30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عظامرِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے ناموں پر رکھیں کہ برکت حاصل ہو گی تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ ان کی برکتیں حاصِل ہوں گی۔ یاد رَکھیے! بُرے نام بُرا پھل لائىں گے ۔ بُرے نام رکھنے سے نقصان ہوتا ہےاور ان کی وجہ سے بچوں کے اَخلاق بُرے ہو سکتے ہىں مگر آج کل لوگUnique(منفرد) نام کى حرص مىں اپنے بچوں کے عجىب و غرىب نام رکھ رہے ہوتے ہىں۔
”جس کو جیسا کہو وہ ویسا بن جائے“ایسا کوئی وَظیفہ نہیں
سُوال: مجھے کوئى اىسا وَظىفہ بتا دیجیے کہ جس کے کرنے سے یہ ہو کہ میں جن لوگوں کو نماز پڑھنے کا کہوں وہ نمازى بن جائىں اور جنہیں گناہوں سے بچنے کا کہوں وہ گناہوں سے بچنے والے بن جائیں ۔
جواب: اىسا کوئى وَظىفہ نہىں کہ جس کو جو کہو وہ ہر صورت مىں مان جائے یہ سِلسِلہ تو اَنبىائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کا بھى نہیں تھا کہ وہ جن لوگوں کو اِیمان لانے کی دعوت دیتے تو وہ اِىمان لے آتے، ابو جہل کو اِیمان لانے کی دعوت دی گئی مگر وہ اِىمان نہىں لاىا ۔ ہاں اللہ پاک سے یہ دُعا کى جا سکتى ہے کہ یَا اللہ! مىرى زبان مىں تاثیر پیدا فرما دے کہ میں جس کو نماز کی دعوت دوں وہ قبول کر لے ۔ جس کو نماز کی دعوت دی جائے وہ نمازی بن جائے اس کے لیے زبان کو اِخلاص کے پانى سے دھونا پڑے گا، نرمى اِختیار کرنی ہو گی ، غُصے سے بچنا ہو گا اور اس کے ساتھ ساتھ مسکرانے کی عادت بھی بنانی ہو گی۔ جب ىہ سارے اَوصاف جمع ہو جائیں گےتو اِنْ شَآءَ اللّٰہ زبان میں تاثیر پیدا ہو گی اور اَثر جلد ہو گا۔ آپ سات دِن کا فىضانِ مَدَنى کام کورس کر لیں تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ دعوت دینے کا طریقہ آ جائے گا۔
وَسوسوں سے اِیمان ضائع نہیں ہوتا
سُوال: کىا وَسوسوں سے اِىمان ضائع ہو جاتا ہے؟
جواب: صِرف وَسوسوں سے اِىمان ضائع نہىں ہوتا۔ اِس بارے میں مزید تفصىلات جاننے کے لىے مکتبۃُ المدىنہ کا مَدَنی رِسالہ ”وَسوسے اور اُن کا عِلاج “پڑھیے اِنْ شَآءَ اللّٰہ بہت فائدہ ہو گا۔
کیاسوشل میڈیا کے ذَریعے بیعت ہو جاتی ہے؟
سُوال: جو لوگ سوشل میڈیا کے ذَریعے مَدَنی مذاکرہ دیکھتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ہی بیعت ہوتے ہیں کیا ان کی بیعت ہو جاتی ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر بَراہِ راست ہونے والا مَدَنی مذاکرہ چند سیکنڈ Delay ہوکر آتا ہے؟
جواب: سوشل میڈیا پر بَراہِ راست بیعت ہونے والے لوگوں کی بیعت ہو جاتی ہے۔
والدین کى طرف سے حج کرنے والے کے لیے دَس حج کا ثواب
سُوال: بعض اوقات اىسا ہوتا ہے کہ والدىن بوڑھے ہوتے ہىں جس کے سبب وہ حج نہىں کر سکتے ىا دُنىا سے رُخصت ہو چکے ہوتےہیں تو اُن کے اِىصالِ ثواب کے لىے اگر کوئی کسی کو حج پر بھیجے تو کیا اُسے خود بھی ثواب ملے گا؟
جواب: حجِ بَدل اور جو حج اِىصالِ ثواب کے لیے کیا جائے ان دونوں میں فرق ہے ۔ اگر والدىن نے حج کر بھى لىا ہے تب بھى اگر اَولاد اپنے والدىن کى طرف سے حج کرتى ہے تو اُسے دَس گنا ثواب ملے گا یعنی دَس حج کا ثواب پائے گی۔ ([1])لہٰذا اپنے ماں باپ کى طرف سے حج کرنا چاہىے اور اگر اللہ پاک نے مال دیا ہے تو دوسروں کو بھی اپنے والدین کے اِیصال ِ ثواب کے لیے حج کروانا جائز ہے۔ اگر کسی نے حج کیا تو وہ یہ نیت کر سکتا ہے کہ اس کا ثواب میرے والدین یا فُلاں کے والدین کو پہنچے بلکہ وہ ساری اُمَّت کو بھی اِیصال ِ ثواب کر سکتا ہے۔ اِسی طرح حج کا ثواب سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم، غوثِ پاک اور خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمَا کی بارگاہ میں بھی نذر کیا جا سکتا ہے ۔ یاد رکھیے! اِیصالِ ثواب ان لوگوں کو بھی ہو سکتا ہے کہ جنہوں نے ابھی تک ظاہری طور پر دُنیا سے پَردہ نہیں کیا اور بَدستور زندہ ہیں ۔ ([2]) بہرحال حجِ بَدل کی مخصوص شرائط ہیں اور ان شرائط کے مُطابق ہی حجِ بَدل ہو سکتا ہے ۔ عاشقانِ رسول کی مَدَنی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت بھی حجِ بَدل کروانے کا سِلسِلہ ہوتا ہےلہٰذا جو لوگ حجِ بَدل کر وانا چاہتے ہوں وہ رابطہ کر سکتے ہیں۔ ہمارے یہاں حجِ بدل کےلیے باقاعدہ تربىت دى جاتى ہے اور تربىت یافتہ کو ہی حجِ بدل کے لیے بھیجا جاتا ہے ورنہ اگر آپ نے کسی عام آدمی کو حجِ بَدل کے لیے بھیج دیا تو اُسے حجِ بَدل کے مَسائل معلوم ہونا تو دُور کی بات ہے عام حج کے مَسائل ہی معلوم نہیں ہوں گے۔ اگر آپ حجِ بَدل کے لیے دعوتِ اسلامی کی مجلس سے رابطہ کریں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ مجلس ایسے اسلامی بھائی کے ذَریعے حجِ بَدل کروائے گی جو حجِ بَدل کے مَسائل سیکھا ہوا ہوگا۔
حج پر جانے والوں کو تحفے میں کیا دینا چاہیے؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع