دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Maan Baap Larain To Aulad Kia Karay | ماں باپ لڑیں تو اَولاد کیا کرے؟

book_icon
ماں باپ لڑیں تو اَولاد کیا کرے؟

سے ماں باپ کہتے ہوں کہ تم کسى کو مَت سمجھاؤ ۔  اگر  واقعی اىسا ہے تو پھر اپنى  اِصلاح کى بھى ضَرورت ہے ۔  سختى اور غصے سے  مُعاملات سلجھنے کے بجائے اُلٹا خَراب ہو جاتے  ہیں لہٰذا خوب غور و فکر کرنے کے بعد موقع محل کی مُناسبت سے حکمتِ عملی ، محبت اور حُسنِ اَخلاق کے ساتھ نیکی کی دعوت دینی چاہیے ۔

دارُ المدینہ کی اَہمیت و ضَرورت

سُوا ل : ہمارے مُلک مىںAlready(یعنی پہلے سے ) اسکول چل رہے تھے تو پھر دارُ المدىنہ کا آغاز  کىوں کیا گىا؟

جواب : دارُالمدىنہ کا اصل مقصد اِسلام کى رُوح کو باقى رکھنا اور بچوں کو اسلامى ذہن دىنا ہے تاکہ بچے دُنىوى تعلىم بھى حاصِل کرىں اور ساتھ ساتھ ان کو کلمہ ، نماز کى بھى شُد بُد رہے ۔  سُنَّتىں سىکھىں اور دُعائىں بھى ىاد کرىں، ماں باپ کاادب و  اِحترام کرىں، خاندان والوں سے رِشتہ جوڑیں، حُسنِ اَخلاق کے پىکر بنىں، ہمارے بچوں کا اِىمان محفوظ رہے ، اِسلام کے زَرِّىں اُصُولوں پر چلىں، سُنَّتوں کے مُطابق زندگى گزارنا سىکھىں، حلال روزى کمانے کے ذَرائع حاصِل کر سکىں  اور نىک مسلمان بن کر مُعاشرے مىں اُبھرىں ۔  ورنہ جو حالات ہىں اس پر میں کىا وضاحت کروں؟ دُنىا جانتى ہے کہ دُنىوى پڑھا لکھا آدمى اپنے والدىن کے ساتھ کس طرح  بَداخلاقى سے پیش آتا ہے ؟ جبکہ اَلْحَمْدُلِلّٰہ دِىنى تعلىم سے جو آراستہ ہو گا یا دِىنی و دُنىوی  دونوں تعلیم پڑھا ہو گا تو وہ اپنے ماں باپ کا اَدب و اِحترام سمجھے گا اور اسے بجا لائے گا، ان کى خدمت اپنے لىے سعادت تَصَوُّر کرے گا اس لىے دارُالمدىنہ کا قیام بہت ضَرورى ہے ۔ مىرى خواہش ہے کہ ہر گلى مىں 12 دارُالمدىنہ کھلىں، ىہ بطورِ مُبالغہ کہہ رہا ہوں  لیکن حقیقت میں دارُ المدینہ کی اتنى ضَرورت ہے ۔  

حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن سے مٹی اور کنکر لانا

سُوا ل : حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن سے مُقَدَّس مٹى  لانا دُرُست نہىں ہے تو پھر حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن  سے آبِ زَم زَم، کھجورىں اور دِىگر چىزىں لانا کىسا ہے ؟(کرناٹک ہند  سے سُوال)

جواب : ایسا کہنا کہ مَکَّۂ مُکَرَّمَہ و مَدىنۂ مُنَوَّرہ زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً کى مٹى لانا دُرُست نہىں یہ صحیح نہىں ہے ۔  مدىنے شرىف کى مٹى کے بارے مىں عُلَمائے کِرام  کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے مختلف اَقوال ہىں ۔ بعض عُلَما لانے کى اِجازت دىتے ہیں جبکہ بعض عُلَما منع کرتے ہیں لیکن اگر کوئى خاکِ مدىنہ یا کنکر اپنے وطن مىں لے آتا ہے تو یہ ناجائز نہىں ہے ۔  جو عُلَما منع کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ خاکِ مدینہ  مدىنے شریف کى زمىن کا ایک  حصہ اور جُزو ہے لہٰذا اسے  مدىنے شریف  سے جُدا نہ کیا جائے  کىونکہ اس مٹی کو مدىنے کى جُدائى کے سبب تکلىف ہوتى ہے ۔  ہر شے مىں اپنے اپنے حِساب سے حِس اورسمجھ ہوتى ہے ، جبھى تو قىامت کے دِن یہ چیزیں گواہىاں دىں گى ۔  

حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن سے کھجور اور دِیگر تبرکات لانا

کھجورىں چونکہ مدىنے شریف کا حصہ نہىں ہىں، یہ مدینے شریف میں مختلف شہروں سے آتى ہىں بلکہ اگر مدىنے شریف کى پىداوار ہوں تب بھى انہیں  لانے میں حَرج نہىں کہ وہ تو کھا لى جاتى ہىں ۔ اِسى طرح آبِ زَم زَم بھى لانے مىں کوئى حَرج نہىں ہے بلکہ ىہ تو تبرک ہے ، لوگ اسے وطن لے جاتے ہىں کسى عالِم نے آج تک منع نہىں کىا ۔  مىں نے نہ تو  کہىں پڑھا اور  نہ عُلَما سے سنا کہ آبِ زَم زَم لے جانا  منع ہے ۔ لہٰذا آبِ زَم زَم اور کھجورىں لانی چاہئیں ۔  اگر کوئی  خاکِ مدىنہ بھى لے آتا ہے تو اس کو بھى مَعَاذَاللّٰہ  بُرا بَھلا نہ کہا جائے ۔  

اَچار کے فَوائد اور نُقصانات

سُوا ل :  جو لوگ اَچار بنانے مىں ناقِص تىل اور اَشىا کا اِستعمال کرتے ہىں اور کہتے ہیں  کہ اس کے بغىر ذائقہ نہىں آتا تو ان کے بارے مىں آپ کىا اِرشاد فرماتے ہىں؟ نیز اىسى غِذائىں جن کے فَوائد اور نُقصانات دونوں ہوں تو ان کے کھانے مىں کىا اِحتىاط کرنى چاہىے ؟ 

جواب :  اَچار کھانا جائز ہے مگر مىں نے طِب کى ایک کتاب مىں پڑھا تھا کہ اَچار کھانا اىسا ہے جىسے اپنے پاؤں پر کلہاڑا مارنا ۔  دوسرا  مَسئلہ یہ ہے کہ اَچار اور چٹنى ڈالنے سے کھانا لذیذ ہو جاتا ہے جس کے سبب بندہ زیادہ کھاتا ہے اور زىادہ کھانے کے نُقصانات ہوتے ہىں ۔  پھر رہا بازاری اَچار تو اس کے ناقِص ہونے پر کىا بات کی جا سکتی ہے ؟ بازارى اور کون سی چىز اچھى ہوتى ہے ؟بازار میں تو ہر اىک کمانے کے لیے بىٹھا ہے ۔ اَچار  بنانے میں وہ تو وہى چىز اِستعمال کرے گا جو اسے  زىادہ سے زىادہ مالى طور پر نفع دے ۔ یہ جنرل بات کر رہا ہوں ورنہ اىسے بھى خوفِ خُدا والے لوگ ہوں گے جو عُمدہ چىزىں سَستى بىچتے ہوں گے مگر اىسوں کى تعداد آٹے مىں نمک کے برابر ہو گی ورنہ تو آج کل چاروں طرف لوٹ مار کا ماحول ہے ۔ پھر بازار میں کُھلے اَچار ہوتے ہىں، دھول مٹى اُڑ کر جب ان پر آتی ہے تو دُکاندار تىل کا چمچ اُنڈىل کر دوبارہ چمکا دیتے ہیں لہٰذا بازارى اَچار کھانا تو دَرکنار صِرف چکھنا بھی خطرناک ہوتا ہے ۔ اِسی طرح بازار کی اور بھی جو چىزىں کھلی ہوتى ہىں سب کا  بُرا حال  

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن