30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُوال : اگر کوئى بلندى پر سجاوٹ وغیرہ کرے تو کیا اس میں بھی کچھ اِحتیاط کرنے کی ضَرورت ہے ؟
جواب : بلندى پر بھی سجاوٹ وغیرہ کرنے میں اِحتیاط کی ضَرورت ہے تاکہ بڑی گاڑیوں مثلاً ٹرک اور کنٹینرز وغیرہ کو گزرنے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ مشکلات کا سامنا نہ بھی کرنا پڑے تب بھی ایسی سجاوٹ بسااوقات ان سے ٹکراتی ہے اور وہ اسے توڑ پھوڑ کر گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے جاتے ہیں ۔ اگر کوئی بہت بڑی عمارت پر بڑا پائپ لگا کر جھنڈا لگانے اور سجاوٹ کرنے کا خواہش مند ہے تو اُسے چاہیے کہ وہاں ساتھ میں ایک چھوٹا سا بلب بھی لگا دے جو دِن رات جلتا رہے تاکہ جہاز وغیرہ کوئی چیز اس سے نہ ٹکرائے ۔ عموماً اِس طرح کی چیزیں جو زیادہ بلندی میں ہوتی ہیں ان پر بلب لگایا بھی جاتا ہے جو جلتا ہی رہتا ہے یا پھر جلتا اور بجھتا رہتا ہے تاکہ پائلٹ( یعنی جہاز اُڑانے والے ) کو پتا چل جائے اور وہ جہاز کو اس سے ٹکرانے سے بچائے ۔ اب 60 ، 70بلکہ 100منزلہ عمارات بھی بنتی ہیں ان میں اِس قسم کا بلب ضَرور لگا دینا چاہیے جو ہر وقت ( بجلی نہ ہونے کی صورت میں بھی جنریٹر وغیرہ سے ) جلتا رہے تاکہ رات کے اندھیرے میں اِن عمارات کا پتا چل سکے اور کوئی چیز ان سے نہ ٹکرائے ۔ اِن اِحتیاطوں پرعمل کرنے میں غفلت نہیں برتنی چاہیے ، خدا ناخواستہ کہیں یہ اونچا جھنڈا یا عمارت کسی جہاز کے گِرنے ، سینکڑوں جانیں چلی جانے اور اَربوں روپے کا نقصان ہو جانے کا سبب نہ بن جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں ائیر پورٹ بنا ہوتا ہے وہاں اس کے اَطراف میں اونچی عمارتیں بنانے کی اِجازت نہیں ہوتی ۔
رَوضۂ اَقدس کی زیارت سے بھی شَفاعت نصیب ہو گی
سُوال : حدیثِ پاک میں ہے : جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شَفاعت واجب ہو گئی ۔ ( [1] )اِس حدیثِ پاک میں عین قبرِ اَنور کی زیارت مُراد ہے یا پھر رَوضہ ٔ اَقدس کی زیارت سے بھی شَفاعت نصیب ہو جائے گی؟
جواب : عین قبرِ اَنور کی زیارت تو اب ناممکن ہے کیونکہ اس کے اِرد گِرد پتھر کی پنج گوشہ ( یعنی پانچ کونے والی ) دیوار تعمیر کی گئی ہے جس میں کوئی دَروازہ نہیں ہے ۔ لہٰذا اگر پیارے آقا ، مدینے والے مصطفے ٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے رَوضۂ اَقدس کی زیارت کر لی جائے تو بھی اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ شَفاعت نصیب ہو جائے گی ۔ فی زمانہ تقریباً سبھی عُلَمائے کِرام کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام شَفاعت والی اَحادیثِ مُبارَکہ بیان کرتے اور ان سے رَوضۂ اَقدس کی زیارت مُراد لیتے ہیں ۔ حضرتِ سَیِّدُنا شیخ عبدُالحق مُحَدِّث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینقل فرماتے ہیں : جس نے قبرِاَنور کی زیارت کی وہ یہ نہ کہے کہ میں نے قبرِ رسول کی زیارت کی بلکہ وہ یوں کہے کہ میں نے رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی زیارت کی ۔ ( [2] ) حالانکہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے دور میں بھی قبرِ اَنور کے اِردگرد دِیواریں قائِم تھیں اور عین قبرِ اَنور کی زیارت ناممکن تھی ۔ اِسی طرح میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے دور میں بھی عین قبرِ اَنور کی زیارت ناممکن تھی اور سبز گنبد شریف موجود تھا اس کے باوجود آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنے ایک شعر میں فرمایا :
مَنْ زَارَ تُرْبَتِیْ وَجَبَتْ لَہُ شَفَاعَتِیْ
اُن پر دُرُود جن سے نوید اِن بُشر کی ہے ( حَدائقِ بخشش )
یاد رَکھیے !عام طور پر قبر کے اُوپر والے حِصّے کو قبر کہا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں اَندرونی حِصّہ قبر کہلاتا ہے ۔ اگر قبر کے اُوپر والے حِصّے کو ختم کر کے زمین برابر کر دی جائے تب بھی وہ قبر وہاں باقی رہے گی جیسا کہ مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مَزاراتِ اَولیا کے قریب بنی ہوئی قبروں کے اوپر والے حِصّے کو مِٹا کر زمین کو برابر کر دیا جاتا ہے اور پھر لوگ اُس پر چلتے پھرتے اور اُٹھتے بیٹھتے ہیں ، حالانکہ وہ قبریں بدستور باقی ہیں ۔ لوگوں کا وہاں چلنا پھرنا اور اُٹھنا بیٹھنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ ( [3] )
[3] قبر پر بیٹھنا ، سونا ، چلنا ، پاخانہ ، پیشاب کرنا حرام ہے ۔ قبرِستان میں جو نیا راستہ نکالا گیا اُس سے گزرنا ناجائز ہے ۔ خواہ نیا ہونا اسے معلوم ہو یا اس کا گمان ہو ۔ ( بہارِ شریعت ، ۱ / ۸۴۷ ، حصہ : ۴ )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع