دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Majosi ka Qabol e Islam | مجوسی کا قبولِ اسلام

book_icon
مجوسی کا قبولِ اسلام

سوال :  اگر کوئی اسلامی بھائی خود مدنی بہار نہیں لکھ سکتا تو کیا کسی دوسرے اسلامی بھائی سے مدنی بہار لکھواسکتا ہے؟

جواب :  خود لکھنا نہیں جانتا تو کسی دوسرے اسلامی بھائی سے مدنی بہار لکھوانے میں کوئی حرج نہیں ۔مگر مدنی بہاروں کی احتیاطوں اور نیتوں کو مدنظر رکھا جائے۔  

سوال :  کیا مدنی بہارلکھنے کی ترغیب دلانا بھی نیکی کی دعوت ہے؟

جواب :  جی ہاں کہ اس طرح مدَنی ماحول سے وابستہ ہونے والے اسلامی بھائی سے مدَنی انقلاب کا اظہار کروا کر عمل سے دور اور نیکیوں سے محروم مسلمانوں کے لئے ترغیب کا سامان کرنا ہے جو بلاشبہ نیکی کی دعوت کے زُمرے میں آتا ہے۔

سوال :  مدنی بہار لکھوانے کی ترغیب دلاتے وقت کیا نیّت ہونی چاہیے؟

جواب :  مدنی ماحول سے وابستہ ہونے والے نئے اسلامی بھائیوں کو مدنی بہار لکھنے کی ترغیب دیتے وقت یہ نیت ہونی چاہیے کہ اس کی مدنی بہار سن یا پڑھ کر کیا بعید کسی اسلامی بھائی کی زندگی میں مدنی انقلاب آجائے، گناہوں کے عادی تائب ہو کر سنتوں بھری زندگی گزارنے والے بن جائیں ۔ یوں میرے لیے صدقہ ٔ جاریہ کی صورت بن جائے۔

سوال :  کیا بزرگانِ دین  رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِیْن سے واقعات بیان کرنا ثابت ہے ؟

جواب :  جی ہاں ، بعض بزرگوں نے بھی بطورِ نصیحت اور سامانِ عبرت کے لئے اپنی زندگی میں رونماہونے والے واقعات کو بیان فرمایا ہے اور سیرت نگاروں نے ان واقعات کو اپنی کتابوں میں لکھ کر محفوظ کیا تاکہ آنے والی نسلیں ان سے فیض یاب ہوکر مقصدِ حیات جان سکیں ۔

   

سوال ؟کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے متعلق کہ :

ہمارے مدنی ماحول میں مدنی بہاریں لکھی اور لکھوائی جاتی ہیں بلکہ اب ریکارڈ کرنے اور مدنی چینل پر چلانے کا بھی سلسلہ ہے۔ بسا اوقات مدنی بہار بیان کرنے والا بلامقصدغیبت کا مرتکب ہو جاتا ہے (مثلاً :  ماں ظلم کرتی، باپ نے تربیت نہ کی لیکن کبھی اس کا بیان اس لیے کیا جاتا ہے کہ والد صاحب کو کچھ عرصے بعد دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول سمجھ آگیا)، اسی طرح ایسے گناہوں کا اظہار کردیتا ہے کہ جو معاشرے میں گھٹیا جانے جاتے ہیں ۔ مثلاً :  زنا، لَواطَت وغیرہ۔

 دریافت طلب امور یہ ہیں کہ : (1)اس طرح کے گناہوں کا مدنی بہاروں میں اظہار کرنا کیسا؟(2)مدنی بہار فارم میں نام و نمبر بھی ہوتا ہے، کیا شعبہ تحریر یا مدنی چینل ذمہ داران کو ان کی توبہ کروانا لازم ہے؟(3) تحریر کی جگہ video سے شخصیت زیادہ واضح ہوتی ہے، اس میں کیا کیا احتیاطیں کرنا چاہئیں ؟ (شعبہ مدنی بہاریں )

جواب : مدنی بہار لکھنے، لکھوانے یا ریکارڈ کرانے سے پہلے اچھی طرح تربیت کی جائے کہ اس نے کس انداز میں لکھنا یا بیان کرنا ہے۔ اسی طرح فارم فِل کراتے ہوئے بھی ہدایات لکھی ہوئی ہونے کے ساتھ ساتھ زبانی طور پر بتائی جائیں ، جو شخص اس کے باوجود بلاوجہ اپنے گناہوں کا اظہار کرتا ہے اس کو توبہ کرنے کا کہا جائے گا۔   (دارالافتاء اہلسنّت )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سوال :  مدنی بہارکسے کہتے ہیں ؟ 

جواب : دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں لوگوں کا مدنی کاموں میں سے کسی مدنی کام سے متأثر ہو کر اپنے گناہوں کو چھوڑ کر نیکیوں کی راہ پر گامزن ہوجانا’’ مدنی بہار‘‘ کہلاتا ہے۔ یاد رکھیے! حقیقی مدنی بہار وہ ہے جس میں بندہ اپنے تمام گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے ندامت کے ساتھ انہیں چھوڑنے، اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں سچی توبہ کرنے اورنیکیاں کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ گناہ اگر قابلِ تلافی ہوں تو صرف توبہ کافی نہیں بلکہ ان کی تلافی بھی کی جائے مثلاً اگر کوئی چور ڈاکو تھا تو وہ توبہ کے ساتھ ساتھ جن جن لوگوں کا مال چرایا، ڈرایا دھمکایااور دل دکھایا ہے انہیں مال واپس کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے معافی مانگ کر انہیں راضی بھی کرے ۔ فی زمانہ لوگوں نے توبہ کو بھی بہت آسان سمجھ لیا ہے بس ہنستے ہنستے اپنے گالوں پر باری باری ہاتھ لگا کر دل کو منا لیتے ہیں کہ ہم گناہوں سے صاف ستھرے ہو چکے اور پھر ان گناہوں کو اپنے پردۂ خیال سے حَرفِ غَلَط کی طر ح مٹا دیتے اور اپنی مستیوں میں بد مست ہو جاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ بعض نادان تو بڑی دلیری سے اپنی سابقہ زندگی میں حقوق العباد تلف کرنے کے واقعات بطورِ کارنامہ لوگوں میں بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں : مثلاً پورے علاقے میں میرا رُعب ودبدبہ تھا ، میری اجازت کے بغیرعلاقے میں پرندہ پَر نہیں مارسکتا تھا، دورانِ لڑائی میں نے فلاں کا سر پھوڑا اور فلاں کا دانت توڑاوغیرہ وغیرہ، یہ جملے کہتے وقت ذرہ بھر ندامت نہیں ہوتی جبکہ ہمارے بُزُرگانِ دین  رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِیْنکا انداز  تو یہ ہوا کرتا تھا کہ اگر کوئی گناہ سرزد ہوجاتا تو اس سے لاکھ توبہ کرتے مگر خوف ختم نہیں ہوتا تھا اور نہ ہی ندامت جاتی تھی، چنانچہ حضرتِ سیدنا عتبۃالغلام عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ السَّلَام ایک مکان کے پاس سے گزرے تو کانپنے لگے اور آپ  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو پسینہ آگیا ۔ لوگوں کے دریافت کرنے پر فرمایا : یہ وہی جگہ ہے جہاں میں نے چھوٹی عمر میں گناہ کیا تھا۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاول من اخلاق السلف الصالح، منھا کثرۃ الخوف، ص۴۹)

کاش ان بزرگانِ دین  رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِیْنکے صدقے ہمیں بھی سچی توبہ کی توفیق نصیب ہو جائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

ترے خوف سے تیرے ڈرسے ہمیشہ         میں تھرتھر رہوں کانپتا یا الٰہی

              بنادے مجھے نیک نیکیوں کا صدقہ            گناہوں سے ہردم بچا یا الٰہی     ( وسائل بخشش)   

سوال : مدنی بہارلکھتے یا لکھواتے وقت کیا نیت ہونی چاہیے ؟نیز مدنی بہارلکھتے یا لکھواتے وقت کن کن باتوں کو مدنظر رکھنا چاہیے؟

جواب : مدنی بہارلکھناہو یا لکھوانا یا کوئی سا بھی نیک کام ہو اس میں بنیادی نیت اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی رضا پانے اور ثواب ِ آخرت کمانے کی ہونی چاہیے کیونکہ بغیر نیت کسی بھی عملِ خیر کا ثواب نہیں ملتا۔ پھر

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن