30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمانِ عبرت نشان ہے : “ اُس شخص پر جنّت حرام ہے جو فحش گوئی سے کام لیتا ہے۔ “ ([1])
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! فحش گوئی کتنی بُری اورخطرناک آفت ہے ، لہٰذا ہر اسلامی بھائی اور اسلامی بہن فحش گوئی سے بچنے کی بھرپور کوشش کرے۔ اگر چہ ذہن میں خیالات آتے ہیں اور ان خیالات پر کسی کو قدرت بھی حاصل نہیں ہے ، لیکن ان سے بچنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیں ، ان خیالات کی طرف بالکل توجہ نہ دیں اور اس طرح کے خیالات کو فوراً دفع کرکے کسی اور جانب متوجہ ہوجائیں۔ اللہ کریم ہمیں فحش گوئی اور دیگر گناہوں بھری عادتوں سے نجات بخشے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
آئیں نہ مجھے وَسْوَسے اور گندے خیالات
دے ذہن کا اور دل کا خدا قفلِ مدینہ (وسائلِ بخشش)
ٹیلی فون ڈائریکٹری کے صفحات میں پان لپیٹنا کیسا؟
سُوال : ٹیلی فون ڈائریکٹری کی کتابیں شیشے صاف کرنے یا پان لپیٹنے میں اِستِعمال ہوتی ہیں ، بعض اوقات ان پر “ محمد “ یا “ علی “ یا ایسے دیگر الفاظ تحریر ہوتے ہیں۔ ان کے اِستِعمال کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ ( آصف۔ کراچی )
جواب : اگر کسی کاغذ پر قرآنی آیت ، حدیثِ مبارکہ ، دینی مسئلہ یا کوئی دینی بات تحریر ہو تو اُس کا ادب کرنا ضروری ہے۔ ایسے کاغذ میں پان نہیں لپیٹنا چاہیے اور نہ ہی اسے پھینکناچاہیے ، بلکہ ایسے کاغذ کو ردّی میں بھی نہیں بیچنا چاہیے۔ البتہ اس کے عِلاوہ کوئی اور تحریر جو دینی نہ ہو اس کا اس طرح ادب کرنا لازمی نہیں ہے۔ ٹیلی فون ڈائریکٹری مذہبی کتاب نہیں ہوتی اور اس میں جہاں “ محمد “ یا “ علی “ لکھا ہوتا ہے اس سے مُراد یقیناً ہمارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم اور حضرتِ سَیِّدُنا مولا علی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی ذات نہیں ہوتی ، بلکہ کوئی دوسرا آدمی مراد ہوتاہے۔ اگر چہ ان حُروف کا بھی اِحتِرام کرنا چاہیے ، لیکن دونوں کے ادب میں فرق ہے۔ البتہ ان اَوراق میں بھی پان لپیٹنے سے بچنا چاہیے ، کیونکہ لوگ اسے پھینک دیں گے یا کچرا کنڈی میں ڈال دیں گے ، لہٰذا بچنا بہتر ہے۔
غریب کا راشن لے کر دُکان پر فروخت کردینا کیسا؟
سُوال : بعض مانگنے والے کہتے ہیں : ’’ہمیں راشن دلادو۔ ‘‘ لوگ انہیں راشن دلادیتے ہیں۔ اس کے بعد یہ لوگ کسی دُکان پر یا اسی دُکان پر جا کر کم قیمت میں وہ راشن بیچ دیتے ہیں۔ ایسا کرنا کیسا؟ (Facebook کے ذریعے سُوال)
جواب : یہاں گنجائش کی ایک بعید صورت نکل سکتی ہے ، وہ اس طرح کہ کسی ایسے حق دار نے جس پر سُوال کرنا حلال تھا کسی سے اس لئے راشن مانگا کہ رقم کے مقابلے میں راشن آسانی سے مل جاتا ہے ، جب راشن مل گیا تو ظاہر ہے کہ وہ چاول یا آٹا کچا تو نہیں کھا سکتا ، لہٰذا اس نے تیل ، گھی اور مرچ مسالے حاصل کرنے کےلئے راشن میں سے کچھ نکال کر بیچ دیا تو ایسا کرنا دُرُست ہے ، لیکن یہ بہت معیوب صورت ہے ، اس لئےاس سے بھی بچنا چاہیے۔ اگر کوئی شخص کسی سفید پوش آدمی کو اس طرح کرتے دیکھے تو اس کے بارے میں حسن ظنّ رکھے کہ اس کی کوئی مجبوری ہوگی۔ ہاں اگر کسی نے جھوٹ بولا کہ ’’گھر میں فاقہ ہے ، راشن دے دو‘‘ تو وہ گناہ گار ہوگا۔ گنجائش کی جو صورت بیان کی گئی ہے وہ بھی اسی کے لئے ہے کہ جس کو سُوال کرنا حلال ہو ، یعنی اس کے پاس ایک دن کے کھانے پینے کے لئے بھی کچھ نہ ہوتووہ سُوال کرسکتا ہے۔ ([2]) اگرکسی کے پاس ایک دن یا اس سے زیادہ کا کھانا موجود ہو تو اس کے لئے سُوال کرنا دُرُست نہیں ہے۔ ([3]) اگر ایسا شخص سُوال کرے گا تو اس کے لئے حدیث ِپاک میں ہے کہ “ جو شخص مال بڑھانے کيلئے سُوال کرتا ہے وہ انگارا مانگتا ہے ، اب چاہے کم مانگے يا زيادہ۔ “ ([4]) اس کے عِلاوہ ایک اور حدیثِ مبارکہ میں ہے : “ جو شخص اپنے اوپر سُوال کا دروازہ کھول لیتا ہے اللہ پاک اس پر محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ “ ([5]) لہٰذا بغیر کسی مجبوری کے سُوال کرنے سے بچنا چاہیے۔
کیا فوت شدہ بچے کا عقیقہ ہوسکتا ہے؟
سُوال : میرے دو بیٹے تھے جو فوت ہوگئے ، ان میں سے ایک دوسال کا تھا اور ایک چھ سال کا تھا۔ کیا ان کا عقیقہ ہوسکتا ہے؟ (اسلامی بہن کا SMS کے ذریعے سُوال)
جواب : اللہ کریم آپ کو صبر عطا فرمائے اور یہ دونوں بچے اپنے والدین کی شفاعت کرنے والے بنیں۔ عقیقہ اس وقت تک ہوسکتا ہے جب تک سانس جاری ہو ، یعنی زندہ کا عقیقہ ہوسکتا ہے ، ([6]) جبکہ یہاں بیٹوں کا انتقال ہوچکا ہے ، لہٰذا ان کا عقیقہ نہیں ہوسکتا۔
[1] موسوعة الامام ابن ابی الدنيا ، کتاب الصمت وآداب اللسان ، ۷ / ۲۰۴ ، حديث : ۳۲۵۔
[2] فتاوىٰ هندية ، کتاب الزکاة ، الباب السابع فی المصارف ، ۱ / ۱۸۷- ۱۸۸۔
[3] فتاوىٰ هندية ، کتاب الزکاة ، الباب السابع فی المصارف ، ۱ / ۱۸۸۔
[4] مسلم ، کتاب الزکاة ، باب کراھة المسألة للناس ، ص۴۰۱-۴۰۲ ، حديث : ۲۳۹۹۔
[5] ترمذی ، ابواب الزھد ، باب ماجاء مثل الدنیا مثل اربعة نفر ، ۴ / ۱۴۵ ، حدیث : ۲۳۳۲۔
[6] فتاویٰ امجدیہ ، ۳ / ۳۳۶۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع