30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا جِنَّات چیزیں چُھپاتے ہیں؟
سُوال : بعض اوقات گھر میں چىزىں گم ہو جاتی ہیں اور ملتى نہىں ہىں تو کىا جِنّات چىزىں بھى چُھپاتے ہىں ؟
جواب : جی ہاں!جِنّات چورىاں بھی کرتے ہیں ۔ بعض اوقات جِنّات دوستی بھی کرتے ہىں جىسا کہ بعض بابا جى لوگ جِنّات سے دوستى کرتے اور انہیں قابو میں رکھتے ہىں ۔ اگر جِنّات انہیں پىسے اور چىزىں لا کر دىں گے تو ظاہر ہے ىہ چورى کی ہوں گی ورنہ اور کہاں سے لائىں گے ؟بعض اوقات گھروں میں پیسے کتنے ہی چُھپا کر رکھے جائیں غائِب ہو جاتے ہیں، دَرحقیقت شیطان جِن انہیں غائِب کرتے ہیں اور گھروالوں کو لڑواتے ہیں ۔ ایسی صورت میں خاص طور پر بہو پر اِلزام لگایا جاتا ہے کہ اِس چُڑیل نے پیسے چُرائے ہیں اور زیور اُٹھایا ہے حالانکہ اسے خواب میں بھی پیسوں کا پتا نہیں ہوتا ۔ یُوں چیزیں غائِب ہونے پر تہمت لگ جاتی ہو گی اور گناہوں کا دَروازہ کُھل جاتا ہو گا، کبھی بیٹے پر اور کبھی بھائی پر اِلزام لگایا جاتا ہو گا کہ انہوں نے پیسے چُرائے ہیں ۔ یاد رَکھیے ! ہر بار پیسے وغیرہ جِن چُرائے یہ ضَروری نہیں کبھی ایسا بھی ہو تا ہو گا کہ واقعی کوئی اور پیسے چُراتا ہو گا ۔ بہرحال اىک دَم کسی پر تہمت لگا دىنا کہ اس نے پیسے چُرائے ہىں ىہ صحىح نہىں ہے جب تک کوئى واضح ثبوت یا قرىنہ نہ ہو، اور یہ کہنا بھی صحیح نہیں کہ اُس نے چُرائے ہوں گے ۔
خریدا ہوا پیک سامان خَراب نکلے تو کیا کرنا چاہیے ؟
سُوال : جب ہم بىکرى سے کوئی پیک سامان لیتے ہیں اور اُسے کھولتے ہیں تو بسااوقات وہ خَراب نکلتا ہے ۔ پھر جب ہم اُسے واپس کرنے جاتے ہیں تو بیکری والے تبدیل نہیں کرتے تو ایسی صورت میں ہمیں کىا کرنا چاہىے ؟
جواب : ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ دُکان پر ہى اُسے چىک کر کے لیا جائے ۔ اگر گھر میں جا کر چیک کرنے کے بعد واپس کریں گے تو دُکاندار نہیں مانے گا جبکہ خریدار قسمىں کھائے گا کہ مىں نے اس میں کچھ نہىں کىا ، گھر جا کر کھولا تو یہ خراب نکلا تو یوں جھگڑا ہو گا ۔ خریدنے والے کو چاہیے کہ وہ دکاندار سے پوچھ لے کہ مىں پیکٹ پھاڑ کر دىکھتاہوں اگر صحیح ہوا تو لوں گا ورنہ نہىں لوں گا ، اب اگر وہ اِجازت دے تو ہی پیکٹ پھاڑیں ورنہ بغیر اِجازت کے پھاڑىں گے تو جھگڑا ہو گا اور کاروبار مىں اىسا اَنداز اِختیار کرنا جائز نہىں ہے کہ جس کى وجہ سے جھگڑے کے اِمکانات پىدا ہوں ۔
”خریدا ہوا مال واپس نہیں کیا جائے گا“لکھ کر لگانا کیسا؟
(اِس موقع پر مَدَنی مذاکرے میں شریک مفتی صاحب نے فرمایا : )اگر چیز میں عیب ہے تو بھلے خریدار نے اسے دُکان پر کھول کر نہیں دیکھا دُکاندار پرواپس لینا لازِم ہے ۔ بہت سی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو دُکان پر نہیں کھولی جا سکتیں مثلاً جو چیزیں گفٹ پیک کے طور پر لی جاتی ہیں انہیں دُکان پرکھولنا ممکن نہیں ہوتا اور انہیں گھر پر آ کر ہی کھولنا پڑتا ہے اگر دُکان پر کھولیں گے تو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا ۔ عام طور پر مِعیاری جگہوں پر چیزوں کا خَراب نکلنا کم ہی ہوتا ہے اور جہاں ایسا ہوتا ہے وہاں بہت سے دُکاندار یہ لکھ کر لگا دیتے ہیں کہ خریدا ہوا مال واپس نہیں کیا جائے گا حالانکہ یہ کوئی اُصول ىا ضابطہ نہىں ہے بلکہ جو چىز خَراب ہے وہ دُکانداروں کو واپس کرنا ہى ہو گى ۔ اگر دُکاندار واپس نہ کرنا چاہیں تو اپنی طرف سے بَراءَت ظاہر کرتے ہوئے گاہک کو کہہ دیں کہ یہ چیز جیسی بھی ہے اسے ابھی دیکھ لو بعد میں واپس نہیں ہو گی، مگر یہ جو لکھ کر لگا دیتے ہیں کہ خریدا ہوا مال واپس نہیں کیا جائے گا یہ شرعی اِعتبار سے دُرُست نہیں ہے ۔
گاہکوں کی بھیڑ جماعت چھوڑنے کے لیے عُذر نہیں
سُوا ل : میں ایک دُکان پر کام کرتا ہوں، کبھى کبھا ر ہماری دُکان پر گاہکوں کا اتنا رَش ہو جاتا ہے کہ میں جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھ پاتا تو ایسی صورت میں جماعت کا چھوڑنا کىسا ہے ؟
جواب : اگر جماعت کا وقت ہو گىا اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے میں گاہکوں کى بھىڑ کے عِلاوہ اور کوئی رُکاوٹ نہیں ہے تو ىہ جماعت چھوڑنے کے لیے شَرعى عُذر نہىں ہے ، گاہکوں کو چھوڑ کر جماعت سے نماز پڑھنا واجِب ہے ۔ اگر کوئی گاہک کی وجہ سے جماعت چھوڑے گا تو گناہ گار ہو گا ۔ گاہک چھوڑ کر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے ذَرىعے اگر حرص و لالچ کی کاٹ نہىں ہو گی تو پھر کس کے ذَرىعے ہو گی ؟یاد رَکھیے ! اىسى نوکرى بھى جائز نہىں ہے جس مىں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے منع کىا جاتا ہو یا وہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے میں رُکاوٹ بنتى ہو ۔ البتہ اگر نوکری کسی ایسے مقام پر ہے کہ جہاں کوئى اىسى مسجد نہىں ہے کہ جس میں باجماعت نماز پڑھی جا سکے تو اس صورت میں اگر کسی نے وقت کے اَندر اَندر مکروہ وقت سے پہلے نماز پڑھ لى تو کوئى گناہ نہىں ہے ۔
کسی عزیز کے اِنتقال کے بعد شادی کب کی جائے ؟
سُوال : اگر شادی کی تاریخ طے ہونے کے بعد کسی عزیز کا اِنتقال ہو جائے تو پھر کتنے دِنوں بعد شادی کی جائے ؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع