30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دَورانِ طواف کعبۂ مُشَرَّفَہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کے قریب رہنا افضل ہے مگر اتنا قریب بھی نہ ہو کہ کعبہ کی دیواروں اور پَردوں سے ٹکرائے ۔ اگر بھیڑ کی وجہ سے قریب میں رَمل نہیں ہو سکتا اور دُور رہ کر ہوسکتا ہے تو اب افضل یہ ہے کہ دُور سے طواف کرتے ہوئے رَمل کی سُنَّت ادا کرے ۔ ([1])
عالمِ دِین کی راہ نُمائی میں حج کرنا چاہیے
سُوال : کس کے ساتھ حج کو جانا چاہیے ؟
جواب : حج کے لیے جو بھی قافلہ بنے یا خاندان کے کچھ لوگ جا رہے ہوں تو ان کے ساتھ ایک ایسے عالمِ دِین کا ہونا ضَروری ہے جس کی حج کے مَسائل پر گہری نظر ہو۔ ایسے عالمِ دِین کو اگر سونے میں تول کر بھی ساتھ لے جانا پڑے تو لے جانا چاہیے اور اس کی راہ نُمائی میں حج کرنا چاہیے ۔ حج زندگی میں ایک بار صاحبِ اِستطاعت پر فرض ہے اِس کے مَسائل عوام تو کیا بہت سے خَواص کو بھی معلوم نہیں ہوتے ۔اگر کچھ معلومات ہوں بھی تو آدمی رَش میں بھول جاتا ہے ۔
حج تو حج ، نماز جو روزانہ پانچ وقت پڑھی جاتی ہے اور 40 یا 60 سال سے پڑھ رہے ہوتے ہیں اس کے مَسائل کا عِلم نہیں ہوتا ، حج جو زندگی میں پہلی بار کرنے جا رہے ہیں اس کے مَسائل ایک دَم کہاں سے آ جائیں گے ! بس ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی سب کر رہے ہوتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ ایک کارڈ پاس رکھ لیتے ہیں جس میں فقط تَرتیب لکھی ہوتی ہے کہ پہلے یہ کرنا ہے پھر اس کے بعد یہ کرنا ہے ، اس کارڈ پر مَسائل وغیرہ نہیں لکھے ہوتے ۔ حج کے مَسائل پر مشتمل کتاب ” رَفیقُ الحرمین “ ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں مُفت تقسیم کر کے حجاج تک پہنچائی جاتی ہے مگر پھر بھی کئی لوگ اسے گھر ہی میں چھوڑ کر چلے جاتے ہوں گے کہ اس کو کہاں سنبھالیں گے ! شاپنگ کرتے ہوئے بڑے بڑے بیگ بھر کر انہیں سنبھال لیتے ہیں لیکن ایک چھوٹی سی کتاب کو سنبھال نہیں پاتے ۔ اگر حج کرنے والے اہل ِ عِلم ہوں تو انہیں ” رَفیقُ الحرمین “ کے ساتھ ساتھ بہارِ شریعت کا چھٹا حصہ بھی ضَرور ساتھ رکھنا چاہیے کہ اس میں حج کے مَسائل کی زیادہ تفصیل ہے ۔اب تو مَزید آسانی ہو گئی ہے کہ کتاب وغیرہ موبائل فون میں بھی ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہے ۔
یاد رَکھیے ! حج و عمرے کے مَسائل قدرے مشکل ہیں جب تک تجربہ کار عالِمِ دِین کی صحبت نہیں ملے گی تو یہ مَسائل ذہن نشین نہیں ہوں گے ۔بعض لوگ کئی کئی حج اور عمرے کر لیتے ہیں مگر اس کے باوجود انہیں حج کے ضَروری مَسائل کا بھی عِلم نہیں ہوتا کہ حج میں کتنے فَرائض ہیں؟ طواف میں کتنے پھیرے ہوتے ہیں؟ حجرِ اَسود کو کتنی بار چومنا ہوتا ہے ؟ کچھ معلوم نہیں ہوتا بس ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر حج کر آتے ہیں اور پھر اپنے فضائل بیان کرتے نہیں تھکتے ۔ وہاں دُعا میں جو مانگو ملتا ہے ، میں نے قورمَہ مانگا تو مجھے قورمَہ ملا ، بَریانی مانگی تو بَریانی ملی اور فُلاں کو یاد کیا تو وہ میرے سامنے کھڑا تھا وغیرہ وغیرہ۔ حج کرنے والوں کو چاہیے کہ حج کے ضَروری مَسائل سیکھیں اور کسی عالِمِ دِین کی راہ نُمائی میں حج کریں اور اس کے بعد اپنے کارنامے بیان کرنے کے بجائے اللہ پاک کے حضور رو رو کر حج کی قبولیت کی بھیک مانگتے رہیں۔
سُوال : کیا عمرے کے طواف میں بھی رَمل ہوتا ہے ؟
جوا ب : جی ہاں ! عمرہ کے طواف میں بھی اِضطباع اور رَمل دونوں سُنَّت ہے ۔ ” چادر کو دَہنی بغل کے نیچے سے نکال کر دَہنا مونڈھا کھلا رکھنے اور اس کے دونوں کناروں کو بائیں مونڈھے پر ڈال دینے کو ” اِضطباع “ کہتے ہیں ۔ “ ([2])
عمرہ کرنے کے بعد حَلق کروانا کیسا؟
سُوال : عمرہ کرنے کے بعد حَلق کروانا کیسا ہے ؟ نیز حَلق کرواتے وقت کیا نیت ہونی چاہیے ؟
جواب : حج و عمرہ کرنے والے کے لیے حُدُودِ حَرم ہی میں حَلق (یعنی سر مُنڈانا) یا تَقْصِیْر کروانا (یعنی کم ازکم چوتھائی 4 / 1 سر کے بال انگلی کے پَورے برابر کٹوانا) واجِب ہے ۔ تَقْصِیْر سے بھی واجِب ادا ہو جائے گا مگر مَرد کے لیے حَلق کروانا اَفضل ہے ، جبکہ عورت تَقْصِیْر ہی کروائے گی کہ اس کے لیے حَلق کروانا حرام ہے ۔ ([3]) رہی بات حَلق کرواتے وقت نیت کی تو اس کے لیے کوئی خاص نیت تو میں نے نہیں پڑھی ، اَلبتہ حَسبِ حال اچھی اچھی نیتیں کر کے ثواب کمایا جا سکتا ہے ، مثلاً سُنَّت پر عمل کرنے کی نیت سے سر کی سیدھی جانب سے حَلق کروانا شروع کروں گا۔ حَلق کروانے والوں کے لیے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے تین بار دُعائے رَحمت فرمائی اور کتروانے والوں کے لیے ایک بار۔ ([4]) تو حَلق کروا کر حدیثِ پاک میں موجود تین بار دُعائے رَحمت کا حَقدار بنوں گا۔
حَلق کرواتے وقت قِبلہ رُخ بیٹھوں گا۔ ” ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اکثر اوقات قِبلہ شریف کی طرف مُنہ کر کے تشریف فرما ہوتے تھے ۔ “ ([5]) یاد رَکھیے ! قبلہ رُخ بیٹھنے سے نظر تیز ہوتی ہے ، حافظہ مضبوط ہوتا ہے اور قبلہ رُخ بیٹھ کر پڑھے جانے والا سبق بھی جلد یاد ہوتا ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع