30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شریف میں داخلے کے لیے بھی اِحرام باندھنا ضَروری ہے ؟
جواب : اگر نیَّت ہی جَدَّہ شریف جانے کی ہے تو اب اِحرام کی حاجت نہیں بلکہ اب جَدَّہ شریف سے مَکَّۂ مُعَظَّمَہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً بھی جانا ہو جائے تو اِحرام کے
بِغیرجا سکتا ہے ۔ لہٰذا جو شخص مَکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں بغیر اِحرام جانا چاہتا ہو وہ حیلہ کر سکتا ہے بشرطیکہ واقِعی اُس کا اِرادہ پہلے مَثَلاً جَدَّہ شریف جانے کا ہو اور مَکَّۂ مُعَظَّمَہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً حج و عمرے کے اِرادے سے نہ جاتا ہو ۔ مَثَلاً تجارت کے لئے جَدَّہ شریف جاتا ہے اور وہا ں سے فارِغ ہو کر مکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کا اِرادہ کیا ۔ اگر پہلے ہی سے مکّہ پاک زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کا اِرادہ ہے تو بغیر اِحرام نہیں جا سکتا ۔
سُوال : مسجد بنانے کی کیا فضیلت ہے ؟
جواب : مسجد بنانا صَدَقۂ جاریہ ہے ۔ مسجد بنانے والے کو جنَّت میں عالی شان محل عطا کیا جائے گا ۔ ( [1]) مسجد بنانے والے کو ملنے والے ثواب کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مسجد قِیامت تک کے لیے مسجد ہوتی ہے اور جس نے مسجد بنائی ہو گی اُسے قِیامت تک اس کا ثواب ملتا رہے گا ۔ لہٰذا جو مُخَیَّر حضرات ہیں انہیں چاہیے کہ اپنی زِندگی میں کم ازکم ایک مسجد ضَرور بنائیں جو ان کے لیے صَدَقۂ جاریہ ہو سکے ۔ مسجد بنانے کے لیے ضَروری نہیں کہ کروڑوں روپے خَرچ کر
کے خوب تَزئین و آرائش کے ساتھ ہی مسجد بنائی جائے بلکہ چند لاکھوں میں بھی مسجد بنائی جا سکتی ہے ۔ بعض علاقوں میں زمین کی قیمت بہت کم ہوتی ہے اور بعض علاقوں میں بہت زیادہ ، تو جس کی جتنی گنجائش ہو وہ اسی کے مطابق زمین خرید کر مسجد بنائے ۔
مسجد ایسی جگہ بنانی چاہیے جہاں آبادی ہو ، جنگل یا بیابان میں مسجد بنانا جائز نہیں ۔ یہاں تک کہ اگر کسی نے جنگل ، بیابان یا کسی ویرانے میں مسجد بنائی تو وہاں مسجد کی نیت کرنے کے باوجود وہ مسجد نہیں کہلائے گی ۔ ( [2]) نیز اس پر لگنے والی ساری رقم بھی ضائع ہو جائے گی اور آبادی نہ ہونے کی وجہ سے وہ عمارت جانوروں کا ٹھکانا بن سکتی ہے ۔ ہاں! اگر کسی ایسے علاقے میں مسجد بنائی جہاں مسجد بناتے وقت تو آبادی تھی مگر بعد میں وہ علاقہ ویران ہو گیا تو وہ جگہ بدستور مسجد ہی رہے گی کیونکہ جب کسی جگہ مسجد کی نیت کر لی جائے تو وہ قیامت تک کے لیے مسجد ہوجاتی ہے ۔ ( [3])
سُوال : پھل کھانے سے پہلے اِستعمال کرنے چاہئیں یا کھانے کے بعد؟
جواب : پھل کھانے سے پہلے اِستعمال کرنے چاہئیں کہ قرآنِ کریم میں جہاں کھانوں کا ذِکر ہے وہاں پہلے پھل کا ذِکر کیا گیا ہے ۔ حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : اگر پھل اور کھانا ایک ساتھ پیش کیا جائے تو پہلے پھل کھانے چاہئیں ۔ ( [4]) آج کل پہلے کھانا کھایا جاتا ہے پھر پھل ، اس انداز میں تبدیلی ہونی چاہیے پہلے پھل کھائے جائیں پھر اس کے بعد کھانا ۔ ہاں! صرف پھل کھانے ہوں تو پھلوں کے خواص پر لکھی گئی کُتُب کا مُطالعہ کرنا چاہیے کہ کس وقت کون سا پھل کھانا زیادہ مفید ہے ؟
کیا ٹانگیں ہلانا شیطان کا طریقہ ہے ؟
سُوال : کیا ٹانگیں ہلانا شیطان کا طریقہ ہے ؟
جواب : ٹانگیں ہلانا شیطان کا طریقہ ہے یہ تو میری نظر سے نہیں گزرا ۔ ہاں! میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر مخصوص انداز میں چھڑی ہلانے کو متکبرین کا طریقہ فرمایا ہے ۔ ہو سکتا ہے یہ صِرف عوام کا خیال ہو کہ”ٹانگیں ہلانا شیطانی طریقہ ہے “حقیقت میں ایسی کوئی بات نہ ہو ۔ بہرحال اس طرح کی کوئی بھی بات کرنے سے پہلے عُلَمائے کِرام کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام سے تصدیق کر والینی چاہیے ۔
[1] نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالی شان ہے:جو شخص اللہ پاک کی رضاکے لیے مسجد بنائے تو اللہ پاک اس کے لیے جنت میں محل بنائے گا۔ ( مسلم،کتاب المساجد و مواضع الصلوة،باب فضل البناء المساجد و الحث علیھا،ص۲۱۴، حدیث:۱۱۹۰ دار الکتاب العربی بیروت)
[2] کسی شخص نے جنگل یا ویرانے میں مسجِدبنائی جہاں کسی کی رِہائش نہ ہو اور لوگوں کا وہاں سے گزر بھی کم ہو تو وہ مسجِد نہ ہو گی کیونکہ اُس جگہ مسجِد بنانے کی حاجت نہیں ہے۔
( فتاویٰ ھندية، کتاب الکراھیة، الباب الخامس فی آداب المسجد والقبلة …الخ،۵/۳۲۰ دار الفکر بیروت)
[3] بہار شریعت،۲/۵۶۱، حصہ:۱۰ ماخوذاً
[4] حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں: اگر پھل ہوں تو پہلے وہ پیش کیے جائیں کہ طبّی لحاظ سے ان کا پہلے کھانا زیادہ مُوافِق ہے ،یہ جلدہَضم ہوتے ہیں لہٰذا اِن کو مِعدے کے نچلے حصّے میں ہونا چاہے اور قرآنِ پاک سے بھی پھل کے مُقدَّم ہونے پر آگاہی حاصِل ہوتی ہے۔ چُنانچِہ قرآنِ پاک میں اللہ پاک نے اِرشاد فرمایا:) وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ(۲۰)( ( پ ۲۷، الواقعة:۲۰) ترجمۂ کنز الایمان:”اور میوے جو پسند کریں۔“ پھر اس کے بعد فرمایا)وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ(۲۱)( ( پ ۲۷،الواقعة:۲۱) ترجمۂ کنز الایمان:” اور پرندوں کا گوشت جو چاہیں۔“پھر پھلوں کے بعد کھانے میں گوشت اور ثرید کومُقَدَّم کرنا افضل ہے۔ ( احیاء العلوم،کتاب آداب الاکل،۲/۲۱ دار صادر بیروت )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع