دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Malfuzat Ameer e Ahlesunnat Qisst-9 | ملفوظات امیر اہلسنت قسط-9

book_icon
ملفوظات امیر اہلسنت قسط-9

لَواحِقِین سے کہتے ہیں کہ ہم آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں ، اَرے بھائی! آپ کہاں ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں؟ انہیں تو غم کے سبب کھانا پینا بھول گیا ہے جبکہ آپ کھا بھی رہے ہیں ، پی بھی رہے ہیں تو پھر برابر کی شرکت کہاں رہی؟ لہٰذا مُحتاط اَلفاظ میں ہی تعزیت کی جائے  مثلاً آپ کے والِد صاحِب ىاآپ کى اَمّى کے اِنتقال پر آپ سے تعزىت کرتا ہوں! صَبر کىجئے گا!اللہ پاک آپ کے اَبو جان یا اَمّى جان کی بے حساب مَغفرت فرمائے ۔  آپ کو صَبر اور صَبر پر اَجر عطا فرمائے ۔ ( [1] )

زبان کو اِحتیاط کے ساتھ چلائیے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!تعزىت کے عِلاوہ عام بول چال میں بھی مُبالغہ آرائی پر مَبنی جُملے اِستعمال کرنے سے بچنا چاہیے مثلا ًسر مىں معمولی دَرد ہو رہا ہے تو اب یہ نہ کہا جائے کہ شدىد دَرد ہو رہا ہے ، سر پھٹا جا رہا ہے ...معمولی بخار آگىا تو اب ىہ کہنا دُرُست نہیں کہ شدىد بخار ہے ...نَزلہ زُکام ہونے پر کہنا کہ طبیعت سخت خراب تھی تو یہ جھوٹ ہو جائے گا ۔ بہرحال زبان کو بہت اِحتیاط کے ساتھ چلانے کی ضَرورت ہے ، زبان سے نِکلا ہوا کوئی ایک غَلَط جُملہ بھی جہنم میں  جھونک سکتا ہے جیسا کہ سُلطانِ اِنس و جان ، رَحمتِ عالَمِیّان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبرت نشان ہے :  بندہ کبھی اللہ پاک کی خوشنودی کی بات کہتا ہے اور اس کے گمان میں نہیں ہوتا کہ کہاں تک پہنچی( یعنی اپنے طور پر اسے معمولی بات سمجھتا ہے )لیکن اللہ پاک اُس کے سبب بندے کے لیے اپنی رضا قیامت تک کے لیے لکھ دیتا ہے ۔  بیشک آدمی ایک بات اللہ پاک کی ناراضی کی کہتا ہے اس کے گمان میں نہیں ہوتا کہ کہاں تک پہنچی ، ( یعنی اپنے نزدیک اسے معمولی بات تَصَوُّر کرتا ہے ۔  )لیکن اس کے سبب اللہ پاک اس پر قیامت تک اپنا غضب لکھ دیتا ہے ۔ ( [2] ) ایک رِوایت میں ہے کہ اس بات کی وجہ سے مشرِق و مغرِب کے دَرمیان میں جو فاصِلہ ہے اُس سے بھی زیادہ فاصِلہ پر جہنَّم میں گرتا ہے ۔ ( [3] ) حکیمُ الامَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہىں : فی صَدی پچانوے ( یعنی 100میں سے 95 فیصد ) گناہ زبان سے ہوتے ہیں اور پانچ فی صَدی گناہ دوسرے اَعضا سے ۔ ( [4] )اللہ  پاک ہم سب کو صحیح معنوں میں زبان کا قفلِ مدینہ( [5] ) لگانا  نصیب فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم  

مدینۂ طیبہ سے تَبَرُّکات لانا کیسا؟

سُوال : مدىنے شریف سے تَبَرُّک کے طور پر پتھر یا مٹی وغیرہ لانا کیسا ہے ؟

جواب : مدىنۂ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً سے پتھر یا مٹی وغیرہ  تَبَرُّک کے طور پر لانا جائز تو ہے لیکن بعض عُلَمائے کِرام  کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام ایسا کرنے سے منع کرتے ہیں اس لیے کہ ”مدىنہ شریف کى مٹى ، پتھر یا کنکر وغیرہ جو بھی اس زمین کا حصّہ ہیں انہیں جب مدىنۂ طیبہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً سے جُدا کیا جاتا ہے تو وہ چیزیں اس کے غم میں روتی ہیں لہٰذا  کسى کو رُلانا اچھى بات نہىں ۔ “( [6] ) عُشّاقِ مدینہ بھى جب مدىنۂ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً سے جُدا ہوتے ہىں تو جُدائی کے غم میں روتے ہىں حالانکہ وہ مدىنۂ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً  کا جُز نہیں ہیں جبکہ پتھر اور مٹی وغیرہ تو اسی کی جِنس سے ہىں لہٰذا ان کو جُدا نہ کرنا ہی مُناسب معلوم ہوتا ہے ۔  میں خود بھی مدىنۂ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کى مٹى

اور پتھر وغىرہ کوئی چیز وطن ساتھ لانا پسند نہىں کرتا ۔  اگر کوئی مجھے یہ تَبَرُّکات تحفے میں دے بھی دے تو میں ان کو کسی اور زائرِ مدینہ کے ہاتھ 



[1]    بہارِ شریعت میں ہے :  تعزیت میں یہ کہے ، اللہتعالیٰ مَیِّت کی مَغفرت فرمائے اور اس کو اپنی رَحمت میں ڈھانکے اور تم کو صَبر روزی( یعنی صبر عطا ) کرے اور اس مصیبت پر ثواب عطا فرمائے ۔ ( بہارِ شریعت ، ۱ / ۸۵۲ ، حصہ : ۴ )     

[2]    مسند امام احمد ، حکیم بن حزام عن النبی ، ۵ / ۳۷۵ ، حدیث : ۱۵۸۵۲ دار الفکر بیروت

[3]    مسلم ، کتاب الزھد  و الرقائق ، باب التکلم بالکلمة...الخ ، ص۱۲۱۹ ، حدیث : ۷۴۸۱  دار الکتاب العربی بیروت

[4]    مراٰۃ المناجیح ، ۶ / ۵۳ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور 

[5]    غیرضَروری باتوں سے بچنے کو دَعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں ”زَبان کا قفلِ مدینہ“ لگانا کہتے ہیں ۔  ( شعبہ فیضانِ  مَدَنی مذاکرہ )    

[6]    حضرتِ سیِّدُنا علَّامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِینقل فرماتے ہیں کہ حضرت ِ سَیِّدُنا علّامہ طیبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نے فرمایا : اُحُد پہاڑ اور مدینۂ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کے تمام اَجزاء سرکار عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے  مَحبت کرتے ہیں اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے جُدا  ہونے کی صورت میں  آپ کی مُلاقات کے لیے گِریہ کرتے ہیں یہ ایسی بات ہے کہ جس  کا اِنکار نہیں  کیا جا سکتا ۔  ( مِرقاةُ الْمفاتیح ، کتابُ المناسک ، باب حرم المدینة حرسھا اللّٰه تعالٰی ، الفصل الاوّل ، ۵ / ۶۲۶ ، تحت الحدیث : ۲۷۴۵ دارالفکر بیروت )لہٰذا جائز ہونے کے باوجود مَقاماتِ مُقَدَّسہ کی خاک اور کنکر وغیرہ تَبَرُّکات  نہ اُٹھائے جائیں یہی بہتر ہے ۔ ( شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ )

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن