30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُوال : کىا ہمارے پىارے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے چاول کھانا ثابت ہے ؟
جواب : پىارے نبى ، مکی مَدَنی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے چاول کھانے کے متعلق کوئی رِوایت تو نہىں پڑھی ۔ اَلبتہ چاول کو گوشت کے بعد دوسرے نمبر پر دُنیوی کھانوں کا سردار فرمایا گیا ہے جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا مولائے کائنات ، مولا مشکل کشا ، علیُّ المُرتَضٰی شیرِخُدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مَرفوعاً رِوایت ہے : دُنیوی کھانوں کا سردار گوشت ہے پھر اس کے بعد چاول ۔ ( [1] ) بلکہ ایک رِوایت میں اسے گوشت کے بعد دوسرے نمبر پر دُنىا و آخرت کے کھانوں کا بھی سردار فرمایا گیا ہے ۔ چنانچہ سركارِ عالی وقار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مشکبار ہے : دُنىا و آخرت کے کھانوں کا سردار گوشت ہے پھر چاول ۔ ( [2] )
عوامى راستوں پر جمپ بنانا کیسا؟
سُوال : دىہاتوں اور چھوٹے شہروں میں لوگ اپنے گھروں اور دُکانوں کے سامنے عوامى راستوں پر جمپ ( Speed breaker )بنا دىتے ہىں ان کا ىہ بنانا کىسا ہے ؟
جواب : عوامى راستوں پر جمپ ( Speed breaker )بنانا چاہے وہ گاؤں مىں ہو ىا شہر مىں ىا محلے مىں یہ غىرقانونى کام ہے ۔ اِن کی جہاں ضَرورت ہوتى ہے وہاں اِنتظامىہ خود اپنے پىسوں سے بناتى ہے ۔ بعض دادا گىر قسم کے لوگ فقط اپنى سہولت و ضَرورت کی وجہ سے اِس طرح کے جمپ ( Speed breaker )بناتے ہىں ، اِس سے لوگوں کے حُقُوق پامال ہوتے ہىں ، لوگوں کو راہ چلنے میں تکلىف ہوتى ہے ، گاڑى والوں کو رفتار روک کر یہاں سے گزرنا پڑتا ہے جس کے سبب تاخیر بھی ہوتی ہے ۔ یہ لوگ اِس طرح کے جمپ بنا کر لوگوں کو پریشانی و مشکلات میں مبتلا کرنے کا سبب بنتے ہیں ، کوئی انہیں روکنے ٹوکنے والا نہیں ہوتا ، یہاں تک کہ پولىس بھى ان لوگوں سے ڈرتى ہے ۔
نیاز کیجیے مگر کسی کو تکلیف نہ دیجیے
بیرون ممالک میں اِس طرح کے غیر قانونی کام کرنا تو دُور کی بات کوئی ایسا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ جمپ( Speed breaker )تو کیا چھوٹا سا گڑھا بھی نہیں کھود سکتے جبکہ ہمارے ملک میں جس کى جہاں مَرضى آتى ہے وہاں گڑھا کھود دىتا ہے ، مُحَرَّمُ الْحَرَام کے مہینے میں نیاز کے لیے دىگىں پکاتے وقت گلىوں اور سڑکوں کا بُرا حال کر دیا جاتا ہے ، دیگوں کے نیچے جب آگ جلتی ہے تو ڈامر کى پکی سڑکیں پَھٹ جاتى ہیں ، پھر انہیں کوئی دُرُست کرنے والا بھی نہیں ہوتا تو ان گڑھوں میں پانى اور کىچڑ وغىرہ بھر جاتا ہے ۔ اہلِ بیتِ اَطہار اور بزرگانِ دِین رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے اِیصالِ ثواب کے لیے اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ نیاز ضَرور کرىں لیکن جائز طرىقے سے کریں تاکہ سڑکیں اور گلیاں خَراب نہ ہوں اور نہ ہی کسی کو تکلیف پہنچے کہ کسی کو تکلیف پہنچانا کارِ ثواب نہیں بلکہ گناہ کا کام ہے ۔
اِسلام میں کسى کو ناحق تکلیف دینے کا تَصَوُّر ہی نہیں
اِسی طرح جَشنِ وِلادت کے موقع پر بعض لوگ فُٹ پاتھ یا چوک پر جھنڈا گاڑ د ىتے ہىں یہ غیر قانونی کام ہے ، اس سے لوگوں کو تکلىف بھی ہوتى ہے ۔ یوں ہی گلیوں میں آمنے سامنے باندھ کر سجاوٹ کی جاتی ہے اس میں بھی اِس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو ۔ بہرحال عوامی راستوں ، سڑکوں اور گلیوں میں ازخود جمپ ( Speed breaker ) نہ بنائے جائیں اور نہ ہی جھنڈے وغیرہ لگانے کا کوئی ایسا کام کیا جائے جس سے لوگوں کو تکلیف پہنچ سکتی ہو ۔ جو بھى کام ہو اُسے شرىعت کے دائرے مىں رہ کر سلىقے کے ساتھ کرنا چاہیے ۔ ہمارا اِسلام اَمن و راحت کا پىغام دىتا ہے ، اِسلام میں کسى کو بھى ناحق تکلىف دىنے کا کوئى تَصَوُّر ہی نہىں ہے ، اِنسان تو اِنسان ہمارے اِسلام میں بِلاضَرورت چىونٹى کو بھی مارنے کی اِجازت نہىں ۔ ( [3] )
بلندى پر سجاوٹ وغیرہ کرنے میں بھی اِحتیاط
[1] المواهب اللدنیه ، الفصل الثالث ، النوع الاول فی عیشه صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فی المأکل والمشرب ، ۲ / ۱۲۸ دار الکتب العلمیة بیروت
[2] سبل الهدی والرشاد ، الباب السادس والستون ، فی الکلام علی بعض المفردات التی جاءت علی لسانه صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ، ۱۲ / ۲۲۵ دار الکتب العلمیة بیروت
[3] کسی کو تکلیف نہ دینے کے بارے میں مَزید معلومات حاصِل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 219 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ” تکلیف نہ دیجئے “ کا مُطالعہ کیجیے ۔ ( شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع