دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Masjid Se Chappal Chori Ho Jay To Kia Karain? | مسجد سے چپل چوری یو جائے تو کیا کریں؟

book_icon
مسجد سے چپل چوری یو جائے تو کیا کریں؟

مسجد کی پلاسٹک والی ٹوپی پہن کر نماز پڑھنا کیسا؟

سُوال :  مسجد میں پلاسٹک کی جالی والی ٹوپیاں ہوتی ہیں ، کیا انہیں پہن کر نماز ہوجاتی ہے؟

جواب : جی ہاں! نماز تو ہوجائے گی۔ البتہ افضل یہ ہے کہ اس حلیے اور لباس میں نماز پڑھے جس میں اچھے اور عزت والے لوگوں کے سامنے جاتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ مسجد کی یہ ٹوپیاں پہن کر کوئی شادی میں نہیں جائے گااور شرم آئے گی۔ اللہ پاک کی بارگاہ میں حاضر ہوتے وقت انسان اچھا انداز اپنائے ، صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے ہوں اور عمامہ شریف سجا ہوا ہو۔  کوشش یہی ہو کہ سنت کے مطابق لباس پہن کر نماز پڑھی جائے۔ البتہ اگر کوئی ایسا لباس ہو جو سنّت سے نہ ٹکراتا ہو تو وہ پہن کر بھی نماز پڑھی جاسکتی ہے ، لیکن اسے افضل لباس نہیں کہیں گے۔ افضل لباس وہی ہوگا جو علما اور شُرَفا پہنیں گے۔

امیر ِاہلِ سنّت کا اِصلاح قبول کرنے کا انداز

سُوال : دیکھا گیا ہے کہ آپ کی اگر کوئی اصلاح کرے تو فورا قبول فرمالیتے ہیں ، جبکہ عام طور پر یہ انداز ہمیں دوسروں میں دیکھنے کو کم ملتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ ([1])

جواب : اَلْحَمْدُ لِلّٰہ یہ میری طبیعت اور قلبی کیفیت ہے کہ اگر کوئی میری غلطی بتاتا ہے تو مجھے غصہ نہیں آتا۔ یہ الگ بات ہے کہ میں بتانے والے کا شکر یہ ادا کروں ، حوصلہ افزائی کروں ، تذکرہ کروں یا نہ کروں۔ اللہ کرے کہ ہم سب ایسے ہوجائیں۔ جو ہماری اصلاح کرتا ہے وہ ہمارا دشمن نہیں ، بلکہ دوست ہوتا ہے ، جبکہ  ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ہمارا دشمن ہے اور ہم کوڈی گریڈ کررہا ہے ، اس نے ہماری کچی کردی ہے ، حالانکہ اس نے ہماری کچی نہیں ، بلکہ پکی کی ہے۔ ہماری کیفیت یہ ہے کہ

ناصحا! مت کر نصیحت دل مرا گھبرائے ہے

اس کو دشمن جانتا ہوں جو مجھے سمجھائے ہے

                             ایک تعداد ایسی ہے جس کی یہ کوالٹی ہے کہ انہیں سمجھانا بھاری پڑجاتا ہے اور وہ گلے پڑکر ایسی تاویلیں پیش کرتے ہیں کہ بس۔ اگر سامنے والے کی غلطی نہیں ہے ، لیکن ہمیں غلط فہمی ہوگئی ہے تب بھی بعض اوقات انداز تکلیف دہ ہوجاتا ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ایسا کریں گے تو آئندہ کوئی سمجھائے گا نہیں اور نہ ہی کوئی اصلاح کرے گا۔ اگر ہم مَعَاذَ اللّٰہ دوزخ میں گرنے والا گناہ کررہے ہوں گے تو بچانے کوئی نہیں آئے گا ، کیونکہ اس کا ظن غالب نہیں ہوگا کہ میں سمجھاؤں گا تو مان جائے گا ، بلکہ یہ ذہن بنے گا کہ سمجھاؤں گا تو گلے پڑجائے گا ، اب کیا کرو ں اور کیسے بچاؤں!! ہمارا انداز یہ ہونا چاہیے کہ

ناصحا! کچھ کر نصیحت دل مرا گھبرائے ہے

دوست اس کو جانتا ہوں جو مجھے سمجھائے ہے

                             لیکن یہ تب کہا جائے جب واقعی ایسی کیفیت ہو کہ اس کے نہ سمجھانے کی وجہ سے دل گھبرارہا ہو ، ورنہ پھر یہ جھوٹ ہوجائے گا۔ بعض اوقات ناصحا یعنی نصیحت کرنے والے کے زیادہ سمجھانے کی وجہ سے یہ کیفیت ہوتی ہے کہ

ناصحا! بس کر نصیحت دل مرا گھبرائے ہے

                                                ناصحا کا انداز نرم ، پیار محبت بھرا اور ہمدردی والا ہونا چاہیے۔ جسے سمجھانا ہے اسے تنہائی میں سمجھائیں ، ورنہ سب کے سامنے سمجھانے کی صورت میں اسے ضد چڑھ سکتی ہے ، برا لگ سکتا ہے اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوسکتا ہے۔ آج کل اگر کسی کو سمجھانا ہو تو سوشل میڈیا کے ذریعے سمجھایا جاتا ہے ، اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ سامنے والا سمجھنے کے بجائے غصے میں آتا ہے ، ظاہر ہے اس طرح سمجھانا ثواب کا کام نہیں ہے ، بلکہ یہ انسان کو ڈی گریڈ کرنا ہے۔ بعض اوقات صورت حال ایسی ہوتی ہے جس میں اعلانیہ سمجھانا ضروری ہوتا ہے ، لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ اگر کسی سے تحریر یا تقریر میں غلطی ہوجائے تو اس کا آسرانہیں کیا جاتا ، بلکہ اس کی غلطی کو خوب اچھالا جاتا ہے ، جبکہ جس کی غلطی ہوتی ہے اسے معلوم ہی نہیں ہوتا اور ہرطرف دھوم دھام ہونے کے بعد اسے پتا چلتا ہے کہ مجھ سے یہ غلطی ہوئی تھی ، حالانکہ جس کی غلطی ہے اس کی طرف رخ ہونا چاہیے ، لیکن ہمارا رخ عوام کی طرف ہوجاتا ہے۔ یہ ہمارا مزاج بن چکا ہے اور عزت اچھالنا نَعُوْذُ بِاللّٰہ! ایک مشغلے کی صورت اختیارکرگیا ہے۔ اللہ پاک ہمیں آخرت کی رُسوائی اور ذلّت سے بچائے۔ جو دوسروں کو ذلیل کرتے ہیں وہ اپنی آخرت کے لئے ذلّت اور رُسوائی کا سامان کرتے ہیں ، بلکہ  بعض اوقات دنیا میں بھی ایسے لوگوں کی ایسی رُسوائی ہوتی ہے کہ یاد کرتے ہوں گے۔ ہمیں بس  اللہ پاک   کی رحمت پر نظر رکھنی چاہیے اور دوسروں کی عزت ڈھکنی چاہیے۔ عزت اچھالنے کے فضائل نہیں ہیں ، البتہ عزت بچانے اور عیب چھپانے کے فضائل ضرور ہیں۔ ([2])  آج تک جس کی بے عزتی کی ہے اس سے معافی بھی مانگیں اور توبہ بھی کریں۔ اعلانیہ بے عزتی کی تھی تو اعلانیہ توبہ کریں ،



[1]   یہ سُوال شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنت کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اَہلِ سنَّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا عطا فرمودہ  ہی ہے۔ (شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنت)

[2]   رسولِ اکرم  صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے اِرشاد فرمایا : ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظُلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے اللہ  پاک اُس کی حاجت پوری کرتا ہے اور جو کسی مسلمان کی تکلیف دُور کرے اللہ  پاک قِیامت کی تکالیف میں سے اُس کی تکلیف دُور  فرمائے گا اور جو کسی مسلمان کی عیب پوشی کرے تو اللہ  پاک قیامت کے روز اس کی عیب پوشی فرمائے گا ۔

 (بخاری ، کتاب المظالم والغصب ، باب لا یظلم المسلمُ المسلمَ ولا یسلمه ، ۲ / ۱۲۶ ، حدیث : ۲۴۴۲)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن