30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گے۔ اگر نیچے رہنےوالا کچھ کام کروائے گا تو بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا ، کیونکہ اس سے چھت میں پانی بھرے گا اور چھت مزید کمزور ہوجائے گی۔
چھت سے پانی ٹپکنے کا مرحلہ بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ بارش میں بھی اگر چھت ٹپکنا شروع کردے تو مزہ نہیں آتا۔ اگر واش روم کی چھت ٹپکے گی تو بہت زیادہ تکلیف ہوجائے گی اور حسّاس طبیعت کا آدمی تو کپڑے بدل بدل کر اور نہا نہا کر تھک جائے گا۔ جس کے گھر میں پانی ٹپک رہا ہے اسے لڑنا نہیں چاہیے اور دل بڑا رکھنا چاہیے۔ اگر اوپر والا نہیں مانتا اور کام نہیں کرواتا تو آپ اسے دعائیں دیں اور خود کام کروالیں۔ ہم کسی کو ر احت پہنچائیں گے تو کل ہمارے بھی قبر و آخرت کا سامان ہوگا۔ لوگ تو ایک ایک پیسے کے لئے لڑتے ہوتے ہیں ، بلکہ کوئی وجہ نہ بھی ہو تب بھی لڑتے نظر آتے ہیں۔ میں بھی فلیٹوں میں رہا ہوں اور اپنے پڑوسیوں سے تکلیفیں بھی اُٹھائی ہیں۔ ایک بار تو کسی نے میری کمرے کے بالکل مُنہ پر کوئی ساؤنڈ سسٹم لگاکر زور زور سے بجانا شروع کردیا تھا ، حالانکہ سننے والا کوئی نہیں تھا۔ اسی طرح ایک بار اوپر رہنے والے شخص نے ڈِرل مشین سے چھت میں سوراخ کردیا تھا۔ میری اس کے رشتہ دار سے اچھی سلام دعا تھی ، چنانچہ میں نے اس سے کہا کہ دیکھو یار! کتنا ستارہا ہے ، ہم کیا کریں! آج کی تاریخ تک بھی مجھے یاد نہیں ہے کہ اس شخص کو آخر تکلیف کیا تھی؟ جب میں چھوٹا تھا اس وقت بھی بعض پڑوسیوں نے ایسی ایسی تکلیفیں دی ہیں جو مجھے اب بھی یاد آرہی ہیں۔ جس نے بھی تکلیف پہنچائی اللہ پاک اس کا بھلاکرے۔ میں نے ستانے اور تکلیفیں دینے والوں کے حقوق معاف کردئیے ہیں ، لیکن ظاہر ہے کہ میں گھر میں اکیلا نہیں رہتا۔ گھر کے کئی افراد تو دنیا سے چلے گئے ، کئی ستانے والے بھی دنیا سے چلے گئے ہوں گے۔ اللہ پاک سب کی مغفرت کرے۔ سب کے بھلے میں اپنا بھلا۔ ایسا ہونا چاہیے کہ ہم کسی کا برا نہ چاہیں۔ کوئی تکلیف دے بھی تو آدمی برداشت کرے۔ وہ تھپڑ مارے تو اگر حوصلہ ہےتو کہہ دیں کہ دوسرا بھی مارلو۔ یہ بہت میٹھا طنز ہے ، اگلا دوسرا تھپڑ نہیں مارے گا ، بلکہ شرما جائے گا۔ اپنی طاقت کا مظاہر نہیں کرنا چاہیے۔ طاقت تو چوہے میں بھی ہوتی ہے۔ اگر چوہا اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا شروع کردے اور اچھل اچھل کر حملہ کرنے لگے تو سارا مجمع بھاگتا پھرے۔ اللہ کا شکر ہے کہ یہ چوہے ، بلی وغیرہ ساری مخلوقات ہم سے ڈرتی ہیں ، شیر بھی ہم سے ڈرتا ہے ، اگر ڈرتا نہ ہوتا تو کب کا سب کو کھا ڈالتا۔ ہاں! شیر کو اگر کوئی ستائے تو پھر اس کی خیر نہیں ہوتی۔ جنات بھی ہم سے ڈرتے ہیں ، ورنہ یہ ہمیں چین سے بیٹھنے نہ دیں۔ جنات کی تعداد ہم سے نو گنا زیادہ ہے ، یعنی ایک انسان کے مقابلے میں نو جنات ہوتے ہیں۔ ([1]) جنات میں بھی ایک سے ایک شریف ، بلکہ علما اور اولیائے کرام جنّ بھی ہوتے ہیں۔ جس طرح ہر انسان دہشت گرد اور چور نہیں ہوتا ، اسی طرح ہر جنّ شرارتی نہیں ہوتا۔
نماز نہ پڑھنے والے پیر کی بیعت کرنا کیسا؟
سُوال : جو نماز نہیں پڑھتا کیا اس سے بیعت کی جاسکتی ہے؟ (SMS کے ذریعے سُوال)
جواب : پیر ہونے کےلئےچار شرائط ہیں : ([2]) (1)صحیح العقیدہ سُنّی ہونا : یعنی اس کے عقائد بالکل دُرُست ہوں ، اللہ پاک اور اس کے نبی کی توہین نہ کرتا ہو ، ہر صحابی پر آنکھیں بند ہوں ، کسی بھی صحابی کے بارے میں گستاخی کرنے والا نہ ہو۔ (2)عالمِ دین ہونا : یعنی تمام تر عقائد سے واقف ہو اور ضرورت کے مسائل بھی جانتا ہو۔ اگر کوئی شرعی مسئلہ درپیش ہوتو دوسروں کی مدد کے بغیر مسئلہ نکالنے پرقدرت رکھتا ہو۔ (3)پیر کا سلسلہ ، طریقت میں نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم سےملتا ہو ، یعنی پیر کے لئے سید ہونا ضروری نہیں ہے ، جیسے حضرتِ سیِّدُنا صدیقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بہت بڑے پیر ہیں ، اگر چہ ان کے بارے میں لفظ پیر استعمال نہیں کیا جاتا ، لیکن آپ سے سلسلۂ نقشبندیہ چلا([3]) اور بعد میں یہ حضرتِ سَیِّدُنا خواجہ بہاؤ الدین نقشبند رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے آگے بڑھا۔ حضرتِ سیِّدُنا صدیقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی اولاد میں سے نہیں ہیں ، یعنی سید نہیں ہیں ، پھر بھی آپ سے طریقت کا سلسلہ چلا۔ یاد رہے! تمام انبیا عَلَیْہِمُ السَّلَام کے بعد انسانوں میں سب سے افضل ہستی حضرتِ سیِّدُنا صدیقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی ہے ، حتی کہ آپ تمام سیّدوں سے بھی افضل ہیں۔ ([4]) (4)فاسقِ معلن نہ ہو : یعنی علی الاعلان فسق نہ کرتا ہو۔ جو شخص نماز نہیں پڑھتا وہ بہت بڑا فاسق ہے ، ([5]) اس کی صحبت میں بھی نہیں بیٹھنا چاہیے ، ایسے شخص کو پیر کیسے بنایا جاسکتا ہے!! پیر کی تعظیم کی جاتی ہے ، جبکہ فاسق کی تعظیم نہیں کی جاتی ، ([6]) لہٰذا بے نمازی کو پیر نہیں بنا سکتے۔
سُوال : جب کوئی چھوٹا بچّہ شرارت کرتا ہے تو ہم اسے کہتے ہیں : “ وعدہ کرو! آئندہ یہ کام نہیں کروگے۔ “ چھوٹے بچّوں سے اس طرح وعدہ لینا کیسا ہے؟ (طاہر ندیم مغل۔ جرمنی)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع