤں سے مہکتی ہوئی جنَّتُ الفِردوس میں اپنے مُعَطّر مُعَطّرحبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا پڑوس نصیب فرما۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
وَاللّٰہ جو  مَل جائے مِرے گُل کا پسینہ
مانگے نہ کبھی عِطر نہ پھر چاہے دُلہن پھول  (حدائقِ بخشش شریف) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اپنے دانت غور سے آئینے میں دیکھ لیجئے

    خیر خواہی کے جذبے کے تَحت ثواب کمانے کی حِرص میں عَرض ہے کہ اگر آپ کے دانت مَیلے کچیلے یا پیلے ہیں تو خوش دلی کے ساتھسگِ مدینہ عُفِیَ عَنہُ  کی طرف سے چند مَدَنی پھول قَبول فرمالیجئے ،  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ   بَہُت فائدہ ہو گا۔  
٭ مَیلے کچیلے دانت دوسروں کیلئے کراہت اور گِھن کا باعِث ہوتے ہیں ٭ملاقاتی وغیرہ پر میلے دانت والے کی شخصیَّت کا اثر اچّھا نہیں پڑتا٭بکثرت پان گُٹکے وغیرہ کھانے  والے گویا پیسے دے کر اپنے دانتوں کا حُسن تباہ کرتے،  منہ کا چھالا اور کینسر خریدتے ہیں ٭مسواک سنَّت کے مطابق اچھی طرح رگڑ رگڑ کر کیجئے٭کھانے کے بعد دانتوں میں خِلال کرنے کا معمول بنا لیجئے٭جب بھی کچھ کھائیں یا چائے وغیرہ پئیں ، کُلّی بھرکر چند مِنَٹ تک منہ میں پانی ہِلاتے رہیں اِس طرح منہ کا اندرونی حصّہ اور دانت کسی حد تک دُھل جائیں گی٭  سوتے وَقت حلق اور دانت اچھی طرح صاف ہونے چاہئیں ،  ورنہ گلے میں تکلیف اور دانتوں پرمَیل کی تہ مضبوطی سے جمے گی ،  بند منہ کے اندر غذائی اجزا سڑ نے سے منہ میں بدبُو ہو گی اور جراثیم پیٹ میں جانے سے طرح طرح کی بیماریاں جَنَم لے سکتی ہیں ٭ سونے میں پیٹ کی گندی ہوائیں اوپر کو اٹھتی ہیں لہٰذا منہ بدبُودار ہو جاتاہے،  اُٹھ کرفوراًہاتھ دھو کر مسواک کرکے کُلّیاں کر لیجئے،  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ   منہ کی بدبُو جاتی رہے گی۔  

بہترین منجن

مناسِب مقدار میں کھانے کا سوڈا اور اُتنا ہی نمک ملا کر بوتل میں ڈال لیجئے،  بہترین منجن تیار ہے۔  اگر مُوافِق ہو توروزانہ اِس سے دانت مانجھئے ،  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ  ہاتھوں ہاتھ دانتوں کامَیل اُتر تا دیکھیں گے۔  بالفرض مَسُوڑھے یا منہ میں کسی جگہ جلن وغیرہ محسوس فرمائیں تو مقدار کم کر کے دیکھ لیجئے ،  اب بھی تکلیف ہو تو صفائی کی کوئی اور تدبیر کیجئے،  دانت بَہرحال صاف ہونے چاہئیں ۔  
مَدَنی پھول: ہر طرح کی صفائی سنّت اور مطلوبِ شریعت ہے۔  
بدبو نہ دَہَن میں ہو،  دانتوں کی صفائی ہو
مہکائی دُرُودوں کی مُنہ میں ترے بھائی ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نوٹ: یہ رسالہ پہلی بار ۱۲ شعبانُ المعظم ۱۴۲۷ (بمطابق6-09-2006)  کو ترتیب پایا اور کئی بار شائع کیا گیا پھر ۵ ربیع الغوث ۱۴۳۳؁  (بمطابق28-2-2012)  میں اِس پر نظرِ ثانی کی۔  

یہ رسالہ پڑھ کر دوسرے کو دے دیجئے

شادی غمی کی تقریبات، اجتماعات، اعراس اور جلوسِ میلاد و غیرہ میں مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسائل اور مدنی پھولوں پر مشتمل پمفلٹ تقسیم کرکے ثواب کمائیے ،  گاہکوں کو بہ نیتِ ثواب تحفے میں دینے کیلئے اپنی دکانوں پر بھی رسائل رکھنے کا معمول بنائیے ،  اخبار فروشوں یا بچوں کے ذریعے اپنے محلے کے گھر گھر میں ماہانہ کم از کم ایک عدد سنتوں بھرا رسالہ یا مدنی پھولوں کا پمفلٹ پہنچاکر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیے اور خوب ثواب کمائیے۔  
غمِ مدینہ و بقیع و مغفرت و بے حساب  جنّت 
الفردوس  میں آقا کے پڑوس کا طالب
                          
          ۵ ربیع الغوث۱۴۳۳
      2012-2-28

ماخذ ومراجع

کتاب مطبوعہ کتاب مطبوعہ
صحیح مسلم دار ابن حزم بیروت مِراٰۃالمناجیح ضیاء القراٰن پبلی کیشنز مرکز الاولیاء لاہور 
ابو داود داراحیاء التراث العربی بیروت درمختار دار المعرفۃ بیروت
سنن نَسائی دار الکتب العلمیۃ بیروت رد المحتار دار المعرفۃ بیروت
اِبن ماجہ دار المعرفۃ بیروت فتاوٰی رضویہ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور
مسند ابی یعلی دار الکتب العلمیۃ بیروت فتاوٰی فیض الرسول شبیر برادر مرکز الاولیاء لاہور
معجم کبیر داراحیاء التراث العربی بیروت فتاوٰی نعیمیہ کتب اسلامیہ گجرات
الترغیب والترہیب دار الکتب العلمیۃ بیروت بہارِ شریعت مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
اشعۃ اللمعات کوئٹہ ٭٭٭ ٭٭٭

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن