30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
روشنی میں معلوم ہوا کہ مسجد میں SMS وغیرہ کے ذَریعے ضَرورتاً دُنیوی جائز گفتگو کی جا سکتی ہے ،اَلبتہ فحش اور بے حیائی پر مبنی گفتگو SMS کے ذَریعے کرنے کی بھی اِجازت نہیں کیونکہ ایسی گفتگو تو ہر وقت اور ہر جگہ منع ہے چہ جائیکہ مسجد میں جائز ہو اس سے سوشل میڈیا کا بے جا اِستعمال کرنے والوں کو عبرت حاصِل کرنی چاہیے ۔
یاد رہے ! جس چیز کا زبان سے ادا کرنا منع ہے اس کا لکھنا بھی منع ہے ۔ چنانچہ عَارِف بِاللہ سَیِّدی عبدُالغنی نابلسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : ہاتھ کی آفتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ کچھ لکھا جائے جس کا بولنا حرام ہے جیسے کسی معین شخص کے متعلق مَذَمَّت کے اَشعارکہنا،فحش باتیں، گالی گلوچ اور وہ واقعات جو اس قسم کی باتوں پر مشتمل ہوں اور کسی کو بُرا بھلا کہنا خواہ وہ نَثر میں ہو یا نظم میں اور گمراہ فِرقوں کے مَذاہب پر مشتمل کُتُب بغیر رَد کے لکھناوغیرہ وغیرہ اس لئے کہ بولنے والی زبان کی طرح قلم بھی ایک زبان ہے (جس کے ذَریعے اِظہارِ خیال ہوتا ہے )لہٰذا لکھنے کے وہی اَحکام ہوں گے جوبولنے کے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہوں گے کیونکہ لکھے ہوئے کلمات صفحات پر باقی رہتے اور نظر آتے ہیں جبکہ زبان سے نکلے ہوئے کلمات ہَوا میں منتشر ہو کر گم ہو جاتے ہیں اور باقی نہیں رہتے ۔ ([1])
میں بے کار باتوں سے بچ کے ہمیشہ
کروں تیری حَمد و ثنا یااِلٰہی (وسائلِ بخشش)
فِنائے مسجد کی تعریف اور اس کے اَحکام
سُوال : فنائے مسجد کی تعریف اور اس کے اَحکام اِرشاد فرمادیجیے ۔
جواب : فنائے مسجد وہ مکان ہے جو مسجد کے متصل (یعنی مسجد سے مِلا ہوا وہ حصّہ جو ضَروریاتِ مسجد کے لیے ) ہواور دَرمیان میں راستہ نہ ہو ۔ ([2]) مثلاً وُضُو خانہ ، اِستنجا خانہ،غسل خانہ ،مسجِد سے ملحق(یعنی بالکل ملے ہوئے ) اِمام و مُؤَذِّن کے حُجرے اور جُوتے اُتارنے کی جگہ وغیرہ یہ سب فنائے مسجد کے حکم میں داخِل ہیں ۔
فنائے مسجد کے اَحکام بیان کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنَّت، مُجَدِّدِ دِین و مِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : فصیلِ مسجد (یعنی مسجد کی چار دِیواری) بعض باتوں میں حکمِ مسجد میں ہے ۔ معتکف بِلاضَرورت اس پر جا سکتا ہے ۔ اس پر تھوکنے یا ناک صاف کرنے یا نجاست ڈالنے کی اِجازت نہیں، بیہودہ باتیں،قہقہے سے ہنسنا وہاں بھی نہ چاہئے اور بعض باتوں میں حکمِ مسجد نہیں ، اس پر اذان دیں گے اس پر بیٹھ کر وُضو کر سکتے ہیں جب تک مسجد میں جگہ باقی ہو اس پر نمازِ فرض میں مسجد کا ثواب نہیں، دُنیا کی جائز قلیل بات جس میں چَپْقَلش(لڑائی جھگڑا) ہو نہ کسی نمازی یا ذاکِر(یعنی ذِکر کرنے والے ) کی اِیذا اس میں حَرج نہیں ۔ ([3])
فنائے مسجد میں شور و غُل کرنا کیسا؟
سُوال : فنائے مسجد میں شور و غل کرنا کیسا ہے ؟
جواب : فنائے مسجد چونکہ مسجد کے تابع ہے اس لیے اس(کے بعض اَحکام) کا بھی وہی حکم ہے جو مسجد کا ہے ۔ ([4])لہٰذا فنائے مسجد میں شور و غُل کرنے اور قہقہہ لگانے سے بچنا چاہیے ۔ جس نے فنائے مسجد میں شور و غُل کیا یا قہقہہ لگایا ہو اسے اللہ پاک کی بارگاہ میں سچے دِل سے توبہ کرتے ہوئے آئندہ اِن کاموں سے اِجتناب کرنا چاہیے ۔
فنائے مسجد میں تھوکنا اور کچرا ڈالنا
سُوال : فنائے مسجد میں تھوک اور پیک ڈالنا کیسا ہے ؟نیز مسجد سے بالوں کے گچھے اُٹھا کر فنائے مسجد میں پھینک سکتے ہیں یا نہیں ؟
جواب : فنائے مسجد میں تھوک، پیک اور کسی قسم کی نجاست وغیرہ نہیں ڈال سکتے ۔ بعض لوگ بِلاتَکَلُّف مسجد اور فنائے مسجد کی دِیواروں کو پان گٹکے کی پیک سے رَنگین کر دیتے ہیں، انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ یہ صفائی و ستھرائی کے خِلاف ہے ۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے کہ ”مسجد کی دِیوار اور صحن حتّٰی کہ دَریوں کے اوپر یا نیچے تھوکنا منع ہے ۔ “ ([5])لہٰذا پان گٹکے کی پیک وُضو خانے کی نالی ہی میں ڈالیں وہ بھی اس اِحتیاط کے ساتھ کہ وُضو خانے کی دِیواریں بھی سُرخ اور بَدنُما نہ ہوں ۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!ہر ایک کو مسجد کا اَدب و اِحترام کرتے ہوئے اسے پاک و صاف رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے بالخصوص مَدَنی قافلے کے مُسافِر اور معتکفین اسلامی بھائی چونکہ مسجد ہی میں کھاتے پیتے اور سوتے ہیں لہٰذا انہیں مسجد کے اَدب و اِحترام اور صفائی وغیرہ کا خاص خیال رکھنا چاہیے ۔ اگر مسجد میں کسی قسم کا کوڑا کرکٹ مثلاً بالوں کے گچھے ، دھاگے اور تنکے وغیرہ پڑے نظر آئیں تو انہیں اُٹھا لیجیے اور فنائے مسجد میں بھی نہ ڈالیے بلکہ ہو سکے تو اپنی جیب میں ایک تھیلی رکھ لیجیے تاکہ اس قسم کی جو چیز نظر آئے وہ اُٹھا کر اس میں ڈالی جا سکے ۔ (شیخِ طریقت،امیرِ اہلسنَّت،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ
[1] حدیقة ندیة ، آفات الید، ۴ / ۴۵۳ ملخصاً دارالکتب العلمیة بیروت
[2] غنیة المتملی، مسائل متفرقة، ص۶۱۴ مرکز الاولیا لاھور
[3] فتاویٰ رضویہ، ۱۶ / ۴۹۵
[4] فتاویٰ ھندية ، کتاب الوقف، الباب الحادی عشر...الخ، الفصل الثانی فی الوقف ... الخ ، ۲ / ۴۶۲
[5] فتاویٰ هندية، کتاب الصلاة، الباب السابع فیمایکرہ...الخ، فصل کرہ غلق باب المسجد، ۱ / ۱۱۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع