30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۔ “( [1]) نفل نماز میں بھی قعدۂ اولیٰ چھوٹنے پر یہی حکم ہے ”اگر چِہ نَفل میں ہر دو رَکعَت کے بعد قعدہ فرض ہے مگر تیسری یا پانچویں( علیٰ ھذا القیاس یعنی اس پر قیاس کرتے ہوئے ) رَکعت کا سجدہ کرنے کے بعد قعدۂ اولیٰ فرض کے بجائے واجِب ہوگیا ۔ ( [2]) لہٰذا اس کے چھوٹنے پر سجدۂ سہو کے ذریعے تلافی ہو سکتی ہے ۔
یورین بیگ کے ساتھ نماز کا مسئلہ
سُوال : کسى مرىض کو پىشاب کا بىگ( Urine bag) لگا ہوا ہو تو نماز کىسے پڑھے گا؟
جواب : اگر کسى مرىض کو پىشاب کا بىگ( Urine bag) لگا ہوا ہے اور نماز کے اوقات میں اس کو نکالنا دُشواری کا سبب بن سکتا ہو تو وہ اسی کے ساتھ نماز پڑھ لے اس لیے کہ وہ اس صورت میں مَعذورِ شَرعی کے حکم میں آئے گا ۔ اگر بىگ ( Urine bag) نکالنے کے بعد بھی پیشاب ٹپکتا رہے تو بھی مَعذورِ شَرعى ہی ہو گا ۔ ( [3]) مَعذورِ شَرعى کے تفصیلی اَحکام جاننے کے لیے ”نماز کے اَحکام“یا ”بہارِ شرىعت“جلد اوّل حصّہ دُوُم کا مُطالعہ کیجیے ۔
اذان دینے والی مُرغی کا گوشت اور انڈے کھانا کیسا؟
سُوال : اگر مُرغى اذان دىنے لگ جائے تو کیا اُ س کے انڈے اور گوشت کھا سکتے ہىں؟
جواب : جو مُرغی اذان دیتی ہو تو اس کے انڈے اور گوشت کھانا بالکل جائز ہے ۔ بعض لوگ ایسی مُرغی کو مَنحوس سمجھ کر ذَبح کر ڈالتے ہیں حالانکہ یہ بَدشگونى ہے اور بَدشگونی لینا شَرعاً جائز نہىں ۔ عوام میں ایسی اور بھی بہت سی باتیں مشہور ہىں مثلاً ماہِ صفر یا کسی خاص تارىخ کو مَنحوس سمجھنا ، بلى آڑے آنے یا آنکھ پھڑکنے کو کسی مصیبت کا پیش خیمہ بتانا وغیرہ وغیرہ تو یہ تمام باتیں بَدشگونی کے قبیل سے ہیں جن سے بچنا ضَروری ہے ۔ اس قسم کے توہمات اور باطل خیالات کے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ127صفحات پر مشتمل کتاب ”بدشگونی“ کا مطالعہ کیجئے ۔
رَدی کے بورے میں قرآنِ پاک ہوتو...؟
سوال : رَدی کا کام کرنے والوں کے پاس بسااوقات بورے میں قرآنِ پاک بھی آجاتے ہیں تو وہ ان کا کیا کریں؟
جواب : جب کسی بورے میں قرآنِ کرىم یا دِینی کتب کا ہونا معلوم ہو جائے تو اب ان کا اَدب کرنا ہو گا ، اس بورے پر پاؤں یا کوئی اور چیز نہیں رکھ سکتے ۔ البتہ اگر بورے میں ان مُقَدَّس چیزوں کا ہونا معلوم ہی نہیں تھا اور پاؤں رکھ دیا تو گناہگار نہیں ہوں گے لیکن پتا چلنے کے بعد ان کا اَدب کرنا اور انہیں بے اَدبی کے مقام سے بچانا ضَروری ہے ۔
کسی کو جماہی لیتا دیکھ کر جماہی آنا
سُوال : کسی کو جماہى لىتا دیکھ کر بسااوقات دیکھنے والے کو بھی جماہی آجاتی ہے ، اس کی کیا وجہ ہے ؟
جواب : کسی کو جماہى لىتا دیکھ کر دیکھنے والے کو جماہی آنے کا میرا تجربہ نہیں ہے ۔ ممکن ہے کہ کبھی کسی کے ساتھ ایسا اتفاقاً ہوگیا ہو ۔ البتہ یہ بات مشاہدے کی ہے کہ کسی ایک کو پىاس لگے اور وہ پانى مانگے تو دوسروں کو بھی پیاس کا اِحساس ہونے لگتا ہے ۔ یوں ہی مجمع میں سے کوئی اىک اُٹھ کر بیتُ الخلا جائے تو ساتھ میں دو چار اور کو بھی پىشاب لگ جاتا ہے ۔ اگر تَراوىح کی نماز میں کوئى اىک کھانستا ہے تو ساتھ والوں کو بھی کھانسی آجاتی ہے اور نتیجۃً مسجد کھانسى کے شور سے گونج اُٹھتی ہے ۔ تَراویح میں اس کھانسی کو نفسیاتی اثر کہیں یا پھر افطار میں کباب ، پکوڑے اور سموسے کھانے کا اثر بہرحال ایسا ہوتا ضَرور ہے ۔
گھن والی بیماری سے اَنبیا محفوظ ہوتے ہیں
سُوال : عوام میں یہ مشہور ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا اَىُّوب عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جسمِ مُبارَک میں بىمارى کى وجہ سے کىڑے پڑ گئے تھے ، کیا یہ دُرُست ہے ؟
جواب : حضرتِ سیِّدُنا اَىُّوب عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جسمِ مُبارَک میں کیڑے پڑنے والی بات بالکل غَلَط ہے ۔ کسى کے بَدن مىں کىڑے پڑنا بہت گھن کى بات
[1] بہارِ شریعت ،۱/۷۱۷،حصہ:۴مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
[2] حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح،کتاب الصلوة، باب سجود السھو،ص۴۶۶ باب المدینه کراچی
[3] صَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:ہر وہ شخص جس کو کوئی ایسی بیماری ہے کہ ایک وقت پورا ایسا گزر گیا کہ وُضو کے ساتھ نمازِ فرض ادا نہ کرسکا وہ معذور ہے،اس کا بھی یہی حکم ہے کہ وقت میں وُضو کرلے اور آخر وقت تک جتنی نمازیں چاہے اس وُضو سے پڑھے، اس بیماری سے اس کا وُضو نہیں جاتا، جیسے قطرے کا مرض، یا دَست آنا، یا ہوا خارِج ہونا، یا دُکھتی آنکھ سے پانی گرنا، یا پھوڑے، یا ناصور سے ہر وقت رطوبت بہنا، یا کان، ناف، پِستان سے پانی نکلنا کہ یہ سب بیماریاں وُضو توڑنے والی ہیں،ان میں جب پورا ایک وقت ایسا گزر گیا کہ ہر چند کوشش کی مگر طہارت کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکاتو عذر ثابت ہوگیا۔ جب عذر ثابت ہو گیا تو جب تک ہر وقت میں ایک ایک بار بھی وہ چیز پائی جائے معذور ہی رہے گا، فرض نماز کا وقت جانے سے معذور کا وُضو ٹوٹ جاتا ہے جیسے کسی نے عصر کے وقت وُضو کیا تھاتو آفتاب کے ڈوبتے ہی وُضو جاتارہا اور اگر کسی نے آفتاب نکلنے کے بعد وُضو کیا تو جب تک ظہر کا وقت ختم نہ ہو وُضو نہ جائے گا کہ ابھی تک کسی فرض نماز کا وقت نہیں گیا۔( بہارِ شریعت ،۱/۳۸۵-۳۸۶،حصہ:۲ ملتقطاً)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع