30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کے مطبوعہ ایک رسالے کا سہارا لیا، اس کے پیچھے لکھے نمبر پر فون کیا اور دعوتِ اسلامی کے ایک ذمہ دار اسلامی بھائی سے رابطہ کر کے ان سے اپنی دِلی خواہش کا اظہار کیا، ان اسلامی بھائی نے ہاتھوں ہاتھ کَلِمَۂ طَیِّبَہ (لَااِلٰہَ اِلاَّاللّٰہُ مُحَمَّدُرَّسُوْلُ اللّٰہِ) پڑھا کر مجھے دائرہ اسلام میں داخل کر لیا، میرے اہل خانہ بھی دامن اسلام سے وابستہ ہوگئے۔ اسلام لانے کے بعد دعوتِ اسلامی کے ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور مجھے اپنی ترکیب میں لے لیا۔
ایک غیر مسلم گھرانے میں پرورِش پانے والے کا اسلام قبول کرنا کوئی آسان کام نہیں ، نہ اُسے چھپائے رکھنا ممکن ہے لہٰذا جب خاندان والوں کو میرے اسلام لانے کا پتہ چلا تو ایک طوفان کھڑا ہوگیا اور مجھ پر سختیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا مگر چونکہ اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مذہبِ اسلام کی سچائی مجھ پر واضح ہو چکی تھی اور اس کی پاکیزہ تعلیمات دل میں گھر کر چکی تھیں لہٰذا میرے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی اور میں دینِ اسلا م پر ثابت قدم رہا۔
میرا ذریعہ معاش فلم انڈسٹری کا کام تھا اور اسی سے میرا گزر بسر ہوتا تھا، اسلام لانے کے بعد یہ گناہوں بھرا کام چھوڑنے کا ذہن بنتا مگر نفس و شیطان آڑے آتے اور فقروفاقہ و بے روزگاری کے خوف سے ڈراتے، یوں میں ناکام رہتا۔ وقت اسی طرح گزرتا رہا بالآخر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کامجھ پر کرم ہو گیا اور اس آفت سے بھی نجات کا سامان ہو گیا، ہوا کچھ اس طرح کہ ایک دن جب میں نے مدَنی
چینل لگایا تو اس پر سابقہ گلوکار اور موجودہ نعت خواں جنید شیخ عطاری کی زندگی میں آنے والے مدَنی انقلاب کا تذکرہ چل رہا تھا (جن کی مدنی بہار شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنے رسالہ ’’قبر کی پہلی رات‘‘ میں ذکر فرمائی ہے) جب میں نے انہیں سنّتوں سے آراستہ دیکھا تو میری ڈھارس بندھی، ان کے جوشِ ایمانی کو دیکھ کر میرا حوصلہ بڑھا، میں سوچنے لگا کہ جب یہ اپنی قبر و آخرت کی بہتری کی خاطر گلوکاری چھوڑ سکتے ہیں ، تو میں فلمی اداکاری کیوں نہیں چھوڑ سکتا، اُنہوں نے عمامہ شریف سجا لیا، داڑھی شریف رکھ لی اور سابقہ معمولاتِ زندگی چھوڑ کر سنتوں بھری زندگی اپنا لی ہے، میرا ماضی کا اندازِ زندگی ان سے زیادہ مختلف نہیں ہے تو جب یہ گناہوں بھری زندگی چھوڑ کر نیکیوں کی شاہراہ پر گامزن ہوسکتے ہیں تو میں راہِ سنت کا مسافر کیوں نہیں بن سکتا، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت نے انہیں بے سہارا نہ چھوڑا تو وہ میرا بھی تو رب عَزَّوَجَلَّ ہے، مجھے اس کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہئے اور اس کی رحمت سے امید رکھنی چاہئے چنانچہ ان کی مدنی بہاردیکھنے کے بعد میں نے پکا ارادہ کر لیا کہ میں فلم انڈسٹری کو چھوڑ دونگا اور اسلامی احکام پر دل و جان سے عمل کرونگا۔ اس کے بعد میں نے یہ نیک قدم اٹھایا اور اپنی نیت کو عملی جامہ پہنایا۔ کہتے ہیں ’’نیت صاف منزل آسان‘‘ بس اسی قول کے مصداق میری مشکلات آسان ہوتی گئیں اور تمام آزمائشیں زائل ہو گئیں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم سے میں نے مکمل طور پر گناہوں بھرے کاموں سے دوری اختیار کرلی اور دعوتِ اسلامی کے باعمل عاشقانِ رسول کی پاکیزہ صحبت میں رہنے لگا، اچھا روزگار بھی مل گیا۔ پھر جلد ہی مجھ پر مدَنی رنگ چڑھنے لگا، سر پر سبز عمامہ شریف سجا لیا، داڑھی شریف بڑھانا شروع کر دی، سفید لباس پہننے کے ساتھ ساتھ مدَنی چادر بھی عمامے شریف کے اوپر اوڑھنے لگا، جوں جوں مدنی ماحول میں وقت گزرتا گیا میرے علم و عمل میں اضافہ ہوتا گیا، دل نیکی کی جانب مائل ہوتا گیا۔ سنتیں سیکھنے، دوسروں کو سکھانے اور دینِ اسلام کا پیغام عام کرنے کے جذبے کے تحت مدَنی قافلوں میں سفر کرنا اپنا معمول بنا لیا۔ اَولیاءاللّٰہ کا فیضان پانے اور شیطان کے ہتھکنڈو ں سے خود کو بچانے کے لئے شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مرید بھی ہو گیا۔ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ مدَنی مقصد ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ‘‘کو اپنا مقصدِ حیات بنا لیا۔
میری ان تمام لوگوں سے مدنی التجاء ہے جویہ کہتے ہیں کہ ہم بدل نہیں سکتے، یہ خیال اپنے دل و دماغ سے نکال دیں ، آپ بس ہمت کیجیے اور دعوتِ اسلامی کے سنتوں بھرے اجتماعات میں پابندی کے ساتھ شرکت کیجیے، گھر میں مدنی چینل دیکھنے کی ترکیب بنائیے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ آپ خود اپنے اندر تبدیلی محسوس کریں گے اور نیکیاں کرنے اور برائیوں سے بچنے والے بن جائیں گے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جہانگیر عطاری کے اسلام قبول کرنے میں جہاں مدَنی چینل کا شاندار کردار ہے وہیں ان کی زندگی میں عملی طور پر جو مدَنی انقلاب برپا ہوا اُس میں جنید شیخ عطاری کی مدَنی بہار کا بڑا عمل دخل ہے کہ ان کی مدَنی بہار کی برکت سے ان نو مسلم اسلامی بھائی کا فلمی ایکٹر بننے کا شوق ختم ہوا اور سنت کے مطابق زندگی گزارنے اور جہاں بھر میں نیکی کی دعوت عام کرنے کا ذوق انہیں نصیب ہوا، یوں کفر کے خاتمے کے ساتھ بے عملی کا داغ بھی ان کے دامن سے دور ہوا، اس بات سے مدَنی بہاروں کے چھپنے، ان کے شائع ہونے اور بذریعہ مدَنی چینل ٹیلی کاسٹ ہونے کی اہمیت و افادیت کا بخوبی اندازہ لگا یا جا سکتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہر آدمی کوئی بھی نیا کام کرنے سے قبل ہچکچاتا اور گھبراتا ہے، مگر جب اَوروں کو وہی کام کرتے دیکھتا ہے تو اس کے اندر بھی ہمت پیدا ہوتی ہے، لہٰذا مدَنی ماحول سے وابستہ اسلامی بھائیوں کو چاہئے کہ وہ اپنی مدَنی بہاریں تحریر ی صورت میں مطلوبہ ایڈریس پر ارسال فرمائیں تاکہ ان مدَنی بہاروں کے ذریعے عمل سے دور اور سنتوں سے محروم لوگوں کے لئے ترغیب کا سامان ہو اور باعمل عاشقانِ رسول میں مزید نیکیوں کا جذبہ بیدار ہو، واقعی کس قدر خوش نصیب ہیں وہ اسلامی بھائی جن کی مدَنی بہار کے سبب دوسرے مسلمان بھائیوں کی اصلاح ہوتی ہے۔ آپ بھی ہمت کیجیے اور شیطان کے وارکو ناکام بناتے ہوئے اپنی زندگی میں رونما ہونے والی مدنی بہار لکھ کربھیج دیجئے تاکہ آپ کی مدنی بہار کسی رسالے کی زینت بنے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ یاد رہے کہ مدَنی انقلاب یعنی گناہوں بھری زندگی چھوڑ کر سنتوں بھری زندگی اپنانا ہی صرف مدَنی بہار نہیں ہے بلکہ اس میں ایمان افروز وفات، تعویذاتِ عطاریہ کی مدنی بہار، مدَنی قافلے کی برکت سے ٹھیک ہونے والی بیماری یا حل ہونے والی پریشانی کے واقعات یا مدَنی چینل یا ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع سے حاصل ہونے والے فیوض و برکات الغرض ہر وہ مدَنی بہار جس کے ذریعے دعوتِ اسلامی کے بارگاہِ خداوندی میں مقبول ہونے کا پتہ چلے اور مدَنی ماحول کی اہمیت و افادیت کا اندازہ ہو سکے، مدَنی بہار کے زُمرے میں آتا ہے۔ مدَنی بہار فارم کے شروع میں لکھی ہدایت بھی اس حوالے سے مفید ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع