دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Masjid Se Chappal Chori Ho Jay To Kia Karain? | مسجد سے چپل چوری یو جائے تو کیا کریں؟

book_icon
مسجد سے چپل چوری یو جائے تو کیا کریں؟

جواب : آج کل تو کئی بڑوں کو پتا نہیں ہوتا کہ وعدہ کیا ہوتا ہے؟ تو بچوں کو کیسے پتا ہوگا کہ وعدہ اور قسم کیا چیز ہیں؟ آپ بچے سے کہیں گےکہ ’’قسم کھاؤ‘‘ تو وہ بولے گا کہ میں قسم بھی کھاؤں گا ، بسکٹ بھی کھاؤں گا اور چاکلیٹ بھی کھاؤں گا۔ بچّے وعدے کو نہیں سمجھ سکتے۔ بچّے کو یوں سمجھایا جائے کہ ’’آئندہ نہیں کرنا ، ٹھیک ہے!‘‘ یا جس چیز میں اس کی رَگ دَبتی ہو تو اس کے نہ دینے کا کہہ دیا جائے ، جیسے ’’اگر آئندہ یہ کام کروگے تو ٹافی مانگنے نہیں آنا۔ ‘‘ایسا کرنا وعدے کے مقابلے میں زیادہ پاور فل ہوگا ، لیکن اس میں یہ احتیاط لازمی کرنی ہوگی کہ یوں نہ کہیں کہ ’’میں ٹافی نہیں دوں گا‘‘کیونکہ جب وہ مانگنے آئے گا تو دینی پڑے گی اور آپ کے ذہن میں بھی یہ ہے کہ جب آئے گا تو دےدوں گا ، اس لئے یہاں “ نہیں دوں گا “ کہنے سے مسئلہ ہوجائے گا۔ ہاں اگر واقعی ارادہ ہو کہ ’’نہیں دوں گا‘‘ تو الگ بات ہے۔ البتہ جھوٹی  دھمکی دینا صحیح نہیں ہے۔ جھوٹ توجھوٹ ہے ، اس لئے بچے کو یہ نہیں بولنا چاہیے کہ ’’وعدہ کرو۔ ‘‘لیکن اگر کسی نے اپنے بچے کو کہا کہ وعدہ کرو تو وہ گناہ گار نہیں ہوگا۔ بچوں کو جھوٹ سے بچانے کے لئے تربیت کرنی چاہیے اور انہیں جھوٹ سے اس قدر گھن دِلانی چاہیے کہ ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ ’’جھوٹ بہت بری چیز ہے ، اس سے بچنا ہے۔ ‘‘اسی طرح بچے کو وعدے کے بارے میں بھی سمجھائیں کہ “ جب وعدہ کرتے ہیں تو اسے پورا کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ “ پھر بھی کسی کے سمجھانے کے بعد اگر کوئی بچّہ وعدہ کرے اور اس کا خلاف کردے تو بچّہ گناہ گار نہیں ہوگا۔

چھوٹے بچّے کو دھوکا دینا کیسا؟

سُوال : چھوٹے بچے ضد کرتے ہیں کہ ابّو کے ساتھ باہر جانا ہے۔ ابّو یہ کرتے ہیں کہ بیٹھک والے دروازے سے اندر جاتے ہیں اور دوسرے دروازے سے باہر نکل جاتے ہیں۔ بچےّ کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ابّو بیٹھک میں گئے ہیں۔ کیا یہ بچّے کو دھوکا دینے کے زُمرے میں آئے گا؟ (محمد قاسم عطاری۔ جامعۃ المدینہ علی پور ، اسلام آباد ، پاکستان)

جواب : یہ بچّے کو دھوکا دینا ہے اور بچّے کو دھوکا دینے کی تربیت بھی ہے ، کیونکہ جب بچّہ بیٹھک میں جاکر دیکھے گا کہ ابّو نہیں ہیں تو سمجھ جائے گا کہ ابّو نے مجھے دھوکا دیا ہے ، یوں اسے دھوکا دینے کی تربیت ملےگی۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بڑوں نے باہر نہیں جانا ہوتا ، اس کےباوجود کپڑے پہنے یا عمامہ پہن کر چادر اُٹھائی جس سے بچّے کو یہ تأثر ملا کہ باہر جارہے ہیں ، اب اس بچّے نے ضد کرنا شروع کی تو واپس عمامہ وغیرہ اتار کر بیٹھ گئے۔ یوں خوامخواہ بچے کو چڑانے کےلئے ایسا کرنا بھی دھوکا ہے۔ اس کا Side effect  (یعنی منفی اثرات) یہ ہوتا ہے کہ چونکہ بچّے سادہ لوح ہوتے ہیں اورجو دیکھتے ہیں ا س سے سیکھتے ہیں ، تو ایسی چیزیں دیکھنے کے بعد یہ چیزیں بڑے ہوکر ان کی زندگی کا بھی حصّہ بن جاتی ہیں اور وہ بھی دھوکا دینا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کے انداز تقریباً تمام گھروں میں ہوتے ہی ہیں۔ آدمی کو خود سوچنا چاہیے  کہ میں جو کرنے لگا ہوں اس میں کوئی جھوٹ یا دھوکا تو نہیں؟ اگر عقلِ  سلیم ہوئی تو سمجھ آجائے گی۔ اللہ کرے کہ ہمیں عقلِ سلیم مل جائے۔

کیا عاجزی میں جھوٹ چھپا ہوتا ہے؟

سُوال : “ عاجزی میں جھوٹ چھپا ہوتا ہے “ یہ بات کہاں تک دُرُست ہے؟ (Facebook کے ذریعے سُوال)

جواب : عاجزی کے طور پر جھوٹ بولنا جائز ہے۔ ([1]) مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اسے عبادت لکھا ہے۔ ([2]) ہمارے علما عاجزی کرتے ہوئے اپنے آپ  کوفقیر کہتے ہیں۔ البتہ علما اپنے لئے عاجزی کے جو الفاظ اِستِعمال کریں وہ ہم نہیں بول سکتے ، کیونکہ اس سے علما کی توہین ہوگی اور دل آزاری کی صورت بنے گی۔ جیسے اگر کوئی اپنے آپ کو گناہ گار بولتا ہو اور ہم بھی اسے گناہ گار بولنا شروع کردیں “ او بھائی گناہ گار! “ تو اس سے دل آزاری ہوگی۔ عاجزی میں ریاآجانے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اگر کوئی اس لئے عاجزی کرتا ہے کہ  لوگ  اسے بولیں : “ حضرت بڑی عاجزی فرماتے ہیں ، بڑے نیک بندے ہیں “ تو وہ گناہ گا رہے۔ بعض جھوٹ  حرام نہیں ہوتے ، بلکہ بعض اوقات جھوٹ بولنا واجب ہوتا ہے ، جیسے کوئی مسلمان بھائی آپ کے سامنے کہیں چھپ گیا اور اس کے پیچھے کوئی ہتھیار لے کرآیا جو اسے مارنا چاہتا ہےاور آپ سے پوچھا کہ “ کہاں گیا؟ “ تو اب یہاں جھوٹ بولنا واجب ہے۔ ([3]) اگر جھوٹ نہیں بولیں گے تو گناہ گار ہوں گے ، کیونکہ سچ بولنے کی وجہ سےمسلمان کی جان چلی جائے گی۔ ایسے موقع پر جھوٹ بول دیں کہ ’’میں نے نہیں دیکھا۔ “ یا موقع کی مناسبت سے کوئی توریہ([4]) ذہن میں آئے تو توریہ کرلیں۔ ہجرت کے موقع پر کفّار ناہنجار جب نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کو ڈھونڈتے ہوئے آئے اور حضرتِ سیِّدُنا صدیقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ سے پوچھا : “ یہ کون ہیں؟ “ تو آپ نے ان کفّار سے فرمایا : “ میر ے راہ نُما ہیں ، مجھے راستہ دکھاتے ہیں۔ “ ([5])

چشتی کا  قادری سلسلے میں مرید ہونا کیسا؟

 



[1]   مراٰۃ المناجیح ، ۶ / ۴۵۴۔

[2]   مراٰۃ المناجیح ، ۶ / ۴۵۴۔

[3]   بہار شریعت ، ۳ / ۵۱۸ ، حصّہ : ۱۶۔

[4]   توریہ سے مراد : ایسالفظ یافعل جس کے ظاہری معنی کو چھوڑکر دوسرا معنی مرادلیاجائے جو صحیح ہے۔ مثلاً کسی کو کھانے کے لیے بلایا وہ کہتا ہے میں نے کھانا کھالیا۔ اس کے ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس وقت کا کھانا کھالیا ہے مگر وہ یہ مراد لیتا ہے کہ کل کھایا ہے۔ یہ بھی جھوٹ میں داخل ہے۔

 (بہار شریعت ، ۳ / ۵۱۸ ، حصّہ : ۱۶)

[5]   بخاری ، کتاب مناقب الانصار ، باب ھجرة النبی و اصحابه الی المدینة ، ۲ / ۵۹۶ ، حدیث : ۳۹۱۱۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن