30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُوال : دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں بچوں کی سالگرہ مَنانے کا اَنداز کیا ہے ؟ ([1])
جواب : ہمارے مَدَنی ماحول میں سالگرہ مَنانے کا اَنداز یہ ہے کہ اِجتماعِ ذِکر و نعت کىا جاتا ہے ۔ پھر نىاز کا اِہتمام کر کے اسے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم، غوثِ پاک اور دِیگر بزرگانِ دِىن رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِم کی بارگاہ میں نَذر کىا جاتا ہے ۔ ورنہ تو عام طور پر سالگرہ مَنانے میں کىک کاٹنا، شمعیں جَلانا اور پھر بجھانا اور مَعَاذَ اللّٰہ غُبارے پھوڑنا ہوتا ہے حالانکہ غُبارے پھوڑنا جائز نہیں کیونکہ یہ مال کا ضائع کرنا ہے ۔ دعوتِ اسلامى کے مَدَنی ماحول مىں ىہ طرىقہ نہىں ہے ۔ اگر کوئى اس طرح کرتا ہے تو اس کے متعلق ىہ نہ کہا جائے کہ ىہ دعوتِ اسلامى والا ہے ۔ مَدَنی ماحول میں سالگرہ مَنانے کا جو انداز ہے ىہ جائز طرىقہ ہے ، کوئى بھى عقلمند اسے غَلَط نہىں کہے گا ۔ ہاں! اسے سُنَّتوں بھرا نہ کہا جائے ۔ اِسى طرح اگر آپ بھى اپنے بچوں کى سالگرہ منائىں تو اسی بہانے کچھ رِشتہ داروں کو جمع کر لىں اورغوثِ پاک کى نىاز کر لىں ۔ کسى نىک آدمى مثلاً مسجد کے امام صاحب، کسی عالِم صاحب یا کسى مبلغ کو بُلا کر بچوں کے لىے دُعا کروائىں ، اِنْ شَآءَاللّٰہ ثواب کا ڈھىر وں ڈھىر خزانہ پائىں گے ۔
دِن بدن عمر میں اِضافہ ہوتا ہے یا کمی ؟
سُوال : سالگرہ کے موقع پر کہا جاتا ہے : ”بچہ ایک سال اور بڑا ہو گیا“ کیا واقعی بچے کی عمر میں اِضافہ ہوتا ہے اور ایسے موقع پر اِس طرح کے جملے بولنے میں کوئی حرج تو نہیں؟ ([2])
جواب : آج کل سالگرہ کے موقع پر لوگ کہتے ہیں : ”بچہ اتنے سال کا ہوگیا اور اتنا بڑا ہو گیا“دَرحقیقت وہ بڑا نہیں ہوتا بلکہ چھوٹا ہوجاتا ہے ۔ مثلاً اللہ پاک کے عِلم میں حسن رضا کی عمر 92 سال ہو اور اب اس نے تین سال گزار لیے تو یہ بظاہر بڑا ہوا ہے اس کو بڑا بولنے میں کوئی حَرج بھی نہیں ہے لیکن حقیقت میں یہ 89 سال کا رہ گیا ہے یعنی یہ تین سال چھوٹا ہو چکا ہے ۔ سالگرہ کے موقع پر اس انداز سے بھی عبرت حاصِل کی جا سکتی ہے ۔
آج کل بوڑھے بوڑھے لوگ بھی اپنی سالگرہ مناتے اور خوش ہوتے ہیں حالانکہ بوڑھا اور خوشی یہ دومتضاد چیزیں ہیں ۔ بوڑھا مسکراتا بھی ہے تو اس کے پیچھے غموں کی دُنیا ہوتی ہے ، اگر وہ ہنستا ہے تو پیچھے صَدموں کا طوفان ہوتا ہے مگر یہ اسی بوڑھے کے ساتھ ہوتا ہے جو حساس طبیعت ہو، جس کے پیشِ نظر اپنی موت رہتی ہو اور وہ خوفِ خُدا رکھنے والا ہو ۔ جو بوڑھے لوگ غفلت کا شِکار ہوتے ہیں ایسے بوڑھے میری مُراد نہیں ہیں ۔ میں ان کی بات کر رہا ہوں جن کو میری یہ باتیں سمجھ آتی ہیں اور ان کو اس بات کا شُعُور بھی ہوتا ہے ۔
سالگرہ پر غُبارے پُھوڑنا اور کیک کاٹنا کیسا؟
سُوال : سالگرہ پر غُبارے پھوڑنا اور کیک کاٹنا کیسا؟ ([3])
جواب : فی زمانہ تو سالگرہ کے موقع پر لوگوں کا یہی حال ہے کہ خوب قہقہے بلند کرتے ، زور زور سے Day Happy Birth کہتے ہوئے غُبارے پھوڑ رہے ہوتے ہیں، حالانکہ غُبارہ پھوڑنا اِسراف اور ایک فضول چیز ہے ، اس میں مال ضائع ہو رہا ہوتا ہے ۔ صِرف غبارے لگانا ناجائز نہیں بلکہ انہیں پھوڑ کر ضائع کر دینا اِسراف ہے لہٰذا ایسی رَسم شروع ہی نہ کی جائے جس سے مَسائل کا سامنا کرنا پڑے ۔ ہم لوگ سالگرہ پر نہ تو غبارے لٹکاتے ہیں اور نہ ہی کیک کاٹتے ہیں کہ مجھے یہ پسند نہیں ہیں ۔ میری سالگرہ یعنی Day Birth، 26 رَمضانُ المبارک کو اسلامی بھائی مَناتے ہیں مگر مجھے معلوم ہے کہ اس سے مجھے خوشی ہوتی ہے یا کیا ہوتا ہے ؟”مَنْ آنَمْ کہ مَنْ دَانَم یعنی میں اپنے بارے میں جانتا ہوں کہ میں کیا ہوں؟“اس میں بعض اسلامی بھائی کیک کاٹتے ہیں، یہ کیک مجھے بھی ملے ہیں مگر میں ایسا کرنے والوں کو ہر بار سمجھاتا ہوں کہ اس بار کیک کاٹ لیا مگر آئندہ ایسا نہیں کرنا ۔ میں اِس طرزِ عمل کو رَواج دینا نہیں چاہتا کیونکہ سالگرہ کی عام تقاریب میں جب کیک کٹتا ہے تو تالیاں بجتی، Birth Day Happy بولتے ہوئے گلے پھاڑے جاتے اور خوب قہقہے لگا کر ہنسا جا رہا ہوتا ہے ۔ یہ نہیں معلوم کہ اس میں کتنی سُنَّتیں چُھوٹ رہی ہوتی ہیں پھر ان سب سے بڑھ کر مَرد و عورت کا بے پردہ ملنے جلنے اور ساتھ ساتھ تالیاں بجانے کا بھی سلسلہ ہوتا ہے جبکہ ”مرد و عورت کا بے پَردہ اِختلاط اور تالیاں بجانا حرام ہے ۔ “([4])لہٰذا کیک کاٹنے اور تالیاں بجانے کے بجائے نعت خوانی کا اِہتمام کیا جائے ، اگر نعت خوانی میں کسی کا دِل نہ بھی لگے تو وہ تالیاں بجانے اور اس جیسے دِیگر گناہوں سے محفوظ رہے گا ۔ اس کے کانوں میں نعتِ پاکِ مصطفے ٰ رَس گھولتی رہے گی یوں کچھ تو دِل میں اُترے گا، اس کی برکتیں ملیں گیں اور اِنْ شَآءَ
[1] یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)
2 یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع