دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Mahanama Khawateen (Web Edition) January-2022 | ماہنامہ خواتین (ویب ایڈیشن) جنوری-2022

Zaban Ki Hifazat

book_icon
ماہنامہ خواتین (ویب ایڈیشن) جنوری-2022
سلسلہ: اخلاقیات 
موضوع: 

خاموشی اور زبان کی حفاظت

غور و تدبّر میں ڈوبی ہوئی خاموش طبیعت خواتین  بولتی ہیں تو مفید و حکمت بھری بات ہی کہتی ہیں۔ لہٰذا بے مقصد باتیں کرنے کے بجائے خاموش رہ کر مختلف معاملات بالخصوص دین و آخرت کے متعلق نتیجہ خیز غور و تدبر کرنا چاہئے  کہ اسے ایک روایت میں رات بھر کی عبادت سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔( ) مگر افسوس آج کل سکوت، تدبر، غور و فکر اور خاموشی کہیں نظر نہیں آتی ہے۔ یاد رکھئے! بلا ضرورت و بے مقصد گفتگو کرنا اور ہر وقت بولتے رہنا اخروی ہلاکت کا بھی سبب ہے کہ زبان کی بے باکی اوندھے منہ جہنم میں دھکیل دے گی۔(2) اور زیادہ بولنے والیوں سے ان کے قرب و جوار کی خواتین بیزاری اور اکتاہٹ محسوس کرتی ہیں، جبکہ خاموشی میں کثیر فوائد پوشیدہ ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  نے خود بھی خاموشی کو پسند کرتے ہوئے عملی طور پر اسے اختیار فرمایا (3) اور بارہا ہمیں بھی خاموشی کی ترغیب دلائی، چنانچہ خاموشی کو حفاظت کا ضامن قرار دیتے ہوئے فرمایا: مَنْ صَمَتَ نَجَا یعنی جو خاموش رہا اس نے نجات پائی۔(4)کبھی دین کے لئے اس کے معین و مددگار ہونے کی صراحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: خاموشی کو لازِم کرلو کہ یہ شیطان کو بھگاتی ہے اور تمہارے لئے دینی معاملات میں مددگار ہے۔  (5)کبھی مفید اور کارآمد باتوں کے علاوہ ہونٹ سی لینے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا: جو اللہ پاک اور قیامت پر یقین رکھتا ہو اسے چاہئے کہ اچھی بات کرے یا چپ رہے۔ (6)کبھی زبان کی اضافی پُونچی محفوظ رکھنے اور مال کی اضافی پُونچی (بطورِ صدقہ)خرچ کرنے والوں کے لئے خوش خبری بیان کرتے ہوئے فرمایا :اس شخص کو مبارک ہو جو زائد مال خرچ کر دے اور ضرورت سے زائد باتیں نہ کرے۔(7)لہٰذا ہمیں ان فرامینِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  پر عمل کرتے ہوئے خاموش رہ کر زبان کی حفاظت کرنی چاہئے کہ ا س کے ذریعے انسان دنیا و آخرت کی بہت سی  آفتوں، پریشانیوں، ندامتوں اور پچھتاووں سے محفوظ رہتا ہے۔ پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہُ عنہ گفتگو سے بچنے کے لئے اپنے منہ میں کنکری رکھا کرتے اور اپنی زبان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کرتے: یہی وہ چیز ہے  جو مجھے ہلاکت کی جگہوں پر لے گئی ہے۔ (8)ایک بزرگ کا فرمان ہے کہ زبان درندے کی مانند ہے، اگر تم نے اسے باندھ کر نہ رکھا تو یہ تم پر جھپٹ پڑے گی اور تمہیں نقصان پہنچے گا۔(9) لیکن یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ جہاں نیکی کی دعوت، دین کی اشاعت اور حق کو ثابت کرنے اور باطل کو جھٹلانے کے لئے بولنا ضروری ہو تو وہاں خاموش رہنے کے بجائے حق گوئی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے بہادری اور ہمت و حوصلے کے ساتھ بولنا ہی چاہئے مگر بدقسمتی سے ہماری سوسائٹی کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ جہاں حق کے لئے آواز بلند کرنے کی ضرورت ہو وہاں لوگ خاموش ہو جاتے ہیں ۔ اللہ پاک ہمیں زبان کے دُرست استعمال کی توفیق عطا فرمائے۔  اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
 سلسلہ: اخلاقیات 
موضوع: 

فضول گوئی کی مذمت

فضول گوئی سے مراد ہے: بے فائدہ بات کہنا یا مفید بات  میں غیر ضروری الفاظ بڑھا دینا۔( ) بد قسمتی سے فی زمانہ زبان کے محتاط استعمال کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی، وقت بے وقت بولتے رہنے کی عادت صرف فضول گوئی اور غیر مفید باتوں ہی کا سبب نہیں بنتی بلکہ بہت سی آفتوں کا باعث بھی بنتی ہے، زیادہ بولنے والیوں کے منہ سے جھوٹ بھی نکلتا ہے، غیبت بھی سرزد ہوتی ہے، راز فاش ہوتے ہیں، دل آزاریاں ہوتی ہیں ۔ اس کے علاوہ لوگوں کی ہر بات کو قینچی کی طرح کاٹتے رہنے کی وجہ سے وقار بھی ختم ہو جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ زبان کا غیر  محتاط استعمال گندی گالیوں اور بیہودہ و شرمناک باتوں کا سبب بھی بنتا ہے۔ لہٰذا زبان کی نعمت کو صرف مفید اور ضروری باتوں ہی کے لئے استعمال کرنا چاہئے ۔یاد رکھئے ! ہمارے نامۂ اعمال میں ہماری زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ لکھ کر محفوظ کیا جا رہا ہے جو کل قیامت میں اللہ پاک کے سامنے پڑھنا بھی ہوگا۔ اللہ پاک فرماتا ہے: مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ(۱۸)  (پ 26، ق: 18) ترجمہ کنزُالعرفان: وہ زبان سے کوئی بات نہیں  نکالتامگر یہ کہ ایک محافظ فرشتہ اس کے پاس تیار بیٹھاہوتا ہے۔ ایک مقام پر ہے:  اِقْرَاْ كِتٰبَكَؕ-كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ(۱۴) (پ 15،  بنی اسرائیل:14)ترجمہ کنز العرفان: ( فرمایا جائے گا کہ) اپنا نامۂ اعمال پڑھ، آج اپنے متعلق حساب کرنے کیلئے تو خود ہی کافی ہے۔اللہ پاک کے  آخری  نبی مکی مدنی  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  نے بارہا اپنے فرامین میں فضول گوئی سے بچنے کی ترغیب دلائی اور زبان کے غلط استعمال پر ہلاکت میں پڑنے کی نشاندہی فرمائی ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: انسان  کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ فضول باتیں چھوڑ دے۔(2) ایک بار تو اپنی زبان  مبارک کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: اسے قابو میں رکھنا تمہارے لئے ضروری ہے، جب پوچھا گیا کہ کیا گفتگو پر بھی گرفت ہو گی؟ فرمایا: لوگوں کو جہنم میں منہ یا ناک کے بل ان کی زبان کی لغزشیں ہی گھسیٹیں گی۔ (3)ہمارے بزرگ ہر قسم کی غیر ضروری باتوں اور بے کار سوالات کو بھی فضول گوئی شمار کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ ایک بار کسی شخص نے حضرت سفیان ثوری رحمۃُ اللہِ علیہ  سےان کے لباس کے متعلق پوچھا  کہ یہ کیسا کپڑاہے ؟ تو آپ نے فرمایا: سلف صالحین فضول گوئی کو ناپسندجانتے تھے۔ (4) یعنی آپ نے یہ نصیحت فرمائی کہ اس طرح کی باتیں پوچھنا فضول ہے۔  اگر کبھی بے توجہی میں ان مقدّس ہستیوں کی اپنی زبان سے بھی غیر مفید بات نکل جاتی تو نادم ہوتے اور ازالے کی کوشش بھی کرتے ، جیساکہ ایک بزرگ کسی محل کے دروازے کے پاس سے گزرے تو مالک سے پوچھا: تم نے یہ مکان کب بنایا؟ مالک ابھی جواب دینے ہی والا تھا کہ فوراً اپنے نفس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: اے دھوکے باز نفس! تو نے ایسی شے کے متعلق سوال کیا،  جو تیرے مطلب کی نہیں،  لہٰذا میں تجھے ایک سال کے روزے رکھ کر سزا دوں گا۔(5)
 سلسلہ: فرضی حکایت 
موضوع: 

بے جا سختی

اف دو گھنٹے ہو گئے  مگر تم سے یہ دو صفحات کا ہوم ورک پورا نہیں ہو رہا ، بیٹا تم بہت ہی کاہل ہو، مجھے پتا ہے کہ اتنا سا کام رات تک بھی پورا نہیں کر پاؤ گی۔۔ اور یہ رائٹنگ دیکھی ہے اپنی،  کتنی گندی ہے، لگ رہا ہے کہ لکھنے کے بجائے صفحے کالے کر رہی ہو بس!۔۔تمہیں پڑھانے کے علاوہ بھی میرے پاس بہت سے کام ہیں سمجھیں! ۔۔یہ لو اور ان سوالوں کے جوابات ایک منٹ میں مکمل کر کے مجھے چیک کرواؤ۔۔میں کچن میں جا رہی ہوں۔  ہونہہ! سلمیٰ  سہم کر اچانک پیچھے ہوئی کیونکہ اس کی امّی جان نے جلی کٹی سنانے کے بعد غصے کے مارے کاپی اتنی زور سے میز پر گویا دے ماری تھی  کہ پٹاخا بج گیا۔ ابھی کل ہی تو رابعہ نے سلمیٰ کو جوتے اُن کی جگہ پر نہ رکھنے اور سبق کم وقت میں یاد نہ کرنے پر خُوب کوسا تھا اور اتنی ڈانٹ پلائی تھی کہ ان کے کچن میں جانے کے بعد وہ دیر تک روتی رہی تھی اور آج وہ پھر برس پڑی تھیں، آج پھر سلمیٰ دل مسوس کر رہ گئی، ابھی وہ سنبھلی بھی نہ تھی کہ رابعہ کچن چھوڑ کر واپس آگئیں، دکھاؤ۔۔ کتنا کام کر لیا ہے، اُف پھر وہی غلطی۔ ابھی سمجھا کر گئی تھی مگر مجال ہے جو تمہیں کوئی بات سمجھ آجائے۔۔
دوسری کلاس میں پڑھنے والی سات سالہ سلمیٰ خاموش طبع تھی   نہ لاپروا اور کند ذہن تھی ، بلکہ وہ تو ہنس مکھ، شوخ طبع ہر وقت چہکارنے اور اچھا لکھنے پڑھنے والی بچی تھی، ٹیچرز کی نظر میں بھی ممتاز تھی، خود اس کے امی ابو  کو بھی کبھی اس سے کسی قسم کی شکایت نہ رہی تھی۔ مگر مالی پریشانی کی وجہ سے جب سے رابعہ گرلز اسکول میں ٹیچر لگی تھیں  اور ان کی ذمہ داریاں دگنی ہوئی تھیں تب سے انہیں ننھی سلمیٰ  میں آئے دن نت نئی خامیاں  نظر آ رہی تھیں ، وہ سلیقہ مند دکھائی  دیتی نہ اچھا لکھتی پڑھتی،  جلد سبق یاد کرتی نہ کوئی اَور کام ڈھنگ سے کر پاتی، جس کی وجہ سے  وہ تقریباً روزانہ ہی اسے کئی کئی بار ڈانٹتی سمجھاتی تھیں ۔سلمیٰ کے ابو عدنان صاحب آج طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے معمول سے پہلے ہی گھر آگئے تھے ، گھر آئے ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ دو تین مرتبہ انہوں نے رابعہ کو سلمیٰ پر برستے دیکھا ،آخر ان سے رہا نہ گیا  تو کسی حد تک تُند لہجے میں رابعہ سے بولے: آپ کچن کا کام نمٹا لیجئے، اسے میں ہوم ورک کروا دیتا ہوں۔ پھر رات کو کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر مناسب موقع پر انہوں نے رابعہ سے سلمیٰ کو یوں ڈانٹنے کی وجہ پوچھی تو وہ گویا پھٹ پڑیں، جب وہ سلمیٰ کی کمزوریوں کی لمبی فہرست سنا کر خاموش ہوئیں تو عدنان صاحب نے سمجھایا کہ ان کمزوریوں میں آپ کی سختی کا کافی کردار ہے، آپ کی اضافی ذمہ داریوں اور دن بھر کی تھکن نے آپ کو چڑچڑا کر دیا   ہے جس کی وجہ سے آپ نے سلمیٰ کو نرمی سے سمجھانا چھوڑ دیا ہے۔ ذمہ داریوں کا بوجھ اپنی جگہ مگر آپ کو بھی سمجھنا چاہئے کہ آپ کا یہ بوجھ اٹھانے میں یہ چھوٹی سی بچی کوئی مدد نہیں کر سکتی، آپ الجھی ہوئی ہیں تو اسے مت اُلجھائیں، وہ ایک پھول کی کَلی تھی جسے آپ کے مزاج کی گرمی نے کافی حد تک جُھلسا دیا ہے، اب آپ ہی اپنے مزاج کی نرمی اور تراوت سے اسے واپس کھِلانے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ رابعہ توجہ سے خاوند کی باتیں سُن رہیں تھیں، شرمندگی ان کے چہرے پر عیاں تھی۔ آخر بولیں: واقعی بے جاسختی نے میری بیٹی سے اس کی ہنسی اور خود اعتمادی چھین لی ہے، میں اپنی نرمی  وپیار کے ذریعے اسے یہ چیزیں واپس دلا کر رہوں گی۔ اِن شاءَ اللہ    
 سلسلہ:

تحریری مقابلہ

اہم نوٹ: ان صفحات میں ماہنامہ فیضانِ مدینہ کے سلسلے نئے لکھاری کے تحت ہونے والے 23 ویں ماہ کے تحریری مقابلے کے مضامین شامل ہیں۔ما شاء اللہ ہر ماہ  کثیر تعداد میں اسلامی بہنیں اس میں حصہ لیتی ہیں اور بسااوقات مضامین کی تعداد 100 سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ چونکہ یہ سلسلہ شروع ہوئے دو سال ہونے والے ہیں اور اب ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن کا پلیٹ فارم بھی موجود ہے، اس لئے چند ضروری باتیں مقابلے کی شرکا اسلامی بہنوں کے گوش گزار کرنا مفید ہو گا۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے اکثر اسلامی بہنوں کے مضامین قبول تو کر لئے جاتے رہے ہیں مگر وہ مقابلے کی شرائط پر بالکل پورا نہیں اترتے،، مثلاً اسی ماہ کے مضامین کو لے لیجئے کہ اس ماہ تین عنوانات پر کل 51 مضامین موصول ہوئے۔ ان میں سے صرف 4 مضامین ایسے تھے جو تحریری مقابلے کی شرائط پر پورا اترتے تھے۔ جبکہ 32 مضامین میں چند شرائط اگرچہ مفقود تھیں مگر محض اسلامی بہنوں کی حوصلہ افزائی کے لئے انہیں دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ شب  و روز پر اپ لوڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جبکہ 15 مضامین ایسے تھے جو شب و روز ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ نہیں کئے جا سکتے تھے۔ چنانچہ اس تمام صورتِ حال کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام اسلامی بہنوں کی خدمت میں عرض ہے کہ تحریر ایک فن ہے، اسے آسان نہ  جانئے، بلکہ واٹس ایپ کے گروپ میں مضمون لکھنے کی جو مشقیں شئیر کی گئی ہیں، ان پر عمل کیجئے، امید ہے آپ ایک اچھی لکھاری ثابت ہوں گی۔ اس کی ایک بہترین مثال ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن کی مستقل لکھنے والی اسلامی بہنیں ہیں۔ انہوں نے تحریری مقابلے میں حصہ لے کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور مجلس نے انہیں باقاعدہ مضامین لکھنے کے لئے منتخب کیا۔۔۔ لہٰذا اپنی تحریروں میں نکھار لائیے اور خواہ مخواہ کاغذ کالے نہ کیجئے، بلکہ اپنے مضامین سوچ سمجھ کر اور اپنی تحریری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے لکھئے۔تحریری صلاحیتوں میں اضافے کے لئے اس واٹس ایپ نمبر  03486422931 پر اپنے رابطے کو مضبوط رکھئے۔ اللہ پاک آپ کا حامی و ناصر ہو اور ہم سب کو اَمِیْرِ اَہْلِ سنّت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ کے دامن   سے وابستہ رکھتے ہوئے  دین متین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ امین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   
فرسٹ:سال2022 کیسے گزاریں؟
بنتِ  اشرف عطاریہ مدنیہ(گوجرہ)
اللہ پاک نے انسان کا مقصدِ تخلیق قراٰنِ کریم میں کچھ یوں ارشاد فرمایا: وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶) (پ27،الذریت:56)ترجمۂ کنز الایمان:اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی (اسی لئے) بنائے کہ میری بندگی کریں۔ لیکن افسوس کہ انسان دنیا میں آکر اپنی تخلیق کے مقصد کو بھول بیٹھا، ربِّ کریم کی عبادت سے غافل ہوگیا اور بھول گیا کہ اس کو ایک دن مرنا اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ دنیاوی زندگی عارضی ہے، اس کی ہر چیز عارضی ہے۔ انسان نے اسی دنیا کو بہتر بنانا اپنا مقصدِ حیات سمجھ لیااور اپنے دن،رات، ماہ و سال مسلسل اس دنیا کو بہتر بنانے میں گزار دیئے۔ اپنے قیمتی وقت کو فضولیات میں برباد کر دیا۔یہ وقت اللہ پاک کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔مگر افسوس! انسان نے اس کی قدر نہیں کی اور اس کو غفلتوں میں گزار دیا۔ زندگی کے کتنے ہی سال، مہینے اور دن  گناہوں کی نذر ہو گئے۔ لیکن ابھی بھی وقت ہے، ابھی سانسیں چل رہی ہیں تو جو وقت گزر گیا اس پر غورکرتے ہوئے آنے والے وقت کو اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی رضا والے کاموں میں گزارنے کی نیت کرنی چاہئے۔ آئیے! نیت کرتے ہیں کہ آنے والا سال اللہ پاک کی عبادت اور نیکی کے کاموں میں گزاریں گے۔ان شاء اللہ
 عبادتِ الٰہی: آج سے ہی سال 2022 ءکے اہداف طے کر لیتے ہیں کہ آنے والے سال میں بلا عذر شرعی ہماری کوئی نماز قضا نہیں ہو گی۔ فرائض و واجبات کا اہتمام کریں گے۔اس کے ساتھ ساتھ قضا نماز اور روزوں کی ادائیگی کریں گے۔ تلاوتِ قراٰن، ذکر و اذکار اور درودِ پاک میں اپنا وقت صرف کریں گے۔اور اس سال بلکہ آنے والی زندگی کے ہر سال ہر دن بلکہ ہر لمحے کو رضائے الٰہی کے کاموں میں گزارنے کی کوشش کریں گے۔حقوق العباد: سال 2022ءمیں ہم حقوقُ العباد کا خیال کریں گے۔ ہمارا یہ ہدف ہونا چاہئے کہ اگر ہم سے کسی کا حق تلف ہوا ہو تو اس کا حق ادا کریں گے اور معافی بھی مانگیں گے۔ والدین، رشتہ داروں اور ہمسایوں کے حقوق کا خیال کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کو پرامن بنانے کی کوشش کریں گے۔تعلیم و تعلم: تعلیم کو عام کریں گے اور اپنے ملک سے ناخواندگی کی شرح کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ خود بھی علمِ دین سیکھیں گے اور دوسروں کو بھی سکھائیں گے۔اچھی صحبت: انسان کو اچھی زندگی گزارنے کے لئے اہل ِ علم اور دانشور لوگوں کی صحبت کو اختیار کرنا چاہئے۔ وہ لوگ جو دین اور دنیا کا فہم و شعور رکھتے ہیں ان کی صحبت کو اختیار کرنے سے انسان کے علم اور عمل کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ اس لئے نیت کرتے ہیں کہ آنے والی زندگی میں نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں گے۔ صحبتِ بد سے دوری: وہ لوگ جو بُری صحبت اختیار کرتے ہیں وہ غلط نظریات اور غلط راستوں پر چل نکلتے ہیں۔ہمیں چاہئے کہ ہم بری صحبت سے بچیں۔ آنے والے سال میں ہم یہ نیت کرتے ہیں کہ ایسوں کی صحبت سے بچیں گے جن سے عقائد و اعما ل میں خرابی پیدا ہوتی ہو۔ لغویات اور حرام سے اجتناب::سال 2022ء کو لَغْوِیات اور حرام سے پاک گزاریں گے۔ بلکہ آنے والی پوری زندگی کےلئے نیت کریں کہ حرام اور فضول کاموں سے بچیں گے۔ ہر اس کام سے اجتناب کریں گے جو اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ناراضی کا سبب ہے۔ نبیِّ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:قیامت کے دن بندہ اس وقت تک اللہ پاک کی بارگاہ میں کھڑا رہے گا جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں پوچھ نہ لیا جائے۔(1)اپنی زندگی کن کاموں میں گزاری؟(2) اپنے علم پر کتنا عمل کیا؟ (3) مال کیسے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ اور (4) اپناجسم کن کاموں میں لگایا؟( )ان سوالوں کے جواب کے لئےہم میں سے ہر ایک کو اپنے احوال کا جائزہ لینا ہو گا اور پھر درستی کی طرف آنا ہو گا۔ اسی صورت میں ہم قیامت کے دن کی شرمندگی سے بچ سکیں گے۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمارا آنے والا سال بلکہ زندگی کا ہر لمحہ اس کی رضا کےمطابق گزرے اور اس کی دائمی رضا نصیب ہو جائے
سیکنڈ: سال2022 کیسے گزاریں؟
بنتِ  بلال عطاریہ(لاہور)
محترم اسلامی بہنو! جب آپ سال کی منصوبہ بندی کرتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ وقت کی منصوبہ بندی کرتی ہیں،سال 2022 کیسے گزارنا ہے؟یہ جاننا اتنا اہم نہیں ہے، جتنا یہ جاننا اہم ہے کہ آج کا دن اور آنے والا لمحہ کیسے گزارنا ہے! رسولُ اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی حدیثِ مبارکہ ہے: (آخرت کے معاملے میں) گھڑی بھر غوروفکر کرنا 60 سال کی عبادت سے بہتر ہے۔(2) جب لفظِ آخرت آتا ہے تو اس سے دینی اور دنیاوی دونوں معاملات مراد ہوتے ہیں،لہٰذا حدیث ِ مبارکہ سے پتا چلا کہ زیادہ اہم یہ ہے کہ آپ لمحۂ موجودہ کس طرح گزارتی ہیں! لہٰذا ایک لمحے کو بھی اچھا گزارنا سیکھیں اور آپ اچھا سال،دن یا لمحہ اس وقت گزار سکتی ہیں،جب آپ میں پہلے سے اچھا، نیا اور بہتر کر کے دکھانے کا جذبہ اور سوچ ہو۔ اس لئے کہا جاتا ہے:زندگی صدیوں، سالوں اور مہینوں میں نہیں بدلتی،بلکہ اس لمحے بدل جاتی ہے، جب آپ اسے بدلنے کا فیصلہ کرتی ہیں۔ لہٰذا سب سے پہلے تو یہ فیصلہ کریں کہ آنے والے لمحوں میں کیا کیا نہیں کرنا،اگر یہ معلوم ہو جائے کہ کن راستوں پر نہیں چلنا تو ان راستوں کی پہچان زیادہ آسان ہو جاتی ہے کہ جن پر چلنا ہوتا ہے۔اس لئے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:آدمی کے اسلام کی ایک خوبی بے مقصد کام کو چھوڑ دینا ہے۔(3)لہٰذا جو بھی planning (منصوبہ بندی) کریں، اس میں دین اور دنیا  کا کوئی مقصد ضرور ہونا چاہئے۔ خود کو اچھا انسان بنائیں،اپنی صحت،اخلاق پر بھرپور توجہ دیں ،کئی گناہوں مثلاً جھوٹ،تکبر اور بُرے اخلاق یا نمازوں میں سستی ہو تو دور کرنے کی کوشش کریں۔ نیت کر لیں کہ ہر مہینے ایک بُری عادت کو مجھے خود سے نکالنا ہے۔ اسی طرح جو عادات اچھی ہوں مثلاً نفلی نمازیں،روزے، عاجزی،سلام و مصافحہ،شفقت اور برداشت وغیرہ کی عادات کو اپنا لیجئے اور پورا مہینا مسلسل ان پر قائم رہیں یہ عادات آپ کے مزاج کا حصہ بنتی چلی جائیں گی۔اسی طرح اپنے دنیاوی اور معاشرتی معاملات چاہے وہ خاندان سے متعلق ہوں یا سہیلیوں سے،انہیں بہتر بنانے پر بھی توجہ دیجئے۔یاد رکھئے!جب بھی کوئی چیز plan کریں،آغاز ہمیشہ چھوٹے سے کریں یا تھوڑے سے،اس کا تسلسل برقرار رکھیں،تا کہ کامیابی بڑی ملے۔کامیابی کی طرف اٹھایا جانے والا پہلا قدم مشکل ہوتا ہے،مگر یاد رکھئے!مشکل آسانی ضرور لاتی ہے۔ اللہ پاک سال  2022 کو دینی اور دنیاوی دونوں لحاظ سے عافیت کے ساتھ گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بجاہِ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
فرسٹ :اسلام میں  اخوت و بھائی چارے کی اہمیت
بنتِ  محمدسلطان(واہ کینٹ)
الحمدُ للہ کہ اس نے ہمیں انسان بنایا اور پھر مسلمان بنایا، عقل و شعور عطا فرمایا، ہدایت کے لئے قرآنِ کریم عطا فرمایا اور اس کلامِ پاک میں فرمایا:ترجمۂ کنزالعرفان:اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں،بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور بُرائی سے منع کرتے ہیں۔ ( پ10،التوبہ:71)
اخوت و بھائی چارہ سنتِ رسول سے ثابت ہے۔چنانچہ مکے سے مدینے کی طرف ہجرت کے وقت جب مسلمان رضائے الٰہی و حکمِ مصطفےٰ پر عمل کرنے کے لئے اپنے گھر بار،کاروبار، جائیداد سب چھوڑ کر اپنے آقا کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  پر آس رکھے مدینے پہنچے تو خالی ہاتھ تھے۔اس موقع پر میرے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے شفقت فرماتے ہوئے ایک ایک مہاجر صحابی کو ایک ایک انصاری صحابی کا بھائی بنا دیا۔ انصاری صحابہ  کرام نے بھائی ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے اپنے مال، جائیداد اور گھر بار سب میں اپنے مہاجر بھائیوں کو حق دیا،اسے مواخاتِ مدینہ بھی کہتے ہیں۔چنانچہ 
رسولُ اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے (مواخات کے تحت) حضرت عبدُ الرحمن بن عوف مہاجر رَضِیَ اللہُ عنہ کو حضرت سعد بن ربیع انصاری رَضِیَ اللہُ عنہ کا بھائی بنادیا تو حضرت سعد  رَضِیَ اللہُ عنہ نے حضرت عبدُ الرحمن  رَضِیَ اللہُ عنہ سے کہا:میں انصار میں سب سے زیادہ مال دا رہوں، میں اپنے مال میں سے نصف آپ کو دیتا ہوں۔حضرت عبدُ الرحمن رَضِیَ اللہُ عنہ نے کہا:آپ کا مال آپ کے لئے برکت والا ہو!کیا یہاں کوئی بازارِ تجارت (منڈی)ہے؟حضرت سعد  رَضِیَ اللہُ عنہ نے کہا:ہاں ہے اور انہیں”بنو قینقاع “کے بازار کا پتا بتایا۔حضرت عبدُ الرحمن  رَضِیَ اللہُ عنہ صبح منڈی گئے، شام کو منافع کا پنیر اور مکھن ساتھ لائے، اسی طرح روزانہ منڈی میں جاتے اور تجارت کرتے رہے،تھوڑے ہی عرصے میں وہ مالدار بن گئے اور انہوں نے شادی بھی کرلی۔(4)اس واقعے سے ہم اندازہ لگا سکتی ہیں کہ اسلام میں اخوت و بھائی چارے کی کتنی اہمیت ہے!اگر اخوت و بھائی چارے کی اہمیت نہ ہوتی تو نبیِ کریم  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم یہ نہ فرماتے:ایک مومن دوسرے مومن کے لئے عمارت کی طرح ہے،جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کر تا ہے۔ (5)ایک مقام پر فرمایا: مسلمانوں کی آپس میں محبت، مہربانی اور ہمدردی کی مثال ایک جسم کی طرح ہے۔جب جسم کاکوئی عضو بیمار ہوتا ہے تو بخار اور بے خوابی میں اس کا سارا بدن شریک ہوتا ہے۔(6) پوری امت کی ترقی و خوشحالی اور استحکام،اخوت و بھائی چارے کے فروغ میں ہے اور بھائی چارے کی بنیاد مساوات اور باہمی محبت پر ہے۔ لہٰذا اگر مسلمان لسانی تعصب اور مفاد پرستی سے نکل کر بھائی بھائی بن جائیں تو آج بھی امتِ مسلمہ اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کر سکتی ہے۔ 
 جس طرح پوری امت کی ترقی و خوشحالی کا راز اخوت میں پوشیدہ ہے،اسی طرح ایک معاشرے حتی کہ ایک گھرانے کے استحکام کے لئے بھی اخوت و بھائی چارے کی ضرورت ہے،جس کے بعد اچھے اخلاق اور حقوق و فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ایک مثالی اسلامی معاشرہ وجود میں آئے گا اور اسلامی دنیا کے بےتحاشا مسائل حل ہوں گے۔نیز اگر مسلمان کسی کو کسی سے کمتر نہ سمجھیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ایثار و قربانی سے پیش آئیں تو امتِ مسلمہ پوری دنیا کے لئے عملی نمونہ بن جائے گی۔
فرسٹ:شانِ یارِ غار بزبانِ حیدرِ کرار
بنتِ  محمد سلیم مدنیہ(حیدرآباد)
یارِ غارویارِ مزار حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ عنہ ایسےصحابیِ رسول ہیں جن سے مولا علی رَضِیَ اللہُ عنہ کو والہانہ محبت تھی۔ حضرت علی رَضِیَ اللہُ عنہ نے بذاتِ خود شانِ صدیقِ اکبر کو بیان فرمایا ہے،چنانچہ حضرت علی،حیدرِ کرار رَضِیَ اللہُ عنہ فرماتے ہیں: خَیْرُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّھَا بُوْ بَکْرٍ،ثُمَّ عُمَرُ یعنی اس امت میں،اس امت کے نبی کے بعد سب سے بہتر حضرت ابو بکر،پھر حضرت عمر رَضِیَ اللہُ عنہما ہیں۔(7)معلوم ہوا!حضرت مولیٰ علی رَضِیَ اللہُ عنہ بھی حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ عنہ کے سب سے افضل ہونے کے قائل تھے۔حضرت علی        رَضِیَ اللہُ عنہ نے منبر پر خطبہ ارشاد فرمایا اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا:مجھے پتا چلا ہے کہ کچھ لوگ مجھے حضرت ابو بکر و عمر  رَضِیَ اللہُ عنہما پر فضیلت دے رہے ہیں!اگر میں اس معاملے میں مقدم ہوں تو سزا کا حق دار ہوں،تقدیم سے پہلے مجھے سزا نا پسند ہے۔توجس  نے ایسا کہا(یعنی مجھے حضرت صدیقِ اکبر و عمر رَضِیَ اللہُ عنہما پر فضیلت دی)وہ  مُفْتَرِی(بہتان لگانے والا) ہے۔اس کو وہی سزا دی جائے گی جو مُفْتَرِی (بہتان لگانے والے) کو دی جاتی ہے۔ (8) معلوم ہوا! جب حضرت علی  رَضِیَ اللہُ عنہ کو حضرت ابوبکر  صدیق  رَضِیَ اللہُ عنہ پر فضیلت دی گئی تو آپ کا منبر پر جلوہ افروز ہو کر غم و غصے کا اعلان کرنا کوئی عام بات نہ تھی۔آپ کا مبارک انداز بتا رہا ہے کہ یہ مسئلہ کئی مسائل سے زیادہ اہمیت کا حامل تھا کہ  نہ صرف آپ نے افضل کہنے والوں کا رد فرمایا، بلکہ انہیں جھوٹا قرار دے کر سزا کا حق دار بھی بتایا۔بات یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی،حضرت مولیٰ علی رَضِیَ اللہُ عنہ اپنی زبانِ مبارک سے شانِ صدیق بیان فرما رہے ہیں کہ ہمیں اس بات کا یقین   ہے کہ حضرت ابوبکر  صدیق رَضِیَ اللہُ عنہ ہی رسولُ اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد زیادہ حق دار ہیں،وہ غار کے ساتھی اور دو میں سے دوسرے ہیں۔نیز  ہم ان کی بزرگی اور بڑائی کے قائل ہیں۔رسولُ اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنی حیاتِ طیبہ میں انہی کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔(9)سبحان اللہ! حضرت مولیٰ علی رَضِیَ اللہُ عنہ نے کس قدر والہانہ اور محبت بھرے انداز میں حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ عنہ کی مدح و ستائش،عظمت و رفعت، منزلت و مرتبت اور امتیازی خصوصیات کو بیان فرمایا،نیز  اپنے کلام کواس انداز میں  مضبوط کیا کہ انکار کی گنجائش نہ رہی۔اللہ  پاک ہمیں بھی صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ عنہم سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بجاہِ النبی الکریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
 جامعات کی معلمات ، ناظمات اور تنظیمی ذمہ داران کے لئے خوش خبری
الحمد للہ! اسلامی بہنوں کی تحریری صلاحیتوں میں نکھار لانے کے لئے  ماہنامہ فیضان مدینہ میں سلسلہ تحریری مقابلہ کا آغاز کیا گیا تھا جس میں کثیر اسلامی بہنوں نے  مضامین لکھ کر فوائد و منافع حاصل کئے اور اپنی تحریری صلاحیتوں کو اجاگر کیااور  ایسی اسلامی بہنوں کی حوصلہ افزائی کی گئی، اسی طرح اب ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہوئےماہنامہ فیضان مدینہ   تحریری مقابلہ کی طرح ماہنامہ خواتین کے لئے بھی ایک خاص تحریری مقابلہ اپریل سے  شروع کیا جارہا ہے  اس میں بھی ہر ماہ 3 عنوانات ہوں گے جس پر اسلامی بہنیں مضمون لکھیں گی۔ اچھا لکھنے والی اسلامی بہنوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی لیکن انہیں کوئی انعامی چیک نہیں پیش کیا جائے البتہ انہیں ماہنامہ خواتین میں مضمون لکھنے کے لئے ترجیح دی جائے گی،  اس تحریری مقابلہ  کے مضامین جمع کروانے کی آخری انگریزی  تاریخ20 ہوگی۔

تحریری مقابلہ کی شرائط:

یہ مضامین صرف  ایسی اسلامی بہنیں لکھیں گی جو  جامعہ کی معلمہ  یا ناظمہ،یا تنظیمی سطح پر ذمہ دار ہوں۔* ہر مضمون میں تمہید و اختتامیہ ضرور ہو۔*مضمون کے الفاظ تقریبا 500 ہوں  ۔*مضامین میں حوالہ جات لازمی لکھے جائیں۔* مضمون کسی بھی مقام مثلا نیٹ کتب وغیرہ سے کاپی پیسٹ ہرگز ہرگز  نہ ہو۔*اپنی تحریری صلاحیتوں کا استعمال لازمی  کیا گیا ہو۔* مضمون کے لئے مواد مستند اور سنی علما کی کتب سے لیا گیاہو ۔*آیات کا  ترجمہ فقط ترجمۂ کنز الایمان یا کنز العرفان سے ہو لیکن آیات ذکر نہ ہوں۔ *مضامین میں املا اور اردو  ادب کا خاص خیال رکھا جائے۔* مضمون  حتی المقدور کمپوز بھیجا جائے اگر ایسا کرنا مشکل ہوتو پھر  صاف ستھری تصاویر کھینچ کر بھیجی جائیں تاکہ اسے پڑھنے اور سمجھنے میں کسی قسم کی دقت یا دشواری نہ ہو۔ *ماہنامہ  خواتین ویب ایڈیشن کو دئیے  جانے والے مضامین کسی اور کو نہ دئیے جائیں۔
مضامین ریجیکٹ ہونے کی صورتیں:
*اگر مضمون کا مواد کسی ایک ہی کتاب سے بعینہ کاپی ہوا  یا ایک ہی کتاب کے  مختلف مقامات سے لکھا اور اپنی تحریری  صلاحیت بالکل استعمال نہ کی ۔ *مضمون موضوع کے مطابق نہ ہوا،* مضمون کا مواد غیر مستند ہوا، *مضمون طویل ہوا، یا بہت زیادہ مختصر ہوا* مضمون میں نام پتا، درجہ جامعہ ،مکمل ایڈریس اور مکمل کوائف  نہ ہوئے،  ان تمام صورتوں میں مضمون ریجیکٹ ہوجائے گا۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن