30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1)آگ میں جل کر جس کا انتقال ہو وہ شہید ہوتا ہے۔ ([1]) کرنٹ لگنے سے جس کا انتقال ہو اس کے بارے میں کچھ پڑھا نہیں ہے۔ اگر چہ یہ بھی آگ ہی کی ایک صورت ہے ، لیکن اس بارے میں اپنی سوچ اور قیاس سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اللہ پاک آپ کے دوست کو غریقِ رحمت کرے اور بے حساب بخشے۔ آپ بھی ان کے لئے مغفرت کی دعا کیا کریں اور اپنا بھی خیال رکھا کر یں۔ جب بارشیں ہوتی ہیں تو تار پانی پی لیتے ہیں ، اس وقت بے احتیاطی یا جلد بازی کی وجہ سے گیلے ہاتھ لگانے یا کسی اور سبب سے نصیب میں لکھا ہو تو حادثہ ہوجاتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کرنٹ پکڑ لیتا ہے اور بہت مشکل ہوجاتی ہے ، جبکہ کبھی کرنٹ دھکا مار کر گرا دیتا ہے یا جھٹکے سے اٹھا کر پھینک دیتا ہے ، اس میں بچت کی صورت زیادہ ہوتی ہے۔ بہرحال جو بھی صورت ہو ہم اللہ پاک سے عافیت کا سُوال کرتے ہیں۔
(2)کنڈے لگانا بجلی کی چوری ہے ، نیز یہ ناجائز اور گناہ کا کام ہونے کے ساتھ ساتھ قانونا جرم بھی ہے۔ اس سے بچنا ہی ہوگا۔ اللہ پاک رزاق اور روزی دینے والاہے۔ ہمیں ناجائز کی طرف دیکھنا بھی نہیں چاہیے۔ ہم اپنے پیٹ میں آگ کیوں بھریں! اور اپنے بچوں کے پیٹ میں گندی غذا کیوں ڈالیں! اللہ کی رحمت سے حلال روزی کمانے کے مواقع موجود ہیں ، حلال روزی کمائیں اور کنڈے لگانے سے بچیں۔ میٹر بند کرنے یا میٹر Slow کرنے جیسی کوئی بھی صورت جس سے بجلی فراہم کرنے والے ادارےکو نقصان ہو اس سے بچنا ہے۔ بجلی فراہم کرنے والا اِدارہ بھی ہمارا ہے ، یہ ملک اور وطن بھی ہمارا ہے اور ہم اس کے باشندے ہیں۔ ہم سب کو مل کر اپنے وطن کی تعمیر میں حصّہ لینا چاہیے اور اس کو نقصان پہنچانے سے بچنا چاہیے۔
(اس موقع پر نگرانِ شوریٰ نے عرض کی : ) جو لوگ ایسے کام سے بچنا چاہتےہیں وہ بعض اوقات سامنے والے کو کہتے ہیں کہ یار میں تو نہیں کروں گا ، کسی اور سے کروالو۔ ‘‘ ایسا کہنے سے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟
(امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا : ) یہ اگرچہ بظاہر گناہ کا کام کرنے سے بچ رہا ہے ، لیکن گناہ کرنےکا مشورہ دے رہا ہے اور گناہ کا مشورہ دینا بھی گناہ ہوتا ہے۔ اس سے بھی بچنا ہوگا۔ جیسے کسی سے کہا کہ ’’بھائی گانے آہستہ بجاؤ! کیا کان کے پردے پھاڑ رہے ہو‘‘ اس میں سامنے والے کو گانا بجانے کی اجازت دی جارہی ہے کہ تم گناہ کررہے ہو اس سے مجھے غرض نہیں ہے ، بس آہستہ گانا بجالو ، کیونکہ مجھے تکلیف ہورہی ہے۔ حالانکہ کہنا یہ چاہیے تھا کہ گانا مت بجاؤ!‘‘ آپ نے اچھی توجہ دلائی ، بہت سارے معاملات ایسے ہوتے ہیں جن میں بندہ دوسرے کو گناہ کی اجازت دے رہا ہوتا ہے۔
سُوال : حضور! میرے پاس آپ کا تقریباً 35سال پرانا شجرہ شریف موجود ہے۔ یہ ارشاد فرمائیے کہ شجرہ کیا ہوتا ہے؟ طریقت میں اس کی کیا اہمیت ہے؟ پیر صاحبان اپنے مریدوں کو شجرہ کیوں دیتے ہیں؟ ایک مرید کے لئے اپنے پیر صاحب کی طرف سے دئیے گئے شجرے کو پاس رکھنے اور پڑھتے رہنے کے کیا کیا فوائد اور برکات ہیں؟ نیز آپ نے شجرہ عطاریہ کب کیسے اور کن باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب فرمایا؟(سید خالد حسین عطاری۔ گارڈن ، کراچی)
جواب : ایک شجرۂ نسب ہوتا ہے جس میں باپ ، دادا ، پردادا اور اس سے اوپر تک کے لوگوں کے نام موجود ہوتے ہیں۔ ایک شجرۂ طریقت ہوتا ہے اس میں پیر صاحب ، دادا پیر صاحب اور ان سے اوپر جو جو پیر صاحبان رہے سب کے نام لکھے ہوتے ہیں ، یہاں تک وہ سلسلہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمارے ہاں منظوم شجرہ بھی موجود ہے کہ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم سے ذکر خیر شروع ہوتا ہے اور نیچے تک چلتا چلا آتا ہے۔ شجرہ پڑھنے کی بہت برکتیں ہیں۔ شجرے میں اوراد و ظائف بھی ہوتے ہیں جنہیں پڑھنے سے بہت فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
جب دعوت اسلامی شروع ہوئی تو میں اسلامی بھائیوں کو سنتوں پر عمل کی ترغیب دلاتا تھا اور اسلامی بھائی بھی جذبے والے ہوتے تھے۔ بہار شریعت کے 16ویں حصّے میں مَاشَآءَ اللہ بہت ساری سنتیں موجود ہیں۔ میں وہاں سے دیکھ کر سنتیں بیان کیا کرتا تھا۔ میرے ذہن میں آیا کہ کیوں نا ایک شجرہ مرتب کروں جس میں مختلف چیزوں جیسے لباس پہننے ، جوتا پہننے اور ناخن کاٹنے وغیرہ کی سنتیں شامل کروں ، تاکہ جو میرے ذریعے سلسلہ قادریہ میں مرید ہوں وہ اس سے فائدہ اٹھائیں اور سنتوں کی معلومات حاصل کریں۔ چنانچہ میں نے یہ کام شروع کردیا ، لیکن وہ بڑھتے بڑھتے اتنا بڑھا کہ آپ مانیں یا نہ مانیں ، شجرہ تیار ہونے کے بجائے وہ فیضان سنّت بن گئی ، حالانکہ یہ کام میں نے شجرہ کےلئے شروع کیا تھا۔ بہرحال! شجرہ بھی الگ سے چھاپا گیا ہے اور پہلے والے شجرے کے مقابلے میں موجودہ شجرے میں دعائیں بھی زیادہ ہیں ، نیز اس شجرے میں تخریج کا کام بھی کیا گیا ہے۔ پہلےوالا شجرہ نہ جانے کس کا مرتب کردہ تھا؟ اب تو وہ شجرہ اینٹک پیس بن چکا ہے اور تاریخی نشانی بن گیا ہے ، کیونکہ کوئی پرانا اسلامی بھائی ہو تو اس کے پاس وہ شجرہ ہوگا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی 100 سال بعد پرانا شجرہ نکال کر دکھائے اور کہے کہ یہ شجرہ ہمارے دادا جان چھوڑ کر دنیا سے گئے ہیں۔ ویسے ہمارے ہاں لوگ شجرہ چھوڑ کر نہیں جاتے ، بلکہ قبر میں ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ قبرمیں چہرے کی طرف دیوار میں طاق بنا کر شجرہ رکھا جاتا ہے اور اس کی بہت برکتیں ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع