سلسلہ: شرح حدیث
موضوع:
بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:یَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ جَارَۃٌ لِجَارَتِھَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاۃٍ یعنی اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کیلئے کسی چیز کے تحفے کو حقیر نہ سمجھے،اگرچہ وہ بکری کا کُھر ہی کیوں نہ ہو۔
کُھر کا ذکر کرنے کی وجہ: کم گوشت والی ہڈی کو”فِرْسِن (کُھر)“ کہتے ہیں(جو بظاہر ایک معمولی چیز ہے۔)حدیثِ پاک میں مذکور لفظِ”فِرْسِن“سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ معمولی چیز کا تحفہ دینے اور قبول کرنے میں مبالغہ کیا جائے، حقیقتاً کُھر مراد نہیں ہے،کیونکہ عام طور پر کُھر کو تحفے میں دینے کا رواج نہیں۔(2) حدیثِ مذکور کے تحت حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: مطلب حدیث کا یہ ہے کہ اگر تھوڑی چیز میسر آئے تو وہی ہدیہ کرے یہ نہ سمجھے کہ ذرا سی چیز کیا ہدیہ کی جائے یا یہ کہ کسی نے تھوڑی چیز ہدیہ کی تو اُسے نظرِ حقارت سے نہ دیکھے یہ نہ سمجھے کہ یہ کیا ذرا سی چیز بھیجی ہے! اس حکم میں خاص عورتوں کو ممانعت فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں یہ مادہ بہت پایا جاتا ہے بات بات پر اِس قسم کی نکتہ چینی کیا کرتی ہیں اور عموماً جو چیز یں ہدیہ بھیجی جاتی ہیں وہ عورتوں ہی کے قبضے میں ہوتی ہیں لہٰذا حکم دیا جاتا ہے کہ پڑوس والی کو چیز بھیجنے میں یہ خیال نہ کرے کہ کم ہے ۔(3)شوربے میں پانی زیادہ کردو:ہمیں پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اچھے سلوک میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق انہیں کچھ نہ کچھ ہدیہ بھیجتی رہیں، اس کی ترغیب حدیثِ مبارکہ میں بھی موجود ہے، چنانچہ سرکارِ مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابو ذر! جب تم شوربہ پکاؤ تو اِس کا پانی زیادہ رکھو اور اپنے پڑوسی کا خیال رکھو۔ (4) حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ معمولی سالن بھی پڑوسیوں کو بھیجتے رہنا چاہیے،کیونکہ سرکار (صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم) نے یہاں شوربہ فر مایا گوشت کا ہو یا کسی اور چیز کا۔ دوسرے یہ کہ ہر پڑوسی کو ہدیہ دینا چاہیے قریب ہو یا دور اگرچہ قریب کا حق زیادہ ہے۔ تیسرے یہ کہ ہمیشہ لذت پر اُلفت اور محبت کو ترجیح دینا چاہیے، کیونکہ جب شوربے میں فقط پانی پڑے گا تو(اگرچہ)مزہ کم ہو جائے گا، لیکن اس کے ذریعے پڑوسیوں سے تعلقات زیادہ ہو جائیں گے۔(5) یاد رہے کہ پڑوسی سے مراد پڑوس کی خواتین ہیں کیونکہ نامحرم مردوں سے بات چیت اور راہ و رسم بڑھانے کی شریعت نے بالکل اجازت نہیں دی۔
تحفے کو حقیر سمجھ کر رد نہ کریں:تحفے کو حقیر سمجھ کر رد کردینا تکبر جبکہ معمولی تحفے کو بھی خوش دلی کے ساتھ قبول کرنا عاجزی،اعلیٰ ظرفی اور اخلاق کے بہترین ہونے کی علامت ہے۔جس طرح ہم اللہ پاک کی ذات سے یہ اُمید ر کھتی ہیں کہ وہ ہمارے بظاہر معمولی نظر آنے والے اعمال و صدقات کو بھی اپنی بارگاہ میں قبول فرما کر ہمیں اپنی شان کے لائق اجر و ثواب عطا فرمائے، اسی طرح اللہ پاک کی مخلوق کے ساتھ بھی ہمیں یہی انداز رکھنا چاہئے کہ اگر ہماری کوئی غریب پڑوسن بظاہر معمولی نظر آنے والی چیز بھی ہدیہ بھیجے،تو اس کو حقیر سمجھ کر رد کردینے کے بجائے شکریہ کے ساتھ قبول کرکے اسے اپنی استطَاعت کے مطابق اچھا بدل دینے کی کوشش کریں۔ تحفہ محبت بڑھنے کا سبب ہے:تحفہ دینے سے آپس میں محبتیں پروان چڑھتی ہیں،جیسا کہ حدیثِ مبارکہ میں ہے:تَھَادَوْا تَحَابُّوْا یعنی ایک دوسرے کو تحفہ دو،محبت بڑھے گی۔(6)ایک اور حدیثِ مبارکہ میں ہے:تحفہ دیا کرو کہ اس سے حسد دور ہوتا ہے۔(7) تحفہ قبول کرنا سنت ہے:تحفہ قبول کرنا ہمارے پیارے اور آخری نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سنت بھی ہے۔ آپ ہر طرح کا تحفہ قبول فرماتے اور اس میں ادنیٰ و اعلیٰ کا امتیاز نہ فرماتے، جیسا کہ خود ارشاد فرماتے ہیں: مجھے اگر ایک دستی یا پائے کے لئے دعوت دی جائے، تو ضرور میں قبول کروں گا اور اگر تحفے میں مجھے دستی یا پایا بھیجا جائے،تو ضرور قبول کرلوں گا۔(8)ایک اور جگہ فرمایا:مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ رَيْحَانٌ فَلَا يَرُدُّهُ،فَاِنَّهُ خَفِيفُ الْمَحْمِلِ طَيِّبُ الرِّيحِ جس پر خوشبو ( تحفۃً ) پیش کی جائے وہ اسے واپس نہ کرے کہ اس کا بوجھ ہلکا ہے خوشبو اچھی ہے۔(9) تحفہ نہ لوٹانے کی وجہ: علامہ طیبی رحمۃُ اللہِ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:تحفے کو واپس نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ تحفہ جب معمولی اورفائدہ مند ہو تو اسے واپس نہ کرو،تاکہ تحفہ دینے والےکی دِل شکنی نہ ہو۔(10) حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: رَيْحَانٌ سے ہر خوشبو مراد ہے ،پھول ہوں یا عطر چنبیلی وغیرہ کا تیل۔ اگرچہ دوسرے ہدیے بھی واپس کرنا خلافِ اخلاق ہے مگر خوشبو واپس کرنا تو بہت ہی خشک مزاجی کی دلیل ہے کہ اس میں وزن ہلکا،قیمت معمولی(اور) خوشبو اعلیٰ ہے۔(11)تحفہ رد کرنا دل آزاری کا باعث ہے:تحفہ رد کردینا دل آزاری کا باعث ہے، جبکہ بہترین مسلمان کی علامت تو یہ ہے کہ وہ اپنی زبان، ہاتھ اور دیگر اعضا سے مسلمانوں کو تکلیف نہیں پہنچاتا، لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ اپنےمحرم یا کسی اسلامی بہن کے دیئے ہوئے معمولی تحفے کو حقیر سمجھنے،قول و فعل سے اس کا اظہار کرنے، دوسروں کے سامنے اس کا مذاق اُڑانے اور اس کی تذلیل کرنے کی بجائے یہ سوچ کر خوش دلی کے ساتھ قبول کرے کہ یہ تحفہ اگرچہ معمولی ہے،لیکن اس نے کتنی محبت و خلوص کے ساتھ دیا ہے، یوں باہمی محبتیں بڑھنے کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی ثواب حاصل ہوگا۔البتہ ناجائز محبت کرنے والوں کا آپس میں تحفے تحائف کا لین دین کرنا رشوت ہے، چنانچہ
عاشق و معشوق کےآپس میں تحائف دینے کے متعلق فقہ ِ حنفی کی مشہور کتاب”بحرالرائق“میں ہے:عاشق و معشوق (نا جائز محبت میں گرفتار)آپس میں ایک دوسرے کو جو(تحائف) دیتے ہیں وہ رشوت ہے، انہیں اس تحفے کا واپس کرنا واجب ہے اور ایسے تحفے(لینے والے کی)ملکیت میں داخل نہیں ہوتے۔(12)لہٰذاان کا آپس میں تحفہ لینا اور دینا دونوں ہی ناجائز و حرام ہے۔اگر کسی نے یہ تحائف لئے ہیں تو اس پر توبہ کے ساتھ ساتھ یہ تحائف واپس کرنا بھی لازم ہے۔(13)اللہ پاک ہمیں پڑوسنوں کے حُقوق ادا کرنے،مسلمانوں کی دل آزاری اور انہیں حقیر سمجھنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم