دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Masjidain Khushboodar Rakhain | مسجدیں خوشبو دار رکھیئے

Majme Me Agarbatti Sulgana

book_icon
مسجدیں خوشبو دار رکھیئے

مجمع میں اگر بتّی سلگانا

مسلمانوں کے اجتماع میں خوشبو پہنچانے کی نیّت سے اگر بتّی وغیرہ جلانا کارِ ثواب ہے۔ اگرلُوبان یا اگر بتّی کے دھوئیں سے کسی کو تکلیف ہوتی ہو تو ایسے موقع پر خوشبو نہ جلائی جائے اِسی طرح مجمع پر زیادہ مقدار میں ’’ خوشبو دار پانی‘‘چِھڑکنے سے بھی بچیں کہ عام طور پر اِ س سے لوگوں کو کوفت اور پریشانی ہوتی ہے۔  

بد بُودارمُنہ لیکر مسلمانوں کے مَجمع میں جانے کی ممانَعَت

مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں :  مسلمانوں کے مَجمَعوں ،  درسِ قراٰن کی مجلسوں ،  عُلَمائے دین و اولیائے کامِلین کی بارگاہوں میں بد بو دار مُنہ لے کر نہ جاؤ۔   مزید فرماتے ہیں : جب تک مُنہ میں بد بو رہے گھر میں ہی رہو ،  مسلمانوں کے جلسوں ،  مَجمَعوں میں نہ جاؤ۔  حُقّہ پینے والے ،  تمباکو والے،  پان کھا کر کُلّی نہ کرنے والوں کو اس سے عبرت پکڑنی چاہئے ۔  فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : جسے گندہ دَہَنی کی بیماری ہو اُسے مسجِدوں کی حاضِری مُعاف ہے۔     (مِراٰۃُالمناجیح ج۶ ص ۲۵، ۲۶) 

نَماز کے اوقات میں کچّی پیاز کھانا کیسا ؟

سُوال:   ’’ گندہ دَہَن‘‘ کو مسجِد کی حاضِری مُعاف ہے ،  تو کیا کچّی پیاز والا رائتہ یا کچومر یا ایسے کباب سَموسے جن میں لہسن پیاز برابر پکے ہوئے نہ ہوں اور اُن کی بُو آتی ہویا مَسلی ہوئی باجرے کی روٹی جس میں کچّا لہسن شامل ہوتا ہے ایسی غذا وغیرہ جماعت سے کچھ دیر  پہلے اس نیّت سے کھا سکتے ہیں کہ مُنہ میں بُو ہو جائے اورجماعت واجِب نہ رہے! 
جو اب: ایسا کرنا جائز نہیں ۔  مَثَلاً جہاں عشا کی جماعت اوّل وَقت میں ہوتی ہے وہاں نَمازِ مغرِب کے بعد ایسا کچومر یا سَلاد وغیرہ نہ کھائے جس میں کچّی مُولی یا کچّی پیاز یا کچّا لہسن ہو کیوں کہ اِتنی جلدی منہ صاف کر کے مسجِد میں پہنچنا دُشوار ہوتا ہے۔  ہاں اگر جلد مُنہ صاف کرنا ممکِن ہے یا کسی اور وجہ سے مسجِد کی حاضِری سے معذور ہے مَثَلاً عورت۔  یا نَماز پڑھنے میں ابھی کافی دیر ہے اُس وقت تک بوخَتْم ہو جا ئے گی تو کھانے میں مُضایَقہ نہیں ۔   میرے آقااعلیٰ حضرت امامِ اہلِسنّت مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان    عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : کچّا لہسن پیاز کھانا کہ بِلاشُبہہ حلال ہے اور اُسے کھا کر جب تک بُو زائِل نہ ہومسجِد میں جانا ممنوع مگر جو  حقّہ ایسا کَثِیف  (گاڑھا)  و بے اِہتمام ہو کہ مَعَاذَاللہ   تَغَیُّرِ باقی ( یعنی دیر پا بد بو )  پیدا کرے کہ وقتِ جماعت تک کُلّی سے بھی بَکُلّی ( یعنی مکمَّل طور پر)  زائِل نہ ہو تو قُربِ جماعت میں اس کا پینا شرعاً ناجائز کہ اب وہ تَرکِ جماعت و تَرکِ سجدہ یا بدبُو کے ساتھ دُخولِ مسجِد کا مُوجِب (سبب) ہو گا اور یہ دونوں ممنوع و ناجائز ہیں اور ( یہ شرعی اصول ہے کہ)  ہر مُباح فی نَفسِہٖ ( یعنی ہر وہ کام جو  حقیقت میں جائز ہو مگر)  امرِ ممنوع کی طرف  مُؤَدّی ( یعنی ممنوع کام کی طرف لے جانے والا)  ہو مَمنوع و نارَوا ہے۔    (فتاوٰی رضویہ ، ج۲۵ ص ۹۴) 

کچّی پیاز کھاتے وَقت بسم اللّٰہ مت پڑھئے

     فتاوٰی فیض الرسول جلد 2 صفحہ 506پر ہے : حُقّہ ، بیڑی،  سگریٹ پینے اور  (کچّے)  لہسن،    پیاز جیسی چیز کھانے کے وَقت اور نَجاست کی جگہوں میں بِسمِ اللّٰہ پڑھنا مکروہ ہے۔  

مُنہ کی بدبُو معلوم کرنے کا طریقہ

اگر مُنہ میں کوئی  تَغَیُّرِ رائِحَہ ( یعنی بد بُو)  ہو تو جتنی بار مسواک اور کلّیوں سے اس  ( بد بُو)  کا اِزالہ  (یعنی دُور کرناممکن)  ہو (اُتنی بار کلیاں وغیرہ کرنا)  لازِم ہے ،  اِس کے لیے کوئی حد مُقرّر نہیں ۔  بد بو دارکَثِیف  (گاڑھا) بے احتیاطی کا حُقَّہ پینے والوں کو اِس کا خیال  (رکھنا)  سخت ضَروری ہے اور اُن سے زیادہ سگرٹ والے کوکہ اس کی بد بُومُرکَّب تمباکو سے (بھی)  سخت تر اور زیادہ دیر پا ہے اور ان سب سے زائد اَشَد ضَرورت تمباکو کھانے والوں کو ہے جن کے منہ میں اُس کا جِرم ( یعنی دھوئیں کے بجا ئے خود تَمباکو ہی)  دبا رہتا اور منہ اپنی بدبُو سے بسا دیتا ہے۔  یہ سب لوگ وہاں تک مِسواک اورکُلّیاں کریں کہ مُنہ بالکل صاف ہو جائے اور بو کا اصلاً نشان نہ رہے اور اس کا امتحان یوں ہے کہ ہاتھ اپنے مُنہ کے قریب لے جا کر منہ کھول کر زور سے تین بار حَلْق سے پوری سانس ہاتھ پر لیں اورمَعاً  (یعنی فوراً)  سونگھیں ۔  بِغیر اس کے اندر کی بدبو خود کم محسوس ہوتی ہے اور جب مُنہ میں بدبُو ہو تو مسجِد میں جانا حرام ،  نَماز میں داخِل ہونا مَنع ۔   وَاللّٰہُ الْہَادِی۔    (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ   ج ا ص ۶۲۳)  

مُنہ کی بدبُو کا علاج

     اگر کسی چیز کے کھانے کے سبب مُنہ میں بدبوآتی ہوتو  ’’ہرا دھنیا ‘‘ چبا کر کھایئے نیز گُلاب کے تازہ یا سُوکھے ہوئے پھولوں سے دانت مانجھئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ  فائدہ ہو  گا۔  ہاں اگر پیٹ کی خرابی کی وجہ سے بدبو آتی ہو تو ’’ کم خوری‘‘   (یعنی کھانے میں کمی کرنے) کی سعادت حاصل کر کے بھوک کی بَرَکتیں لوٹنے سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ ٹانگوں اور بدن کے مختلف حصّوں کے درد ،  قبض، سینے کی جلن ،  مُنہ کے چھالے ، باربار ہونے والے (یعنی دائمی)  نزلے کھانسی اور گلے کے درد ،  مَسُوڑھوں میں خون آنا وغیرہ بَہُت سارے اَمراض کے ساتھ ساتھ مُنہ کی بدبوسے بھی جان چھوٹ جائے گی۔  بھوک باقی رہے اِس طرح سے کم کھانے میں 80فیصد اَمراض سے بچت ہوسکتی ہے۔  ( تفصیلی معلومات کیلئے فیضانِ سنّت کے باب  ’’ پیٹ کا قفلِ مدینہ‘‘  کا مُطالَعَہ فرمایئے) اگر نَفس کی حِرص کا علاج ہو جائے توکئی جسمانی اور روحانی امراض خود ہی دم توڑجائیں ۔     ؎
رضاؔ نفس دشمن ہے دم میں نہ آنا
کہاں تم نے دیکھے ہیں چَندرانے والے  (حدائقِ بخشش شریف) 

مُنہ کی بدبُو کا مَدَنی علاج

اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلَی النَّبِیِّ الطَّاہِر۔  
مُندَرَجَۂ بالا دُرُود شریف موقع بہ موقع ایک ہی سانس میں 11مرتبہ پڑھ لیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ  مُنہ کی  بدبو  زائِل  (یعنی دُور) ہو جا ئے گی ۔  ایک ہی سانس میں پڑھنے کا بِہتر طریقہ یہ ہے کہ مُنہ بند کر کے آہِستہ آہِستہ ناک سے سانس لینا شُروع کیجئے اورمُمکِنہ حد تک ہوا  پَھیپھڑوں میں بھر لیجئے ۔  اب دُرُود شریف پڑھنا شُرو ع کیجئے۔   چند بار اس  طرح مَشق کریں گے تو سانس ٹوٹنے سے قَبل اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ مکمّل گیارہ بار دُرُود شریف پڑھنے کی ترکیب بن جائے گی ۔  مذکورہ طریقے پر ناک سے گہرا سانس لیکر ممکن حد تک روک رکھنے کے بعد مُنہ سے خارِج کرنا صِحّت کیلئے انتہائی مفید ہے۔  دن بھر میں جب جب موقع ملے بِالخصُوص کُھلی فَضا میں روزانہ چند بار تو ایسا کر ہی لینا چاہئے۔   مجھے  ( یعنی سگِ مدینہ   عفی عنہ کو)  ایک سِن رَسیدہ (یعنی بوڑھے)  حکیم صاحِب نے بتا یا تھا کہ میں سانس لینے کے بعد آدھے گھنٹے تک  ( یا کہا ) دو گھنٹے تک ہوا کو اندر روک لیتا ہوں اور اِس دَوران اپنے وِردو وَ ظائف بھی پڑھ سکتا ہوں ۔  بقول اُن حکیم صاحِب کے سانس روکنے کے ایسے ایسے مَشّاق  (یعنی مَشق کر کے ماہِر ہو جانے والے لوگ)  بھی دنیا میں ہوتے ہیں کہ صبح سانس لیتے ہیں تو شام کو نکالتے ہیں ! 

استِنْجا خانے مسجِد سے کِتنی دُور ہونے چاہئیں ؟

      بارگاہِ رضوِیَّت میں سُوال ہوا کہ نَمازیوں کیلئے اِستِنجا خانے  مسجِد سے کتنی دُور بنانے چاہئیں ؟ اِس پرمیرے آقااعلیٰ حضرت امامِ اہلِسنّت مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے جو اباً ارشاد فرمایا: مسجِد کو بو سے بچانا واجِب ہے وَ لہٰذا مسجِد میں مِٹّی کا تیل جلانا حرام،  مسجِدمیں دِیاسَلائی  ( یعنی بد بودار بارُود والی ماچس کی تِیلی)  سُلگانا حرام،  حتّٰی کہ حدیث میں ارشاد ہوا:  مسجِد میں کچّا گوشت لے جاناجائز نہیں۔  (اِبن ماجہ ج۱ ص۴۱۳ حدیث۷۴۸) حالانکہ کچّے گوشت کی بو بَہُت خَفِیف  ( یعنی ہلکی )   ہے۔  تو جہاں سے مسجِد میں بو پہنچے وہاں تک ( اِستِنجا خانے بنانے کی)  مُمانَعَت کی جائے گی۔  ( فتاوٰی رضویہج ۱۶ص ۲۳۲)  کچّے گوشت کی بد بو ہلکی ہوتی ہے جب یہ بھی مسجِد میں لے جانا جائز نہیں تو کچّی مچھلی لے جانا بَدَرَجَۂ اَولیٰ ناجائز ہو گا کیوں کہ اس کی بو گوشت سے زیادہ تیز ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات پکانے والوں کی بے احتیاطی کے سبب اِس کا سالن کھانے سے ہاتھ اور مُنہ میں ناگوار بو ہو جاتی ہے ۔  ایسی صورت میں بو دُورکئے بِغیر مسجِد میں نہ جا ئے۔  اِستِنجا خانوں کی جب صَفائی کی جاتی ہے اُس وَقت بد بو کافی پھیلتی ہے لہٰذا  (اِستِنجاخانے اور مسجِد کے درمیان) اتنا فاصِلہ رکھنا ضَروری ہے کہ صَفائی کے موقع پر بھی بدبو  مسجِد میں داخِل نہ ہو سکے۔  اِستِنجا خانے اِحاطۂ مسجِد میں کھلتے ہوں تو ضَرورتاً دیوار پاٹ کر باہَر کی جانب دروازے نکال کر بھی بدبو سے مسجِد کو بچایا جاسکتا ہے ۔  

اپنے لباس وغیرہ پر غور کرنے کی عادت بنائیے

      مسجِد میں بدبو  لے جانا حرام ہے۔ نیز ہر طرح کے بدبو والے شخص کا داخِل ہونا بھی حرام ہے ۔ مسجِد میں کسی تنکے سے خِلال بھی نہ کریں کہ جو  پابندی سے ہر کھانے کے بعد اِس کے عادی نہیں ہوتے خِلال کرنے سے ان کے دانتوں سے بد بو نکلتی ہے۔  مُعتَکِف فِنائے مسجِد میں بھی اتنی دُور دانتوں کا خِلال کرے کہ بدبو اصلِ مسجِد میں داخِل نہ ہو۔  بد بودار زَخم والا یا وہ مریض جس نے پیشاب یا پاخانے کی تھیلی  (Stoolbag٭ Urine bag)  لگائی ہوئی ہے وہ مسجِد میں داخِل نہ ہوں ۔  اسی طرح لیبارٹری ٹیسٹ کروانے کیلئے لی ہوئی  خون یا پیشاب کی شیشی،  ذَبیحہ کے بَوَقتِ ذَبح نکلے ہوئے خون سے آلود کپڑے وغیرہ کسی چیز میں چُھپا کر بھی مسجِد کے اندر نہیں لے جا سکتے چُنانچِہ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : مسجِد میں نَجاست لے کرجانا اگر چِہ اس سے مسجِد آلود ہ نہ ہو یا جس کے بدن پر نجاست لگی ہو اُس کو مسجِد میں جانا مَنع ہے۔  (رَدُّالْمُحتار ج۲ ص۵۱۷)  مسجِد میں کسی برتن کے اندر پیشاب کرنا یا فَصد کا خون لینا  (مَثَلاً ٹیسٹ کیلئے سِرِنج کے ذَرِیعے خون نکالنا)  بھی جائز نہیں ۔   (دُرِّمُختارج۲ ص۵۱۷)  پاک بدبو چُھپی ہوئی ہو جیسا کہ اکثر لوگوں کے بدن میں پسینے کی بد بو ہوتی ہے مگر لباس کے نیچے چُھپی ہوئی ہوتی ہے اور محسوس نہیں ہوتی تو اِس صورت میں مسجِد کے اندر جانے میں کوئی حَرَج نہیں ۔ اسی طرح اگر رومال میں پسینے وغیرہ کی بدبو ہے جیسا کہ گرمی میں منہ کا پسینہ پونچھنے سے اکثر ہو جاتی ہے تو ایسا رومال مسجِد کے اندر نہ نکالے ،  جیب ہی میں رہنے دے،  اگرعمامہ یا ٹوپی اُتارنے سے پسینے یامیل کُچیل وغیرہ کی بدبو آتی ہے تو مسجِد میں نہ اُتارے ۔  چُنانچِہ اِس کی مثال دیتے ہوئے مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت   حضر  ت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الحَنَّان  فرماتے ہیں :   ’’ ہاں اگر کسی صورت سے مِٹی کے تیل کی بد بو اُڑادی جائے یا اِس طرح لیمپ وغیرہ میں بند کیا جا ئے کہ اس کی بد بُو ظاہِر نہ ہو تو  (مسجِد میں )  جائز ہے۔  ‘‘   (فتاوٰی نعیمیہ ص۴۹)  ہرمسلمان کو اپنے مُنہ،  بدن،  رومال، لباس اور جو تی چپل وغیرہ پر غور کرتے رہنا چاہئے کہ اس میں کہیں سے بد بُو تو نہیں آ رہی اور ایسا مَیلا کُچَیلا لباس پہن کر بھی مسجِد میں نہ آئیں جس سے لوگوں کو گِھن آئے۔  افسوس !  دُنیوی  افسروں وغیرہ کے پاس تو عمدہ لباس پہن کر جائیں اور اپنے پیارے پیارے پَرَوردگار  عَزَّ وَجَلَّ کے دربار میں حاضِری کے وَقت یعنی نَماز میں نَفاست ( صفائی اور پاکیزگی وغیرہ ) کا کوئی اِہتِمام نہ کریں ۔   مسجِد میں آتے وقت انسان کم ازکم وہ لباس تو پہنے جو  دعوتوں میں پہن کر جاتا ہے۔   مگر اس بات کا خیال رکھئے کہ لباس شریعت و سنّت کے مطابِق ہو۔  

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن