30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کا بیان کیا جا رہا ہے، تاکہ مدَنی بہار پڑھنے والے اس مقصد کو مدِّنظر رکھیں اور زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں ۔
سوال : مدَنی بہاریں بیان کرنے کا مقصد کیا ہے؟
جواب : یہ ایک ناقابلِ فراموش حقیقت ہے کہ کسی بھی چیز کی مکمل اہمیّت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب اس کی اصل اور ماضی کی صورتحال کو پیشِ نظر رکھ کر اس کی موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے، بظاہر پکی ہوئی روٹی ہمیں معمولی معلوم ہوتی ہے مگر جب ہم بالیوں سے گندم کے نکلنے، چکی میں پسنے اور دکاندار سے خرید کر آٹا گوندھنے کے عمل سے لے کر چولھے پر پکنے تک کے عمل کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس کی اہمیّت کا اندازہ ہوتا ہے، بالکل اسی طرح ایسے لوگ جو اپنی توبہ سے قبل مختلف گناہوں میں مبتلا تھے اور بعد میں سنّتوں کے عامل بن کر نیکی کی دعوت عام کرنے کی سعادت پانے والے بن گئے، تو ایسے لوگوں کے احوال سیرت نگاروں نے بڑی شرح و بسط (یعنی تفصیل) کے ساتھ بیان کیے ہیں تاکہ ان کی زندگیوں میں آنے والے مدَنی انقلاب کی صحیح اہمیت اُجاگر ہوسکے اور ہدایتِ ربّانی کی وُقعت کا اندازہ ہوسکے اور اس بات کا علم ہوسکے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت کے آگے گناہ خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہو ں کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔
مدَنی بہاروں کے ذریعے کسی کے گناہوں کا پرچار کرنا مقصود نہیں ہوتا، بلکہ ان کی زندگی میں آنے والے مدَنی انقلاب کے بیان کے ذریعے عام مسلمانوں کو بھی سنتوں بھری زندگی گزارنے کی دعوت دی جاتی ہے، تاکہ لوگ گناہوں سے دور اور مدنی ماحول سے قریب ہو جائیں نیز ایسے لوگ بھی اپنی اصلاح کی کوشش کریں کہ جو سمجھتے ہیں کہ شاید ہم تو سدھر ہی نہیں سکتے۔
سوال : مدَنی بہاروں کے رسالے کے آخر میں مدَنی بہار لکھنے کی ترغیب دلائی جاتی ہے تو مدَنی بہار لکھنے میں کیا کیا احتیاطیں کرنی چاہئیں ؟
جواب : مدَنی بہاریں لکھنا اور لکھوانا ایک اہم کام ہے لہٰذا اس میں بہت سی باتوں کا لحاظ رکھنا نہایت ضروری ہے ورنہ بے احتیاطی کی صورت میں گناہ میں پڑنے اور جھوٹ کی آفت میں پھنسنے کا قوی اندیشہ ہے، مدَنی بہار لکھنے میں درج ذیل باتوں سے بچنا بہت ضروری ہے :
(1) اپنے سابقہ گناہوں کو بڑ ھا چڑھا کر بیان کرنا۔
(2)کسی فردِ مُعَیَّن جیسے ماں باپ، بھائی بہن وغیرہ کی غیبت کرنا۔
(3)اپنی کسی نازیبا عادت کوغیر مہذَّب انداز میں پیش کرنا۔
(4)کسی پر اِلزام تراشیاں کرنا۔ (5)اپنے گھریلو مسائل کو بلاوجہ بیان کرنا۔
(6)غیر ضروری چیزوں میں جا پڑنا وغیرہ۔ یہ چیزیں نہ مطلوب ہیں اور نہ ہی ان سے کسی چیز کا حصول، پھر مدَنی بہاروں سے جو مقصود ہے اس سے کوسوں دور، لہٰذا مذکورہ چیزوں سے اجتناب کرنا بہت ضروری ہے۔ اسی طرح جب اپنی زندگی میں رونما ہونے والے مدَنی انقلاب کو بیان کریں تب بھی کچھ باتوں کا خیال
رکھیں مثلاً : (1)اپنی نیکیوں میں بے جا مبالغے سے بچیں ۔
(2)کسی فرد کے مقابلے میں اپنی فوقیت (برتری) ظاہر کرنے اور خود اپنی تعریف کرنے سے اجتناب کریں ۔
(3)اس مُثْبت تبدیلی میں اپنے ذاتی کمال کے بجائے مددِ الٰہی کو کار فرما سمجھیں ۔
(4)بہت کچھ پانے اور کثیر خدمتِ دین بجا لانے کے باوجود خوفِ خُدا رکھتے ہوئے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے ہوئے ان اعمالِ صالحہ کی قبولیت کی دعا کیجئے اور بہر صورت عاجزی و انکساری کے دامن کو تھامے رہیں ۔
(5)اپنے کسی مقام و مرتبہ، اسلامی منصب و ذمہ داری یا کسی نعمتِ خدا وندی کو بیان کریں تو تحدیثِ نعمت (یعنی نعمتِ خداوندی کا چرچا کرنے) کی نیت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس کا ذکر کیجئے تاکہ ریاکاری اور حبِّ جاہ کی تباہ کاری سے حفاظت ہو سکے۔
(6) مدنی بہار لکھتے یا بیان کرتے ہوئے جزم کے الفاظ سے بچیں مثلا : فلاں مدنی کام سے میری پریشانی دور ہوگئی اس طرح جزم کے الفاظ کے ساتھ بیان کرنے کے بجائے یوں بیان کریں کہ میرا حسن ظن ہے (جبکہ واقعی حسن ظن ہو) کہ فلاں مدنی کام مثلا : تعویذیا مدنی قافلہ وغیرہ کی برکت سے میری پریشانی دور ہوگئی ۔
دعوتِ اسلامی کے مدَنی مقصد ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے‘‘ کو مدِّنظر رکھتے ہوئے اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ اپنی مدنی بہار لکھ کر جمع کروائیے اور دو جہاں کی بھلائیوں کا اپنے آپ کو حقدار بنائیے۔
سوال : مدنی بہاریں بیان کرتے یا لکھتے وقت کیا نیّتیں ہونی چاہئیں ؟
جواب : مدنی بہار لکھتے وقت اگر درج ذیل نیتیں کر لی جائیں تو ڈھیروں ڈھیر ثواب کے حقدار بن سکتے ہیں (1)مدنی بہاریں چونکہ نیکی کی دعوت کا ذریعہ ہیں لہٰذا میں اپنی مدنی بہار کے ذریعے نیکی کی دعوت عام کروں گا (2) دوسروں کی ترغیب و تحریص کا سامان کروں گا(3)اچھے ماحول (جو کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ایک نعمت ہے) کی برکتوں کا پرچار کروں گا (4) شہرت اور حُبِّ جاہ (اپنی عزت بڑھنے کی خواہش)سے بچتے ہوئے نیکیوں کا تذکرہ صرف تحدیثِ نعمت کے لئے کروں گا (5) مسلمانوں کو گناہوں سے بچانے کے لئے ان کی تباہ کاریوں کا تذکرہ کروں گا (6) مدنی بہار کے ذریعے دعوتِ اسلامی کے جملہ مدنی کاموں (مثلاً مدنی چینل، مدنی مذاکرہ، درسِ فیضانِ سنت، سنتوں بھرے اصلاحی بیانات وغیرہ) کی ترغیب کا ذریعہ بنوں گا (7) سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت، مدنی قافلے میں سفر اور مدنی انعامات پر عمل کا ذہن دینے کی کوشش کروں گا (8)مدنی بہار بیان کرتے ہوئے دوسرے مسلمانوں کی غیبت سے بچوں گا (9) فضول باتوں اور بے کار طوالت سے گریز کروں گا۔
(10) جھوٹے مبالغے سے اجتناب کروں گا۔ (11) کوئی ایسی بات ذکر نہیں کروں گا جس سے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی بدنامی ہوتی ہو (12) دوسروں کے عیب نہیں اچھالوں گا۔
اہم سوال جواب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع