30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عبادت ہے بلکہ اَلدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ یعنی دُعا عبادت کا مغز ہے۔ ([1]) ہم دُعا کى قبولىت اسے سمجھتے ہىں کہ جو مانگا وہ مل جائے ، بے شک ىہ بھى دُعا کى قبولىت ہے لیکن اثر کا ظاہر نہ ہونا اُس کے قبول نہ ہونے کى دَلىل نہىں ہے۔ دُعا کى قبولىت کى مختلف صورتىں ہىں مثلاً جو مانگا وہ مل گىا، کوئى مصیبت آنے والی تھی دُعا کی بَرکت سے وہ ٹل گئى۔ ([2])مثلاً آپ کے بچے کو 101 بخار آگىا، آپ نے دُعا مانگى مگر بخار کم نہ ہوا۔ آپ سمجھے کہ دُعا قبول نہىں ہوئى مگر وہ دُعا اِس طرح قبول ہوئى کہ آپ دُعا نہ مانگتے تو ىہ بخار 103تک پہنچنے والا تھا لیکن دُعا کی وجہ سے101 پر ٹھہرا رہا ۔ یُوں ہی آپ کہىں جانے والے تھے اور دُعا کی بَرکت سے خیریت سے پہنچ گئے۔ اگر دُعا نہ مانگتے تو آپ کا حادثہ ہو جاتا اور بدن یا گاڑی کی ٹوٹ پھوٹ ہوجاتی لیکن دُعا کی وجہ سے بچت ہو گئی ۔ آپ کو ىُوں لگا کہ مىں نے فلاں کام کے لىے دُعا مانگى تھى وہ تو قبول نہىں ہوئى لىکن آپ کو ىہ پتا نہىں ہے کہ دُعا قبول ہو گئى جبھی تو آپ حادثے سے بچ گئے ۔ دُعا کى قبولىت کى ایک صورت ىہ ہے کہ قىامت کے دِن کے لىے اس کا اَجر اکٹھا کىا جاتا ہے، بندہ جب قیامت کے دِن اُن دُعاؤں کا اَجرو ثواب دىکھے گا جو دُنیا میں (بظاہر)قبول نہیں ہوئیں تو تمنا کرے گا کہ کاش!دُنىا مىں مىرى کوئى دُعا قبول نہ ہوتى۔ ([3]) لہٰذا دُعا مىں سُستى اور کوتاہى نہیں کرنی چاہىے۔ اللہپاک کى رضا اور اس کى اِطاعت کے لىے دُعا مانگتے رہنا چاہىے کہ دُعا مانگنا ثواب کا کام ہے ۔
حضرتِ آدم عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرتِ حوّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کا نکاح کس نے پڑھایا؟
سُوال: حضرتِ سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرتِ سَیِّدَتنا حوّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا کا نکاح کس نے پڑھایا؟
جواب: حضرتِ سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرتِ سَیِّدَتُنا حوّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا کا نکاح اللہ پاک نے فرمایا تھا اور حق مہر 10 دُرُود شرىف قرار پایا تھا۔ ([4])(مَدَنی مذاکرے میں شریک مفتی صاحب نے فرمایا: )نکاح پڑھانے کے اَلفاظ ہمارے لیے ہوتے ہىں۔ اللہ پاک کے لىے یہ اَلفاظ اِستعمال ہوں گے: زَوَّجَہٗ یعنی ان کا نکاح کروا دىا یا فرما دیا ۔ جیسے حوروں سے نکاح کروائے گا۔
عِدَّت میں مَدَنی چینل دیکھنا کیسا ہے؟
سُوال: کیا عورت عِدَّت مىں مَدَنى چىنل دىکھ سکتى ہے؟ (SMSکے ذَریعے سُوال)
جواب: عورت عِدَّت مىں مَدَنى چىنل دىکھ سکتى ہے۔ (مَدَنی مذاکرے میں شریک مفتی صاحب نے فرمایا: )اگر عورت عِدَّت میں مَدَنى چىنل گھر کے اندر ہى دىکھتى ہے تو جن صورتوں میں دِىگر اسلامى بہنوں کو دىکھنے کى اِجازت ہے تو انہیں صورتوں میں ىہ بھى دىکھ سکتى ہے۔ مَدَنى چىنل دىکھنے کا عِدَّت سے یُوں کوئى تعلق نہىں ہے کہ اِس کی وجہ سے عِدَّت میں کوئى فرق پڑتا ہو۔ عِدَّت اصل مىں ایک وقت کا نام ہے جو طلاق ىا موت کى صورت مىں شروع ہو جاتا ہے۔ عِدَّت میں بنیادی طور پر عورت پر دو حکم ہوتے ہىں: ایک یہ کہ بِلا ضَرورتِ شرعی گھر سے باہر نہىں جا سکتى ۔ دوسرا یہ کہ زىنت ىعنى سنگھار مىک اپ وغىرہ کرنا عورت کے لىے ممنوع ہو جاتا ہے۔ ([5])
بَقِیْعُ الْغَرْقَد کو جَنَّتُ الْبَقِیْع کہنے کی وجہ؟
سُوال: جَنَّتُ الْبَقِیْع مىں جنَّت کا لفظ کىوں لگایا جاتا ہے ؟
جواب: جَنَّتُ الْبَقِیْع میں جس نے جنَّت کا لفظ لگاىا وہى بتاسکتا ہے کہ کىوں لگایا؟اِس کا نام بَقِیْعُ الْغَرْقَد تھا اِس لیے کہ یہاں غرقد کے دَرخت تھے۔ ([6])بقیع بھى حدىث شرىف مىں آىا ہے۔ ([7]) پھر بعد میں کسی نے جنَّت کا لفظ بڑھا کر جَنَّتُ الْبَقِیْع کر دیا اور لوگوں کو پسند آگىا تو اب جَنَّتُ الْبَقِیْع کہا جاتا ہے ۔ مکہ شریف کے مُقَدَّس قبرستان کو جَنَّتُ الْمَعْلٰى کہا جاتا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے اس لیے کہ جَنَّتُ الْبَقِیْع میں کم و بىش دَس ہزار(10000) صَحابۂ کِرامرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم آرام فرما ہىں اور ہر صحابى جنتى ہے۔ پھر تابعین اور بڑے بڑے اَولىائے کِرام رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِم وہاں آرام فرما ہىں اور ان کے متعلق بھى ہمارا حُسنِ ظَن ہے کہ وہ جنتى ہىں۔ بہرحال اس مقدس قبرستان کو جَنَّتُ الْبَقِیْع بولا جاتا ہے اورکسى نے آج تک اِس پر کوئی اِعتراض نہىں کىا۔ عُلَما بھی جَنَّتُ الْبَقِیْع کہتے آرہے ہىں اِس میں حرج نہىں ہے ۔
جادو کروانے والے رِشتہ داروں سے تعلق رکھنا کیسا؟
[1] ترمذی، کتاب الدعوات، باب ما جاء فی فضل الدعاء، ۵/ ۲۴۴، حدیث: ۳۳۸۴ دار الفکر بیروت
[2] الترغیب والترھیب، کتاب الذکر و الدعاء، ۲/ ۳۱۴، حدیث: ۲۵۳۲ ماخوذاً دارالکتب العلمیة بیروت
[3] شعب الایمان، باب فی الرجاء من الله تعالٰی، ذکر فصول فی الدعاء، ۲ / ۴۹ ، حدیث: ۱۱۳۳
[4] روح البیان، پ۲۵، الدخان، تحت الآية: ۵۴، ۸/ ۴۳۰ دار احیاء التراث العربی بیروت
[5] بہارِشریعت، ۲/ ۲۴۲-۲۴۴، حصہ: ۸ ماخوذاً
[6] مشہور مفسر، حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں: عربی میں بَقِیْع دَرخت والے میدان کو کہتے ہیں۔ غرقد ایک خاص دَرخت کا نام ہے چونکہ اس میدان میں پہلےغرقد کے دَرخت تھے اسی لیے اِس جگہ کا نام بَقِیْعُ الْغَرْقَد ہو گیا۔ (مراٰۃ المناجیح، ۲/ ۵۲۵)
[7] مسلم، کتاب الجنائز، باب مایقال عند دخول القبر...الخ، ص۳۷۶، حدیث: ۲۲۵۵ دار الکتاب العربی بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع