30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُوال : کیا ساداتِ کِرام کی نسل صِرف حضرتِ سَیِّدُنا اِمام زَیْنُ الْعَابِدِیْن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے چلی ہے ؟
جواب : ساداتِ کِرام کی نسل خاتونِ جَنَّت حضرتِ سَیِّدَتُنا بی بی فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے دو شہزادگان حضرتِ سَیِّدُنا اِمام حسن اور حضرتِ سَیِّدُنا اِمام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے چلی ہے ۔ پھر حسینی ساداتِ کِرام کی نسل حضرتِ سَیِّدُنا اِمام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے شہزادے حضرتِ سَیِّدُنا اِمام زَیْنُ الْعَابِدِیْن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے چلی جو کربلا میں شہید نہیں ہوئے تھے جبکہ حسنی ساداتِ کِرام کی نسل حضرتِ سَیِّدُنا اِمام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے شہزادے حضرتِ سَیِّدُنا حسن مُثَنّٰی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور دِیگر شہزادوں سے چلی ۔ حضرتِ سَیِّدُنا حسن مُثَنّٰی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کربلائے مُعَلّٰی میں شدید زخمی ہو گئے تھے جس کے باعث یزیدی انہیں شہید سمجھتے ہوئے زندہ چھوڑ کر چلے گئے ، پھر قریبی گاؤں سے لوگ جب حالات کا مشاہدہ کرنے کربلائے مُعَلّٰی آئے تو انہوں نے انہیں زخمی حالت میں پایا اور ان کا علاج مُعالجہ کیا ، اللہ پاک نے انہیں صحت عطا فرمائی ، یہ بہت بڑے عالمِ دِین بنے اور انہوں نے 98 سال عمر شریف پائی ۔ ”حضرتِ سَیِّدُنا حسن مُثَنّٰی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شادی حضرتِ سَیِّدُنا اِمام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہزادی حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمہ صغریٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ہوئی جن کے بطن شریف سے حضرتِ سَیِّدُنا عَبَدُاللہ محضرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ پیدا ہوئے ، انہیں محض اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ دنیا میں پہلے شخص تھے جن کے ماں باپ دونوں خاتونِ جَنَّت حضرتِ سَیِّدَتُنا بی بی فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی اولاد ہیں ، باپ حضرت خاتون جنت کے پوتے اور ماں ان کی پوتی ۔ “( [1]) سب سے پہلے حسنی حسینی سَیِد ہونے کا شَرف انہیں حاصِل ہوا ۔ حضورِ غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم کو بھی حسنی حسینی سَیِد اسی لیے کہا جاتا ہے کہ آپ کا سلسلۂ نسب بھی والد کی طرف سے حضرتِ سَیِّدُنا اِمامِ حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور والدہ کی طرف سے حضرتِ سَیِّدُنا اِمامِ حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ تک پہنچتا ہے ۔
اِحرام میں سِلا ہوا بیلٹ باندھنا کیسا؟
سُوال : اِحرام کی حالت میں سِلا ہوا بیلٹ باندھنا کیسا ہے ؟نیز اگر اِحرام اور بیلٹ وغیرہ بیچنے والوں اور ٹریول ایجنسی سے وابستہ اَفراد سے حجاجِ کِرام اور معتمرین حج و عمرہ کے مسائل پوچھیں تو کیا وہ بتا سکتے ہیں؟
جواب : اِحرام کی حالت میں پاسپورٹ ، رقم ، تسبیح اور کاغذات وغیرہ رکھنے کے لیے بیلٹ باندھنا جائز ہے چاہے سِلا ہوا ہو یا بغیر سِلا ، مگر اِحرام کسنے کی نیت سے باندھا تو مکروہ ہے ۔ رہی بات حجاجِ کِرام اور معتمرین کے اِحرام اور بیلٹ وغیرہ بیچنے والوں اور ٹریول ایجنسی سے وابستہ اَفراد سے مَسائل پوچھنے کی تو انہیں چاہیے کہ ہرگز مَسائل نہ بتائیں کیونکہ اِن مَسائل میں کافی پیچیدگیاں ہوتی ہیں اور اگر انہوں نے غَلَط مَسائل بتا دیئے تو گناہ گار ہوں گے ۔ اس کا محتاط طریقہ یہ ہے کہ اپنے پاس دارُ الافتا اہلسنَّت کا فون نمبر محفوظ رکھا جائے اور جب کوئی گاہک شَرعی مسئلہ پوچھے تو دارُ الافتا اہلسنَّت کا نمبر دے دیا جائے اور کہا جائے کہ مفتی صاحب سے مسئلہ پوچھ لیجیے ۔ اس کے ساتھ ساتھ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ سے حج و عمرہ سے متعلق دو کتابیں”رَفِیْقُ الْحَرَمَیْن“اور”رَفِیْقُ الْمُعْتَمِرِیْن“خرید کر اپنے پاس رکھ لی جائیں اور ثواب کی نیت سے حجاجِ کِرام کو”رَفِیْقُ الْحَرَمَیْن “اور عمرہ کرنے والوں کو ”رَفِیْقُ الْمُعْتَمِرِیْن“تحفۃً پیش کی جائے ۔
اِحرام میں انگوٹھی ، بنیان اور موزے پہننا کیسا؟
سُوال : اِحرام کی حالت میں انگوٹھی ، بنیان اور موزے پہننا کیسا ہے ؟
جواب : اِحرام کی حالت میں مَردوں کے لیے سِلا ہوا لباس ، بنیان ، موزے اور ایسے چپل جس سے پاؤں کا اُبھرا ہوا حِصّہ چھپ جائے پہننا ناجائز ہے ۔ مَرد حالتِ اِحرام میں ہوائی چپل پہنیں کہ اس سے پاؤں کا اُبھرا ہوا حِصّہ نہیں چھپتا ۔ عورتیں حَسبِ معمول جو لباس پہنتی ہیں یہی ان کا اِحرام ہے البتہ اِحرام کی حالت میں عورتوں کو یہ خیال رکھنا ہو گا کہ چہرے پر کپڑا نہ آنے پائے ۔ اگر عورتیں چاہیں تو عوام کی موجودگی میں چہرہ چھپانے کے لیے کسی کتاب یا گتے وغیرہ کو سامنے رکھ سکتی ہیں ۔ مَرد حالتِ احرام میں سِلی ہوئی چادر اور کمبل اُوڑھ سکتے ہیں کیونکہ اُوڑھنے اور پہننے میں فرق ہے ۔
رہی بات انگوٹھی کی تو مَردوں کے لیے حالتِ اِحرام میں انگوٹھی پہننا جائز ہے ۔ اگر انگوٹھی پہننی ہو تو مَرد کے لیے صِرف چاندی کی ایک انگوٹھی کی اِجازت ہے جس کا وزن ساڑھے چار ماشے ( یعنی چار گرام 374 مِلی گرام ) سے کم ہو اور اس میں نگینہ بھی ایک ہو ۔
جَدَّہ شریف جانے کیلئے اِحرام باندھنا ضَروری نہیں
سُوال : جس طرح میقات سے باہر رہنے والوں کے لیے مکۂ مکرمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں داخل ہونے کے لیے اِحرام باندھنا ضَروری ہوتا ہے ، کیا اسی طرح جَدَّہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع