دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Malfuzat e Ameer Ahlesunnat 10 | 10-ملفوظات امیر اہلسنت قسط

book_icon
10-ملفوظات امیر اہلسنت قسط

ہے اور اہلِ سُنَّت کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ پاک کے نبى ہر اىسى بىمارى سے محفوظ ہوتے ہیں جس کے سبب لوگ گھن کھا کر دُور بھاگىں ۔ ( [1]) نبى کے جسم کو تو وفات کے بعد مٹى نہیں نقصان پہنچا سکتی اس لیے کہ زمین پر حرام کردیا گىا ہے  کہ وہ اَنبیا کے جسموں کو کھائے ( [2]) تو پھر  کىڑوں کى کىا مجال ہے کہ وہ حضرتِ سَیِّدُنا اَیُّوب عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   کے جسم مبارک کو نقصان پہنچائیں ۔

بوقتِ شہادت امامِ عالی مقام کی عمر مبارک

سُوال : بوقتِ شہادت امامِ عالی مقام حضرتِ سَیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی عمر مبارک کتنی تھی؟

جواب : بوقتِ شہادت سیِّدُ الشُّہَداء ، امامِ عالی مقام حضرتِ سَیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی عمر مبارک 56 سال پانچ ماہ  پانچ دن تھى ۔ ( [3])

مُحَرَّمُ الْحَرَام میں ننگے پاؤں رہنا کیسا؟

سُوال : مُحَرَّمُ الْحَرَام  کا  چاند نظر آتے ہی   بعض عورتىں اور مَرد چپل پہننا چھوڑ دىتے ہىں اور کہتے ہىں کہ یہ ہماری مَنَّت ہے تو ان کا اس طرح کرنا کیسا ہے ؟

جواب :  مُحَرَّمُ الْحَرَام  کا  چاند نظر آتے ہی چپل نہ پہننا اور ننگے پاؤں رہنا اگر سوگ کی نیت سے ہو تو حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ شَریعتِ مطہرہ میں تین دن سے زیادہ سوگ جائز نہیں ، البتہ عورت شوہر کے مرنے پر چار مہینے دس دن سوگ کرے گی ۔ ( [4]) اگر کوئی سوگ کی نیت سے نہیں بلکہ ویسے ہی ننگے پاؤں رہتا ہے تو کوئی حَرج نہیں اور نہ ہی وہ گناہ گار ہو گا ، البتہ مُحَرَّمُ الْحَرَام  کے اِبتدائی دَس دِنوں میں لوگ غم اور سوگ کی وجہ سے ہی ننگے پاؤں رہتے ہیں لہٰذا ان کی مشابہت  سے بچنا چاہیے ۔  نیز ننگے پاؤں رہنے کی مَنَّت کوئی شَرعی مَنَّت نہیں کہ جس کا پورا کرنا واجب ہو اور نہ ہی اس طرح کی مَنّت ماننا  کسی فضیلت کا باعِث ہے ۔  

مچھلی نہ کھانا اور نیا کپڑا پہننے کو معیوب سمجھنا کیسا؟

سُوال : مُحَرَّمُ الْحَرَام  میں مچھلی نہ کھانا اور نیا کپڑا پہننے کو معیوب سمجھنا کیسا ہے ؟

جواب :  مُحَرَّمُ الْحَرَام  میں اگر کوئی سوگ کے باعِث مچھلی نہیں کھاتا اور نیا کپڑا پہننے کو معیوب سمجھتا ہے تو وہ گناہ گار ہو گا ۔  عوام میں یہ مشہور ہے  کہ عاشورہ کے دِن گوشت نہیں کھانا چاہیے اور بابُ المدینہ( کراچی ) میں جہاں ہمارا پُرانا  گھر تھا وہاں گوشت کی دُکانیں عاشورہ کے دِن بند رہتی تھیں ، پھر آہستہ آہستہ عاشورہ کے دِن گوشت کی دُکانیں کھلنا شروع ہوئیں اور یوں  دُکانیں بند کرنے کا  رواج ختم ہو گیا  ۔ اب بھی بعض لوگ عاشورہ کے دِن گوشت نہیں کھاتے جبکہ کھچڑا کھا لیتے ہیں حالانکہ کھچڑے میں بھی گوشت ہوتا ہے ۔ یہ ایک  عجیب بات ہے کہ کھچڑے کی صورت میں تو  گوشت کھا لیتے ہیں جبکہ گوشت کا سالن اور پلاؤ بنا کر کھانے سے منع کرتے ہیں ۔ یاد رکھیے !مُحَرَّمُ الْحَرَام بلکہ پورے سال میں کوئی گھڑی یا گھنٹا ایسا نہیں کہ جس میں مچھلی یا گوشت کھانا شَرعاً منع ہو البتہ کسی اور خاص وجہ سے منع ہو جائے  تو الگ بات ہے ۔

سسرال میں مُحَرَّمُ الْحَرَام  کا چاند دیکھنے میں حَرج نہیں

سُوال : یہ بات کہاں تک دُرست ہے  کہ دُلہن نکاح کے پہلے سال مُحَرَّمُ الْحَرَام ىا صَفَرُ الْمُظَفَّر کا چاند سُسرال مىں نہ دىکھے ؟

جواب : یہ بھی ایک ڈھکوسلا اور غَلَط بات ہے کہ دُلہن نکاح کے پہلے سال مُحَرَّمُ الْحَرَام ىا صَفَرُ الْمُظَفَّر کا چاند سُسرال مىں نہ دىکھے ۔ بالفرض اگر دُلہن کی آنکھیں کمزور ہوں یا وہ نابینا ہو یا اُس کا گھر کسی پلازے میں ہو  تو وہ میکے میں چاند کیسے دیکھ پائے گی؟نیز اگر دُلہن کے ماں باپ فوت ہو چکے ہوں اور اُس کا کوئی وارث نہ ہو تو کیا چاند دیکھنے کے لیے اُسے  دارُ الامان بھیجا جائے گا؟یاد رَکھیے ! شرعی لحاظ سے ایسا کوئی مسئلہ نہیں کہ دُلہن نکاح کے پہلے سال مُحَرَّمُ الْحَرَام ىا صَفَرُ الْمُظَفَّر کا چاند سُسرال میں نہ دیکھے بلکہ یہ سب عوامی  توہمات ہیں جن کو ختم كرنا  ضَروری ہے ۔

ساداتِ کِرام کی نسل کس سے چلی ؟

 



[1]    مشہور مفسر،حکیمُ الامت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:نبی ایسی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں،گھنونی گندی بیماریاں انہیں نہیں ہوتیں۔ نامردی،گونگا بہرا پن ،بَرص، جذام نبی کو نہیں ہو سکتے۔ ( مِراٰۃ المناجیح،۷/۵۷۴  ملتقطاً ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور)

[2]    حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:اِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَأْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَاءِ فَنَبِیُّ اللہِ حَیٌّ  یُّرْزَقُیعنی بے شک اللہ پاک نے زمین پر حرام کیا ہے کہ وہ  اَنبیا( عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام) کے جسموں کو کھائے،اللہ پاک  کے نبی زندہ ہیں روزی دیئے جاتے ہیں۔ ( ابنِ ماجه،کتاب الجنائز،باب ذکر وفاته...الخ،۲/۲۹۱،حدیث:۱۶۳۷ دار المعرفة  بیروت)

[3]    سوانح کربلا،ص۱۷۰ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

[4]    حدیثِ پاک میں ہے: جو عورت اللہپاک اور قیامت کے دِن پر ایمان رکھتی ہے، اُسے یہ حلال نہیں کہ کسی میّت پر تین راتوں سے زیادہ سوگ کرے، مگر شوہر پر کہ چار مہینے دَس دِن سوگ کرے۔ ( بخاری،کتاب الجنائز، باب حد المرأة علی غیر زوجھا،۱/۴۳۳،حدیث:۱۲۸۱)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن