30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
المدینۃ العلمیۃ، شعبہ مدنی بہاریں عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ محلہ سوداگراں ، پرانی سبزی منڈی( باب المدینہ) کراچی پر بھجواکر یا
madani.baharain@dawateislami.netپرMail فرما کر احسان فرمائیے۔(مدنی انقلاب برپا ہوتے وقت کی کیفیت ضرور لکھئے، اور اس بات کا خاص خیال رکھیے کہ جھوٹی بات یا جھوٹا مبالغہ نہ ہونے پائے کہ جھوٹ ناجائز و گناہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔)بن پڑا تو آپ کی مدنی بہار ہم نوک پلک سنوار کر دوسروں کو بیان کریں گے، ممکن ہے آپ کی مدنی بہار دوسروں کے لیے ترغیب کا سامان ہو۔دعوتِ اسلامی کے مدَنی مقصد’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے‘‘کو مدِّنظر رکھتے ہوئے اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ اپنی مدنی بہار لکھ کر جمع کروائیے اور دو جہاں کی بھلائیوں کا اپنے آپ کو حقدار بنائے۔ آپ کی رہنمائی کے لئے ذیل میں کچھ نیتیں پیش کی جارہی ہیں تاکہ ثواب کا عظیم ذخیرہ حصے میں آسکے :
٭ مدنی بہاریں چونکہ نیکی کی دعوت کاذریعہ ہیں لہٰذا میں اپنی مدنی بہار کے ذریعے نیکی کی دعوت عام کروں گا٭اپنے سابقہ گناہوں (جن سے سچی توبہ ہوچکی ہو ان)کا تذکرہ شرمندگی اور ندامت کے ساتھ دوسرے مسلمانوں کی عبرت اور گناہوں سے نفرت اور توبہ کی طرف مائل کرنے کے لیے کروں گا٭اپنے اندر آنے والی تبدیلی بیان کر کے دوسروں کی ترغیب و تحریص کا سامان اوراچھے ماحول (جو کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ایک نعمت ہے) کی برکتوں کا پرچار کر وں گا٭ اپنے اندر آنے والی تبدیلی کے زائل ہونے کے خوف اور ربّ تعالی کی خفیہ تدبیر پر نظر کرتے ہوئے، شہرت اور حبِّ جاہ سے بچتے ہوئے نیکیوں کا تذکرہ صرف تحدیثِ نعمت کے لئے کروں گا٭ مدنی بہار کے ذریعے دعوتِ اسلامی کے جملہ مدنی کاموں (مثلاً مدنی چینل، مدنی مذاکرہ، مدنی قافلہ، درسِ فیضانِ سنّت، سنّتوں بھرے اصلاحی بیانات وغیرہ)کی ترغیب کا سامان کروں گا٭مدنی بہار لکھنے کی احتیاطوں پر عمل کروں گا۔
(مدَنی بہاریں لکھنااور لکھوانا ایک اہم مدنی کام ہے، لہٰذا اس میں بہت سی باتوں کا لحاظ رکھنا نہایت ضروری ہے ورنہ بے احتیاطی کی صورت میں گناہ میں پڑنے اور جھوٹ کی آفت میں پھنسنے کا قوی اندیشہ ہے لہٰذا چند احتیاطیں ذکر کی جاتی ہیں )
٭اپنے سابقہ گناہوں کو بڑ ھا چڑھا کر بیان کرنا(مثلا : ہفتے میں ایک اَدْھ فلم دیکھنے والے کا یہ کہنا کہ جب تک میں فلم نہ دیکھتا تھا مجھے نیندنہیں آتی تھی ) ٭کسی فردِ مْعَیَّن جیسے ماں باپ، بھائی بہن وغیرہ کی غیبت کرنا(مثلااس طرح بیان نہ کرے کہ میرا باپ مجھے مارتاتھا، ماں گالیاں دیتی تھی بلکہ یوں کہے کہ بعض گھر والے سختیاں کرتے تھے یا والد صاحب شروع شروع میں تو سختیاں کرتے تھے مگر جب ان کو دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول سمجھ آگیا تو سختیاں کرنا بند کردیا)٭کسی پر الزام تراشیاں کرنا، اپنے گھریلو مسائل بلاوجہ بیان کرنا، غیر ضروری چیزوں میں جا پڑنا وغیرہ سے بچنا٭ایسے طریقے یا گناہ جو کسی کی ترغیب کا سبب بن سکتے ہوں انہیں بیان کرنے سے حتی المقدور بچنا مثلاً : اس طرح بیان نہ کرے کہ میں فلاں گلوکار کے گانے بہت شوق سے سنتا تھا، اس کی آواز میں ایسا جادو ہے کہ میں رو پڑتا تھا۔عشق کی راہ میں اتنا آگے نکل گیا کہ نشہ شروع کردیا جس سے مجھے سکون ملتایا میں فلاں شاپنگ سینٹر گیا وہاں فلموں کی سی ڈیز بہت سستی ملتی ہیں یا فلاں گلی کے کونے پر شراب خانہ ہے اس کے سامنے ایکسیڈنٹ میں ایک شخص جان سے ہاتھ دھو بیٹھا وغیرہ ٭ایسے الفاظ بیان کرنے سے مکمل پرہیز کیجیے جنہیں فیملی میں استعمال نہیں کیا جاسکتا مثلاً زنا ، لواطت وغیرہ ، بلکہ ان کی جگہ گندے کاموں میں مبتلا تھا، اخلاقی برائیوں میں ملوث تھا وغیرہ الفاظ استعمال کئے جائیں ٭اپنی نیکیوں میں بے جا مبالغہ یاکسی فرد کے مقابلے میں اپنی فوقیت ظاہر کرنے یا خوداپنی تعریف بلا کسی صحیح نیّت کے کرنے سے بچنا ضروری ہے بلکہ اپنی مثبت تبدیلی کوذاتی کمال سمجھنے کے بجائے مددِ الٰہی کو کار فرما سمجھئے نیزبہت کچھ پانے اور کثیر خدمتِ دین بجا لانے کے باوجود خوفِ خْدارکھتے ہوئے، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے ہوئے ان اعمالِ صالحہ کی قبولیت کی دعاکیجئے اور بہر صورت عاجزی و انکساری کا دامن تھامے رہئے۔اور جو مقام و مرتبہ اور اسلامی منصب و ذمہ داری یا کسی نعمتِ خدا وندی کو بیان کریں تو تحدیثِ نعمت کی نیّت پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس کا ذکر کیجئے تاکہ ریاکاری اور حبِّ جاہ کی تباہ کاری سے حفاظت ہو سکے۔
نیچے تفصیلاً وضرورتاً پیچھے تحریر فرمادیجئے۔
______________________________________
_______________________________________
______________________________________
______________________________________
______________________________________
_____________________________________
_____________________________________
_____________________________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع