30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے نئے جوتوں سے تبدیل کر لیے ہیں تو اب ان پُرانے جوتوں کو پہننے میں حَرج نہیں ۔
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1304 صَفحات پر مشتمل کتاب بہارِ شریعت جلد دُوُم صَفْحَہ 482 پر ہے : مَجْمَعوں یا مَساجد ميں اکثر جوتے بَدل جاتے ہیں ان کو کام ميں لانا جائز نہیں ۔ ہاں! اگر یہ کسی فقیر کو اگرچہ اپنی اولاد کو تَصَدُّق(یعنی صَدقہ) کر دے پھر وہ اِسے ہِبہ کر دے تو تَصَرُّف ميں لا سکتا ہے یا اس کا اچھا جوتا کوئی اُٹھا لے گیا اور اپنا خراب چھوڑ گیا کہ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے اُس نے قصداً (جان بوجھ کر) ایسا کیا ہے دھوکے سے نہیں ہوا ہے ،تو جب یہ شخص خَراب جوڑا اُٹھا لایا (تو اب) اس کو پہن سکتا ہے کہ یہ اُس کا عِوض ہے ۔
سُوال : اِجتماع میں کثیر اِزدِحام کے سبب کئی لوگوں کی چپلیں رہ جاتی ہیں،ان چپلوں کا کیا حکم ہے ؟
جواب : ایسی چپلیں لُقطے کے حکم میں ہوتی ہیں”لُقطہ اُس مال کو کہتے ہیں جو پڑا ہوا کہیں مِل جائے اور اُس کے مالِک کا عِلم نہ ہو ۔ “([1])اور اس کا حکم یہ ہے کہ ”مُلْتَقِط (گِری پڑی چیز اُٹھانے والے )پر بازاروں اور شارعِ عام ميں اتنے زمانے تک تشہیر لازِم ہے کہ ظَنِّ غالِب ہو جائے کہ مالِک اب تلاش نہ کرتا ہو گا ۔ یہ مُدَّت پوری ہونے کے بعد اُسے اِختیار ہے کہ لُقطہ کی حِفاظت کرے یا کسی مسکین پر صَدقہ کر دے ۔ اگر مسکین پر صَدقہ کرنے کے بعد مالک آ گیا تو اُسے اِختیار ہے کہ صَدقہ کو جائز کر دے یا نہ کرے اگر جائز کر دے گا تو ثواب پائے گا اور جائز نہ کیا تو اگر وہ چیز موجود ہے اپنی چیز لے لے اور ہلاک ہو گئی ہو تو اُسے اِختیار ہے کہ مُلْتَقِط سے تاوان لے یا مسکین سے ، جس سے بھی لے گا وہ دوسرے سے رُجُوع نہیں کر سکتا ۔ “([2])
اِجتماع گاہ میں رہ جانے والی چپلوں کے مالِک عموماً انہیں تلاش نہیں کرتے اور نہ ہی ان مالِکان کو تلاش کیا جا سکتا ہے لہٰذا اِنتظامیہ کو چاہیے کہ ان تمام چپلوں کو ایک مقام پر جمع کریں اور بہتر یہ ہے کہ مَدَنی مَراکز بلکہ اِجتماع گاہ میں گم شدہ اَشیاء کا مکتب قائم ہو، جس کو کوئی چیز ملے وہ وہاں جمع کروا دے اور جس کی کوئی چیز گم ہو جائے وہ وہاں سے طَلَب کرے ۔ اب کچھ عرصہ اِنتظار کرنے کے بعد بھی اگر مالِکان نہ آئیں تو کسی شَرعی فقیر کو ان کا مالِک بنا دے ۔ اب شَرعی فقیر مالِک بننے کے بعد چاہے تو وہ خود اِستعمال کرے یا مسجد، مدرسہ کے اِستعمال کے لیے رکھ دے ۔
مَساجد کے دَروازوں پر رَکھی ہوئی چپلیں پہننا
سُوال : مَساجد کے دَروازوں پر رَکھی ہوئی چپلیں پہن کر اِستنجا خانے جانا کیسا ہے ؟
جواب : مَساجد کے دَروازوں پر رَکھی ہوئی وہ مخصوص چپلیں جو اِنتظامیہ کی طرف سے نمازیوں کے اِستعمال کے لیے ہی ہوتی ہیں انہیں پہن کر بیتُ الخلا جانے میں کوئی حَرج نہیں کیونکہ وہ رَکھی ہی اِسی مقصد کے لیے جاتی ہیں ۔ اِنتظامیہ کو چاہیے کہ ان مخصوص چپلوں پر کوئی خاص نشانی (مثلاً چپل کے اگلے حصے پر کٹ وغیرہ ) لگا کر رَکھیں تاکہ لوگوں کی ذاتی چپلوں اور ان میں اِمتیاز رہے ۔ یاد رہے کہ ان چپلوں کے لیے الگ سے رقم جمع کرنی ہو گی یا کسی مُخیر شخص سے تَرکیب بنانی ہو گی ۔
اگر اِنتظامیہ کی طرف سے مَساجد وغیرہ کے باہر اِستنجا خانے کے لیے مخصوص چپلیں نہ ہوں تو اب وہاں موجود چپلیں پہننے کی اِجازت نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ کسی نمازی کی ہوں اور بغیر مالِک کی اِجازت کے اُس کی ملکیت میں تَصَرُّف(اِستعمال)کرنا جائز نہیں ۔ فقہائے کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام فرماتے ہیں : کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ غیر کی ملکیت میں اُس کی اِجازت کے بغیر تَصَرُّف (اِستعمال) کرے ۔ ([3])
بِلااِجازت دوسروں کی چیزوں کے اِستعمال کرنے کا حکم
سُوال : اگر کسی نے بِلااِجازت دوسروں کی چپلیں یا کوئی اور چیز اِستعمال کر لی ہو تو اب وہ کیا کرے ؟
جواب : بِلا اِجازت کسی کی چپلیں پہن لینے کو عموماً بہت معمولی سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ بہت سخت مُعاملہ ہے کیونکہ اس کا تعلق حقوقُ العباد سے ہے ،بندہ جب تک اپنا حق مُعاف نہ کرے اللہ تعالیٰ بھی مُعاف نہیں فرماتا ۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 460 پر فرماتے ہیں : حقوقُ العباد میں بھی ملک دَیّان (حِساب لینے والے بادشاہِ حقیقی) عَزَّ جَلَالُہ نے اپنے دارُ العدل کا یہی ضابِطہ رکھا ہے (یعنی اللہ پاک کا قانون یہی ہے )کہ جب تک وہ بندہ مُعاف نہ کرے مُعاف نہ ہو گا اگرچہ مولیٰ تعالیٰ ہمارا اور ہمارے جان و مال و حقوق سب کا مالِک ہے اگر وہ بے ہماری مَرضی کے ہمارے حقوق جسے چاہے مُعاف فرما دے تو بھی عین حق و عدل ہے کہ ہم بھی اسی کے اور ہمارے حقوق بھی اسی کے مُقَرَّر فرمائے ہوئے ، اگر وہ ہمارے خون و مال و عزت و غیرہا کو معصوم و محترم نہ کرتا (یعنی قابلِ اِحترام نہ بناتا)تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع