دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Masjid Ki Safai Ki Fazilat | مسجد کی صفائی کی فضیلت

book_icon
مسجد کی صفائی کی فضیلت

ہمیں کوئی کیسا ہی آزار (یعنی تکلیف) پہنچاتا نام کو بھی ہمارے حق میں گِرفتار نہ ہوتا ۔  یوہیں اب اس حُرمت و عِصمت (یعنی اس عزت و عظمت اور پاکدامنی)کے بعد بھی جسے چاہے ہمارے حقوق چھوڑ دے ہمیں کیا مجالِ عُذر ہے مگر اس کریم رَحیم جَلَّ وَعَلَا کی رَحمت کہ ہمارے حقوق کا اِختیار ہمارے ہاتھ رکھاہے بے ہمارے بخشے مُعاف ہو جانے کی شکل نہ رکھی کہ کوئی سِتم رَسیدہ (یعنی مظلوم) یہ نہ کہے کہ اے مالِک میرے ! میں اپنی داد کو نہ پہنچا (یعنی مجھے اِنصاف نہ مِلا ) ۔  

حدیث میں ہے حضور پُرنور، سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :  دَفتر تین ہیں : ایک کی اللہ تعالیٰ کو کچھ پَروا  نہیں اور ایک دَفتر میں اللہ تعالیٰ کچھ نہ چھوڑے گا اور ایک دَفتر میں اللہ تعالیٰ کچھ نہ بخشے گا ، وہ دَفتر جس میں اَصلاً (یعنی بالکل)مُعافی کی جگہ نہیں وہ تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ شِرک ٹھہرانا ہے اور وہ دَفتر جس کی اللہ عَزَّوَجَلَّ  کو کچھ پَروا نہیں وہ بندے کا گناہ ہے خالص اپنے اور اپنے رب کے مُعاملہ میں کہ کسی دِن کا روزہ تَرک کیا یا کوئی نماز چھوڑ دی اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے مُعاف کر دے اور دَرگزر فرمائے اور وہ دَفتر جس میں سے اللہ تعالیٰ کچھ نہ چھوڑے گا وہ بندوں کا آپس میں ایک دوسرے پر ظُلم ہے کہ اس میں ضَرور بَدلہ ہونا ہے ۔ ([1])    

پیارے پیارے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ حقوقُ العباد کا مُعاملہ کتنا سخت ہے کہ جب تک بندہ مُعاف نہ کرے اللہ پاک بھی مُعاف نہیں فرماتا ۔  اگر کسی نے بِلا اِجازت دوسرے کی چپلیں یا کوئی بھی چیز اِستعمال کی ہو تو وہ  سچے دِل سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرے اور ہر ممکنہ صورت میں مالِک کو تلاش کر کے اس سے مُعافی بھی مانگے ۔  مالِک کی شناخت نہ ہونے یا اس کے دُنیا سے چلے جانے کی صورت میں اس کے لیے بکثرت دُعائے مغفرت اور اِیصالِ ثواب کرتا رہے ، اُمید ہے کہ بروزِ قیامت اللہپاک ان کے دَرمیان صلح فرما دے اور  وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے حق سے سَبُکدوش ہو جائے ۔  ہر اسلامی بھائی کو چاہیے کہ اِن کلمات کو اپنی دُعا کا حصہ بنا لے :  ”یااللہ عَزَّوَجَلَّ میری اور آج تک میں نے جس جس مسلمان کی حق تلفی کی ہے ان سب کی مغفرت فرما ۔ “اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم   

نہ نامے میں عبادت ہے نہ پلّے کچھ ریاضت ہے

اِلٰہی! مغفرت فرما ہماری اپنی رَحمت سے

اِلٰہی! واسِطہ دیتا ہوں میں میٹھے مدینے کا

                 بچا دُنیا کی آفت سے بچا عُقبٰی کی آفت سے       (وسائلِ بخشش)

یاد رکھیے ! حقوقُ العباد کی اَدائیگی کے ساتھ ساتھ حقوقُ اللہ کی اَدائیگی بھی اِنتہائی ضَروری  ہے ۔ کہیں شیطان یہ وَسوسہ نہ دِلائے کہ بس  لوگوں کو راضی رکھو خواہ رَبّ کی نافرمانی ہی کیوں نہ ہو ۔  یاد رہے کہ حقوقُ العباد بھی حقوقُ اللہ  سے ہیں کہ اللہ پاک نے ہی ان حقوق کو لازِم کیا ہے اور خالِق کی نافرمانی میں مخلوق کی اِطاعت نہیں کی جائے گی ۔ حدیثِ پاک میں ہے : لَا طَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللہِ اِنَّمَا الطَّاعَۃُ  فِی الْمَعْرُوْفِ یعنی اللہ پاک کی نافرمانی میں کسی کی اِطاعت جائز نہيں اِطاعت تو صِرف نیکی کے کاموں میں ہے ۔ ([2])لہٰذا حقوقُ اللہ اور  حقوق العباد دونوں کی اَدائیگی ضروری ہے ۔

مسجد میں  چپل لے کر جانا

سُوال : اِستعمالی  چپل مسجد میں لے کر جانے میں کیا اِحتیاط کرنی چاہیے ؟   

جواب : اِستعمالی چپل مسجد میں لے جانے کے متعلق اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : اگر مسجد سے باہر کوئی جگہ جوتا رکھنے کی ہو تو وہیں رکھے جائیں مسجد میں نہ رکھیں اور اگر باہر کوئی جگہ نہیں تو باہر  جھاڑ کر تلے مِلا کر ایسی جگہ رکھیں کہ نماز میں نہ اپنے سجدے کے سامنے ہو نہ دوسرے نمازی کے ، نہ اپنے دہنے ہاتھ کو ہوں نہ دوسرے نمازی کے ، نہ ان سے قطعِ صَف ہو اور ان سب پر قادِر نہ ہوں تو سامنے رکھ کر رومال ڈال دیں ۔  ([3]) 

مسجد میں داخِل ہوتے وقت اگر پاؤں میں مٹی کے ذَرّات وغیرہ لگے ہوں تو انہیں اچھی طرح چھڑا لیجیے اور وُضو کرنے کے بعد وُضو خانے پر ہی پاؤں خشک کر لیجیے ،پاؤں گیلے ہونے کی صورت  میں مسجد کا فرش اور دَریاں گیلی ہو کر بَدنُما ہو جاتی ہیں ۔

معتکفین   کی خِدمت کرنے میں خادمین کی نیت

سُوال  : معتکفین   کی خِدمت کرنے میں  خادمین کو کیا نیت کرنی چاہیے ؟

جواب : معتکفین کی خِدمت ہو یا کوئی سا بھی جائز  کام اس میں رِضائے اِلٰہی پانے اور ثوابِ آخرت کمانے وغیرہ کی نیت ہونی چاہیے ۔  حدیثِ پاک میں ہے : اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ یعنی



[1]    مسندامام  احمد ، مسند السیدة عائشة، ۱۰ / ۸۲، حدیث : ۲۶۰۹۰ ملتقطاً  دار الفکر بیروت

[2]    مسلم، کتاب الامارة، باب وجوب طاعة الامراء فی غیر معصیة...الخ، ص۷۸۹، حدیث : ۴۷۶۵

[3]    فتاویٰ رضویہ ، ۸ / ۱۰۹  

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن