دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Mahanama Khawateen (Web Edition) January-2022 | ماہنامہ خواتین (ویب ایڈیشن) جنوری-2022

Musalman Aurat

book_icon
ماہنامہ خواتین (ویب ایڈیشن) جنوری-2022
سلسلہ: اسلام اور عورت
موضوع:

مسلمان عورت کا اندازِ گفتگو

گفتگو دو طرح کی ہوتی ہے، اچھی یا بری۔ اس لئے اسلام نے ہمیں اس کے آداب بھی سکھائے ہیں، لہٰذا بحیثیت عورت ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہمارا اندازِ گفتگو کیسا ہو ؟کیونکہ گفتگو شخصیت کی ترجمانی کرتی ہے، خواتین میں کثرتِ کلام کی عادت چونکہ زیادہ ہوتی ہے، لہٰذا  ہمیں غور کرنے کی حاجت ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری گفتار سے ہمارا کردار متاثر ہو رہا ہو۔ اس لئے اللہ پاک کی طرف سے دی گئی اس نعمت کا جائز اور احسن استعمال  سیکھنا ہماری ذمّہ داری بھی ہے اور ضرورت بھی۔ خواتین کےاندازِ گفتگو کے بارے میں قرآنِ کریم میں بہترین رہنمائی موجود ہے۔ چنانچہ ارشادِ ربّ العالمین ہے:
اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ (پ22، احزاب:32)ترجمۂ  کنز العرفان: اگرتم اللہ سے ڈرتی ہو تو بات کرنے میں  ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا مریض آدمی کچھ لالچ کرے۔
آیت کے اس حصے میں  ازواجِ مُطَہّرات رضی اللہ  عنہنّ کو ایک ادب کی تعلیم دی گئی ہے کہ اگر تم اللہ پاک کے حکم اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   کی رضا کی مخالفت کرنے سے ڈرتی ہو تو جب کسی ضرورت کی بنا پر غیر مرد سے پسِ پردہ گفتگو کرنی پڑ جائے تو اس وقت ایسا انداز اختیار کرو جس سے لہجے میں  نزاکت نہ آنے پائے اور بات میں  نرمی نہ ہو بلکہ انتہائی سادگی سے بات کی جائے اور اگر دین و اسلام ، نیکی کی تعلیم اور وعظ و نصیحت کی بات کرنے کی ضرورت پیش آئے تو بھی نرم اور نازک لہجے میں  نہ ہو۔( )   
محترم اسلامی بہنو! ذرا غور کیجئے! جب مقدّس اُمّہات المومنین  کو یہ حکم ہے کہ وہ نازک لہجے اور نرم انداز سے بات نہ کریں  تو دیگر عورتوں  کے لئے کس قدر سخت حکم ہوگا! چنانچہ با حیا خواتین کے لئے یہی مناسب ہے کہ جب انہیں  کسی مجبوری کی وجہ سے اجنبی مرد کے ساتھ بات کرنی پڑ جائے تو ان کے لہجے اور آواز میں نرمی اور لچک نہ ہو بلکہ لہجے میں  سختی اور آواز میں  کرختگی ہو، تاکہ سامنے والے کے دل میں کوئی بُری لالچ اور شہوت پیدا نہ ہو۔ نیز قرآنِ کریم میں عورت کو حکم ہے کہ زمین پر زور سے پیر نہ مارے تاکہ اس کے پازیب کی آواز اجنبی مردوں کو سنائی نہ دے تو  اندازہ کیجئے اس کی اپنی آواز تو زیادہ فتنہ کا باعث ہے لہٰذا اس کا چھپانا کتنا ضروری ہو گا۔ 
یاد رہے! عورت کی آواز بھی عورت ہے۔ اسے اجنبیوں سے گفتگو کی اجازت بعض شرائط کے ساتھ دی گئی ہے، جیسا کہ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: عورت اپنے تمام محارم(سے گفتگو کر سکتی ہے) اور(اگر)حاجت ہو اور انديشۂ فتنہ نہ ہو، نہ خلوت (یعنی تنہائی) ہو تو پردے کے اندر سے بعض نامحرم سے بھی (بات کر سکتی ہے)۔(2)اسی طرح  اگر ہم آپس میں بھی گفتگو کریں تو شریعت کا پاس رکھتے ہوئے اچھے انداز میں آپ جناب سے اور نرمی سے کریں، غیر مہذّب گفتگو کرنا بالکل مناسب نہیں، کیونکہ ایسی حرکتیں  دوسروں کو متنفر کرتی ہیں،  ضرورت کے مطابق بات چیت کریں اور فضول گفتگو سے بچیں کہ فضول گوئی اللہ پاک کو ناپسند ہے اور اس سے جھوٹ، غیبت، چغلی وغیرہ کبیرہ گناہوں کا دروازہ کھلتا ہے۔اللہ پاک ہمیں گفتگو کا سلیقہ عطا فرمائے۔   اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  
 سلسلہ: معاشرے میں عورت کا کردار
موضوع:

بیٹی کا کردار

بیٹیوں کو قابلِ نفرت سمجھنے اور زندہ زمین میں دفنا دینے کے انسانیت سوز  رواج  کو انسانیت کے سچے اور حقیقی محسن، ہمارے آقا  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  نے اسی وقت اپنے قدموں تلے روند ڈالا تھا: جب آپ  نے بیٹیوں کو تکلیف نہ دینے، کمتر نہ سمجھنے اور ان پر بیٹوں کو ترجیح نہ دینے والے باپ کو  ( )   اور بیٹیوں، بہنوں یا خاندان کی بچیوں کی پروش کرنے، ان کیلئے مشکلات جھیلنے اور ان کے اخراجات برداشت کرنے والے حوصلہ مند شفیق باپ،  خیرخواہ بھائی اور ہمدرد سرپرستوں کو جنت کی خوشخبری سنائی۔(2) یوں مسلم معاشرے میں بیٹیوں کو جہاں اہمیت ملی، وہیں ان کو گھر کی عزت سمجھا جاتا  اور مان بھی دیا جاتا ہے۔ ہر عورت چونکہ پہلے بیٹی ہوتی ہے، بعد میں بہن، ماں اور دیگر رشتوں کے اعتبار سے پہچانی جاتی ہے۔ لہٰذا بیٹی ہونے کی حیثیت سے وہ سماج میں کوئی اہم کردار ادا کرنا ہی چاہتی ہے تو اسکی چند صورتیں ہیں: (1) قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ (پ22، الاحزاب:  33) کے حکمِ قرآنی پر عمل کرتے ہوئے بحفاظت گھر میں رہ کر اپنے والد اور بھائیوں کی آن بان اور شان کی حفاظت کرے، انہیں گھریلو فکروں سے آزاد، مطمئن اور بے فکر رکھے۔ (2)علم سیکھے اور سکھائے تا کہ سماج سے جہالت کے اندھیرے دور ہوں اور علم کی روشنی پھیلے کہ یہ وہ عظیم خدمت ہے جو دین و دنیا کے لئے نفع بخش بھی ہے اور ہماری متعدد بزرگ خواتین  کی سیرت کا اہم حصہ بھی۔ امام حسن کی پوتی سیدہ نفیسہ رضی اللہُ عنہا نے علم کی اس قدر شمعیں جلائیں کہ جید ائمہ حتی کہ امام شافعی کا بھی شمار آپ کے طلبہ میں ہوتا ہے۔(3) امام مالک رحمۃُ اللہِ علیہ  کے طلبہ سے مؤطا پڑھتے ہوئے کوئی غلطی ہوتی تو ان کی صاحبزادی اپنے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹاتیں  جس پر امام مالک طالبِ علم سے فرماتے: دوبارہ پڑھو، تم سے غلطی ہوئی ہے۔(4)مگر یاد رکھئے! پڑھنے پڑھانے کے لئے معاشی ضروریات کے تحت اگر گھر سے باہر جانا پڑے تو والد اور بھائی کا دامنِ عزت بچانا بھی بیٹی کے معاشرتی کردار کا اہم حصہ ہے۔ (3) اس دور میں بیمار یا زخمی ہونے یا عورتوں سے متعلق مخصوص امراض و معاملات میں مبتلا ہونے کی صورت میں بہت سی خواتین کو لیڈی ڈاکٹر میسر نہ آنے کی وجہ سے آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لہٰذا اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ شریعت کی پاسداری کرتے ہوئے زندگی کے اس اہم شعبہ میں اپنی ذمہ داری ادا کرنا بھی ایک سماجی خدمت ہے۔ ماضی میں بہت سی بزرگ خواتین بھی یہ خدمات ادا کر چکی ہیں۔ جیسا کہ خاتونِ جنت رضی اللہُ عنہا کی بیٹی حضرت امِّ کلثوم رضی اللہُ عنہا نے ایک بار اپنے خاوند حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہُ عنہ کے کہنے پر ایک مسافر عورت کی زچگی    کی حالت میں مدد فرمائی ۔ (5) صحابیات جنگوں میں مجاہدین  کے پیچھے رہتیں ، کھانا پکاتیں ، زخمیوں  اور بیماروں کا علاج کرتیں۔(6)  یاد رہے کہ یہ صحابیات کھانا عام غازیوں کیلئے پکاتی تھیں مگر دوا  اور مرہم پٹی یا تو صرف اپنے محرم رشتہ داروں کی کرتی تھیں یا عام غازیوں کی بھی مگر پردہ کے ساتھ بغیر انہیں ہاتھ لگائے۔ غرضیکہ اس حدیث کو اِس زمانہ کی بے پردگی، آوارگی اور عورتوں کی آزادی پر دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔(7) لہٰذا فی زمانہ جو خواتین یہ شعبہ اپنائیں اوّلاً تو خود کو عورتوں کے علاج تک ہی محدود رکھیں اور اگر ضرورتاً مردوں سے بات کرنی پڑے تو   فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ  (پ 22، الاحزاب: 32)کے حکم پر عمل کرتے ہوئے نرمی و نزاکت کے بجائے سادہ  و روکھے انداز میں بات کرنی چاہئے۔
 سلسلہ: خاندان میں عورت کا کردار 
موضوع: 

بچوں کو احساسِ کمتری سے بچائیں

بچپن میں بچوں کو گھر سے ملنے والا پیار ان کے کردار کی سلامتی، شخصیت کی تعمیر اور قابلیت و صلاحیت کی ترقی کا ضامن بنتا ہے جس کی وجہ سے وہ ملک و قوم کے زبردست معمار بنتے ہیں۔ لہٰذا بچوں کی ابتدائی عمر سے ہی ان کی شخصیت کی طرف بھر پور توجہ دینا چاہئے تا کہ ان میں فلک بوس پہاڑوں جیسا حوصلہ اور اعتماد پیدا ہو اور وہ کسی بھی معاملے میں احساسِ کمتری میں مبتلا نہ ہوں کہ احساس کمتری ایک نفسیاتی بیماری ہے، اس کا شکار بچہ ہو یا جوان اس کی شخصیت کا توازن ختم ہو جاتا ہے، صلاحیت کا گلا گھٹ جاتا ہے، خود پر سے اعتماد ختم ہو جاتا ہے  اور کچھ کر سکنے کا حوصلہ نہیں رہتا۔
بچے کا احساسِ کمتری میں مبتلا ہونا یا خود اعتمادی سے لبریز ہونا زیادہ تر گھر والوں یا اساتذہ کے روئیے ہی پر منحصر ہوتا ہے، اس لئے گھر والوں بالخصوص والدین اور ٹیچرز کو چاہئے کہ چند باتوں کا خاص خیال رکھیں:(1)بچے کو تنقید کا نشانہ نہ بنائیں۔ (2)بچے کے ہر کام  میں نقص نہ نکالیں۔(3) اگر اس کے کسی کام میں کوئی جزوی خرابی دیکھیں تو فوراً ہی وہ خرابی بیان نہ کریں بلکہ پہلے مجموعی کام پر جی بھر کر اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ (4) بچے کی عزّت نفس کا بہت خیال رکھیں دوسروں کے سامنے بچے کو مارنا تو درکنار چیخ و پکار کرنے اور اسے گھور کر ہراساں کرنے سے بھی گریز کیا جائے کہ اس سے بچے کی عزّتِ نفس مجروح ہوتی ہے اور وہ یہ سوچ کر احساسِ کمتری میں پڑ جاتا ہے کہ میری تو کوئی اہمیت ہی نہیں۔  (5)بچوں کو مارنے پیٹنے سے مکمل گریز کیجئے  البتہ ضرورتاً ڈانٹنا پڑ جائے تو آپ کے انداز میں بیگانگی کے بجائے شفقت و اصلاح کا پہلو ضرور دکھائی دے، یاد رکھئے! سنار  ہلکے ہاتھ سے ہی سونے کے ٹکڑے کو دیدہ زیب بناتا ہے، سختی سے وہ کبھی اسے زیور میں نہیں ڈھال سکتا۔ (6)بچے کو اس کا بچپن آزادانہ گزارنے دیں، بے جا  روک ٹوک نہ کریں حتی کہ بچے کو کسی چیز سے  نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو تب بھی حتی الامکان روک ٹوک کے بجائے اولاً اس نقصان سے بچاؤ کا کوئی متبادل انتظام کریں ،ہاں! اگر کوئی صورت نہ ہو تو بچے کو نرمی سے اس چیز کے نقصان سے آگاہ کریں۔ جیسے اجنبیوں کو گھر میں داخلے سے روکنے کے لئے گھر کے باہر کھڑے ہو کر ہر  راہ گیر کو منع نہیں کیا جاتا بلکہ دروازے کے ذریعے اس کا سدباب کیا جاتا ہے۔(7) قد کاٹھ، رنگ  روپ، صحت و پھرتی، ذہانت و یاد داشت یا پڑھائی لکھائی وغیرہ کسی چیز میں بھی دو بچوں کا ان کی موجودگی میں ہر گز باہمی موازنہ نہ کریں، اس سے ان میں سے ایک بچہ خود کو کم حیثیت سمجھ کر احساسِ کمتری کا شکار ہو سکتا ہے ۔
 یاد رکھئے! ہمیں ہر ایسے طرزِ عمل سے بچنا چاہئے جس سے  کسی بھی بچے کے احساسِ محرومی میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو خواہ اپنا ہو یا پڑوس کا۔ آخری نبی مکی مدنی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ایک بار پڑوسیوں کے مختلف حقوق بیان کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ اگر پھل پڑوسی کے گھر نہ بھیج سکو تو اپنے بچوں کو وہ پھل باہر بھی نہ لے جانے دوکہ کہیں اس سے پڑوسی کے بچے احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوجائیں۔ ( )
 سلسلہ: ازواجِ انبیا 
موضوع:

ازواجِ حضرت نوح علیہ السّلام

اللہ پاک کے برگزیدہ رسولوں میں سے حضرت نوح  علیہ السّلام بھی ہیں، آپ کی دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک مسلمان، نیک سیرت  اور فرمانبردار تھیں جو طوفان کے وقت حضرت نوح علیہ السّلام کے ساتھ کشتی میں  سوار ہوئی تھیں، ان کے نام میں اختلاف پایا جاتا ہے، البتہ مکتبۃ المدینہ کی کتاب ازواجِ انبیا کی حکایات  کے صفحہ 62 پر سَمْط النجوم  کے حوالے سے آپ کا نام   عمود  لکھا ہے۔ ان کے بطن سے حضرت نوح علیہ السّلام کے تین مسلمان بیٹے سام، حام اور یافث  تھے اور یہ سب بھی طوفان سے محفوظ رہے۔( )    جبکہ دوسری بیوی کافرہ و نافرمان تھی، اس کا نام واعلہ تھا، اسے کئی سال تک حضرت نوح علیہ السّلام  کی خدمت میں رہنے کا موقع ملا مگر وہ آپ کی صحبت پُر اَثَر سے فیض یاب نہ ہو سکی بلکہ کفار کے ساتھ مل کر آپ کو نقصان پہنچانے کے منصوبے بناتی رہی۔ مثلاً یہ اپنی قوم میں جا کر آپ کے خلاف جھوٹی باتیں کرتی اور آپ علیہ السّلام کی گستاخی کی مرتکب ہوتی۔ چنانچہ ایک مرتبہ اس نے حضرت نوح علیہ السّلام سے کہا: کیا آپ کا ربّ آپ کی مدد  کرے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں! وہ ضرور مدد فرمائے گا۔ تو وہ بولی: کب کرے گا ؟ آپ نے فرمایا: جب تنور سے پانی ابلے گا۔ یہ سن کر وہ اپنی قوم کے پاس گئی اور ان سے کہنے لگی: اے لوگو! حضرت نوح مجنون ہیں۔ معاذ اللہ ۔ بالآخر اس  عورت کو اس کی گستاخیوں کی سزا ملی اور وہ کفر کی ہی حالت میں مری اور اس کو عذابِ الٰہی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، معلوم ہوا کہ اللہ کے نبیوں کی گستاخی تباہی و بربادی کا سبب بنتی ہے۔(2)
حضرت نوح علیہ السّلام کی دونوں ازواج کے حالات تاریخ کے اوراق میں کچھ خاص نہیں ملتے، البتہ! آپ کی نافرمان و کافر بیوی کا تذکرہ قرآنِ کریم میں اللہ پاک نے کچھ یوں فرمایا ہے: ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍؕ-  (پ28، التحریم: 10)ترجمہ کنز العرفان: اللہ نے کافروں  کیلئے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کو مثال بنا دیا۔
تفسیرِ صِراطُ الجنان میں  ہے کہ اللہ پاک نے حضرت نوح علیہ السّلام اور حضرت لوط علیہ السّلام کی بیوی کو مثال بنا دیا کہ یہ دونوں  عورتیں  ہمارے دو بندوں  کے نکاح میں  تھیں، پھر انہوں  نے کفر اختیار کر کے دِین کے معاملے میں  اُن سے خیانت کی تو وہ دو مقرب بندے اللہ پاک کے سامنے انہیں  کچھ کام نہ آئے اور ان عورتوں سے موت کے وقت فرما دیا گیا یا قیامت کے دن فرمایا جائے گا کہ تم دونوں  عورتیں  اپنی قوموں  کے کفار کے ساتھ جہنم میں  جاؤ کیونکہ تمہارے اور ان انبیائے کرام علیہمُ السّلام  کے درمیان تمہارے کفر کی وجہ سے کوئی تعلق باقی نہ رہا ۔(تو جس طرح کفر کے ہوتے ہوئے ان عورتوں  کو انبیائے کرام سے رشتہ داری کام نہ آئی اسی طرح اے کفّارِ مکہ! کفر کے ہوتے ہوئے تمہیں  بھی میرے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے رشتہ داری کوئی کام نہ آئے گی)۔(3)
سلسلہ: بزرگ خواتین کے سبق آموز واقعات 
موضوع: 

ملبوسات میں احتیاط

ایک مرتبہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا کے پاس (ان کی بھانجی) حضرت حفصہ رضی اللہُ عنہا آئیں  جنہوں نے باریک دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا نے وہ دوپٹہ لے کر پھاڑ دیا اور انہیں موٹا دوپٹہ اُڑھا دیا۔( )   
سبحانَ اللہ ! یہ تھی عملی تبلیغ اور بچیوں کی صحیح تربیت  کہ اس دوپٹے سے سر کے بال چمک رہے تھے، ستر حاصل نہ تھا تو شروع ہی سے لباس کی بے احتیاطی سے بچنے کی تربیت کرتے ہوئے اپنی بھانجی کو موٹا دوپٹہ پہنا دیا اور باریک دوپٹے کو بھی ضائع نہیں کیا بلکہ اس کے دو حصے کر کے دو رومال بنا دئیے تاکہ کام میں آئے مگر دوبارہ اوڑھنے کے قابل نہ رہے۔(2)
یقیناً حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا کا یہ طرزِ عمل ہماری ان اسلامی بہنوں کو لمحۂ فکریہ  فراہم کرتا ہے جو اپنی بچیوں کو عجیب و غریب فیشن کے لباس، بازوؤں کی نمائش کرتی آڑے ترچھے تراش خراش والی آستینیں، جسمانی رنگت کو ظاہر کرنے والے لیس لگے پاجامے، بالوں اور جسم کی نمائش کرتے جالی دار دوپٹے اور لباس، نگاہوں کو اپنی طرف کھینچنے والے فٹنگ کوٹ اور پرکشش اسٹالرز، پنڈلیوں کی گولائی اور اُبھار واضح کرتی جینز اور ٹائیز ، سینہ اور پشت نمایاں کرنے والے بڑے گلے کی قمیص اور ٹی شرٹس وغیرہ پہنانے میں فخر محسوس کرتی ہیں۔ شاید انہیں اس بات کا بالکل احساس ہی نہیں ہوتا کہ اس حلیے میں ان کی بچیوں کو کون کیسی نظروں سے دیکھے گاظاہر ہے کہ  اگر انہیں اس کا احساس ہوتا تو اس معاملے میں ہرگز چشم پوشی سے کام نہ لیتیں۔ بہت چھوٹی بچیوں پر اگرچہ پردہ فرض نہیں، تاہم انہیں بھی ایسے لباس نہ پہنائیں جس سے کسی کے ذہن میں ہیجان برپا ہو، لہٰذا نو سال کی عمر سے ہی بچیوں کو برقع پہننے کی عادت ڈالیں۔ خیال رہے کہ عورت کے سر سے لے کر پاؤں کے گٹوں کے نیچے تک جسم کا کوئی بھی حصہ مثلاً سر کے بال، بازو، کلائی، گلا، پیٹ یا پنڈلی وغیرہ اجنبی مرد (یعنی نامحرم، جس سے شادی ہمیشہ کیلئے حرام نہ ہو) پر بلا اجازتِ شرعی ظاہر نہیں ہونا چاہئے۔(3)چھوٹی بچیوں پر اگرچہ شریعت ان احکامات کو لاگو نہیں کرتی مگر آج کے اس پرفتن دور میں جبکہ نگاہوں اور خیالات پر شریعت کا پہرہ بٹھانے کا رجحان کافی کم ہو چکا ہے جبکہ آنکھوں اور احساسات کی بدعنوانیاں بہت بڑھ چکی ہیں بلکہ آئے دن پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات میں حیرت انگیز اضافہ ہو چکا ہے ایسے میں کسی متوقع پچھتاوے سے خود کو بچانے اور بچیوں کو بڑا ہونے سے پہلے پہلے شرعی پردے کا عادی بنانے کے لئے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا  کے مبارک طرزِ عمل کے مطابق عام حالات اور تقریبات تمام مواقع پر بچیوں کے اوڑھنے پہننے پر خصوصی توجہ دینے کی شدید ضرورت ہے۔ یاد رکھئے! لوہا جب گرم ہونے کی وجہ سے نرم ہوتا ہے تو اسے اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی رُخ پر موڑنا آسان ہوتا ہے ورنہ بہت مشکل!
یہ نِیم باز سا برقع یہ دیدہ زیب نقاب
نہ دیکھ رَشک سے تہذیب کی نُمائش کو
وُہی ہے راہ ترے عزم و شوق کی منزِل جھلک رہا ہے جَھلا جَھل قمیص کاریشم
کہ سارے پھول یہ کاغذ کے ہیں خداکی قسم
جہاں ہیں عائِشہ و فاطِمہ کے نقشِ قدم
سلسلہ: تذکرہ صالحات
سلسلہ: 

مرحوماتِ دعوتِ اسلامی

مرحومہ اُمِّ احمد مہناز عطاریہ بنتِ محمد قاسم یکم جنوری 1975 عیسوی مطابق 17 ذوالحجۃُ الحرام 1394 ہجری بروز بدھ پنجاب(پاکستان) کے ضلع راجن پور کے ایک پسماندہ شہر جام پور میں پیدا ہوئیں ۔دینی و دنیوی تعلیم آپ نہایت ذہین اور پڑھی لکھی خاتون تھیں،  ناظرہ قرآن کریم مکمل پڑھنے کے علاوہ  B.S.C (بیچلر آف سائنس)تک دنیوی تعلیم بھی حاصل کر رکھی تھی۔ دعوتِ اسلامی سے وابستگی ان کی شادی دعوتِ اسلامی سے وابستہ اسلامی بھائی سے ہوئی ،تھوڑے ہی عرصے میں اپنے خاوند کے اعلیٰ کردار اور حسنِ اخلاق سے متاثر ہو گئیں اور انہی کی انفرادی کوشش کے نتیجے میں خود بھی اپنی عمر کے پچیسویں سال سن 2000 میں دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے باقاعدہ وابستہ ہو گئیں، بس پھر کیا تھا ! دینی ماحول کی برکتیں ملنا شروع ہوئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے نماز روزہ کی پابندی کرنے لگیں اور شرعی پردہ بھی اپنا لیا۔
اخلاقیات: مرحومہ  سبھی اسلامی بہنوں سے نہایت اخلاق سے پیش آتیں اور ہر ایک سے ملنساری کا مظاہرہ کیا کرتیں۔
دینی کاموں کی جستجو  مرحومہ دعوتِ اسلامی سے وابستگی کے بعد سے خود تو صوم و صلوٰۃ اور دینی احکامات کی پابند بن ہی چکی تھیں ساتھ ہی ساتھ اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے مدنی مقصد کے پیشِ نظر علاقے کی دیگر اسلامی بہنوں کو بھی نیکی کی راہ پر چلانے کے لئے کڑھنے لگیں، یقیناً جذبہ رہنمائی کرتا ہے  لہٰذا مرحومہ نے علاقے کی اسلامی بہنوں پر انفرادی کوشش شروع کردی اور اس نیک مقصد کے لئے (خاوند کی رضامندی سے)اپنے وقت کی قربانی دینے سے کبھی دریغ نہ کیا۔جام پور میں دینی کاموں کا آغاز یاد رہے کہ مرحومہ ہی وہ خوش نصیب اسلامی بہن تھیں جن کی جدو جہد جام پور شہر کی اسلامی بہنوں میں دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں کے لئے بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئی ،ان کی انتھک کوششوں سے متعدد اسلامی بہنیں دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہو کر نماز روزے اور شرعی پردے کی پابند بن گئیں  ۔تنظیمی ذمہ داری مرحومہ دعوتِ اسلامی کے آٹھ دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتیں، دینی کاموں میں ان کی سچی لگن کے پیشِ نظر انہیں ڈویژن سطح پر نیک اعمال( پرانا نام مدنی انعامات) کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی تھی۔گھریلو اور معاشرتی نیک نامی مرحومہ اپنے خاوند کی بھی اطاعت گزار  تھیں،اہلِ خانہ کے ساتھ بھی اچھا رویہ رکھتیں اور دیگر اسلامی بہنوں سے بھی بڑی اپنائیت سے پیش آتیں جس کی وجہ سے سب ان کے گرویدہ تھے، مرحومہ کے انتقال کو آج کئی سال گزر چکے مگر اب تک علاقائی اسلامی بہنوں کا انہیں اچھے الفاظ سے یاد کرنا ان کی نیک نامی کی واضح دلیل ہے۔انتقال پُرملال بلاشُبہ یہ نظامِ الٰہی ہے کہ ہر ذی نفس کو موت سے ہم آغوش ہونا ہی پڑتا ہے لہٰذا مرحومہ بھی اپنی زندگی کے کم و بیش آخری 12 سال دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول میں گزار کر 22 مارچ 2012 مطابق 28 ربیع الثانی 1433 ہجری بروز جمعرات  اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملیں۔ وقت انتقال ان کی عمر 37 سال 2 ماہ 22  دن تھی۔اللہ پاک ان کی بے حساب مغفرت فرمائے اور انہیں خاتونِ جنت حضرت فاطمۃُ الزہراء رضی اللہُ عنہا کا پڑوس نصیب فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم 
 موضوع:

سلائی کڑھائی (قسط دوم)

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا سے  ارشاد فرمایا: اگر (جنت میں)  میرا ساتھ چاہتی ہو تو صرف مسافر کے زادِ راہ جتنا دنیوی سامان اپنے لئے کافی سمجھو، مالدار خواتین کی صحبت سے بچو اور جب تک کسی کپڑے میں پیوند نہ لگا لو اسے پرانا مت سمجھو۔( )    چنانچہ آپ رضی اللہُ عنہا نے اس وصیت کو ایسا پلّو  سے باندھا کہ کبھی ستر ہزار  تو کبھی ایک لاکھ درہم پاس ہوتے جنہیں راہِ خدا میں صدقہ کر دیتیں حالانکہ اس وقت آپ کے لباس میں پیوند لگا ہوا ہوتا۔ (2) خود رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بھی اپنے مبارک کپڑوں میں پیوند لگایا کرتے تھے۔ (4) اسی طرح حضرت فاروقِ اعظم اورحضرت علی المرتضیٰ رضی اللہُ عنہما جیسے وقت کے حکمران بھی پیوند والا لباس پہننے میں کوئی عار محسوس نہ فرماتے۔ (3)
یقیناً ان بزرگ ہستیوں کا پیوند والا لباس پہننا اپنی مرضی سے تھا، لہٰذا ان خواتین کو غور کرنا چاہیے جو کپڑوں کی معمولی خرابی یا ان کے معمولی پھٹ جانے یا پرانے ہو جانے کی وجہ سے انہیں ناکارہ قرار دے کر چھوڑ دیتی ہیں حالانکہ مہنگائی کے اس دور میں سلائی کڑھائی کے فن کو لباس کا عیب چھپانے اور پرانے یا پھٹ جانے والے سوٹ کو کام میں لانے یا اس کے کارآمد اجزا کو کسی اور سوٹ میں خوبصورت پیوندکاری کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اس حوالے سے کچھ مفید مدنی پھول پیشِ خدمت ہیں:
* بعض اوقات کپڑے بوسیدہ ہو جاتے یا ان کا رنگ اڑ جاتا ہے، مگر گلے، چاک دامن، آستین اور پائینچوں میں لگی بیل وغیرہ کی حالت درست ہوتی ہے جسے دوسرے سوٹ میں لگایا جا سکتا ہے۔* گہرے رنگ کے نئے سوٹ پر کٹ لگ جائے یا معمولی سوراخ ہو جائے تو اسے کڑھائی  یا رفو کے ذریعے درست کیا جا سکتا ہے، اگر وہ سوٹ ہلکے رنگ کا ہے یا وہ سوراخ کسی ظاہری حصہ پر ہے کہ صرف متاثرہ جگہ پر کڑھائی یا رفو  کروانے سے پیوند بہت زیادہ نمایاں، بدنما یا عجیب لگنے کا اندیشہ ہو تو پھر سوراخ سمیت ساری قمیض پر مخصوص فاصلے پر کڑھائی کے تیار پھول لگا کر عیب بھی چھپایا جا سکتا ہے اور سوٹ میں نئی روح بھی پھونکی جاسکتی ہے۔ * اگر جلنے کٹنے یا کسی چیز میں اَٹک کر ادھڑجانے کی وجہ سے نئے سوٹ کا بڑا حصہ اس طرح متاثر ہوجائے کہ کسی طرح اس کو کارآمد بنانا ممکن نہ ہو تو اس کے غیر متاثرہ حصے اور دوپٹے سے بچیوں کا پورا سوٹ یا فراک جو بھی ممکن ہو، تیار کیا جا سکتا ہے۔ * اگر وہ کپڑا فراک کے لئے کم پڑے اور کسی دوسرے کٹ پیس سے وہ کمی پوری نہ کی جاسکے تو اس کو رنگوں کے حسین امتزاج کا خیال رکھتے ہوئے چھوٹے یا بڑے نئے سوٹ کی سلائی کے وقت جزوی ڈیزائنگ کے طور پر استعمال کر لیجئے۔* اگر کسی سوٹ کی صرف قمیض مکمل طور پر ضائع  و ناکارہ ہوجائے اور اس کی شلوار صحیح حالت میں ہو تو اسے اپنی ہی کسی دوسری قمیض یا پھر ناپ کی معمولی تبدیلی کر کے کسی بچی کی قمیض کے ساتھ ملا کر سوٹ مکمل کیا جا سکتا ہے۔* ایسے پرانے سوٹ جو کسی بڑے عیب کی وجہ سے پہننے کے قابل نہ رہے ہوں اور ان کا کپڑا صحیح حالت میں ہو تو اسے جوڑ لگا لگا کر لحاف ،گدّے اور تکیوں کے اندونی استربنانے یا بیرونی استر کی کناریوں کی ڈیزائنگ کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔* یونہی ان کپڑوں کو اور بچوں بچیوں کی خراب و ناکارہ جرسیوں وغیرہ کو کٹنگ اور سلائی کی معمولی تبدیلی کے ذریعے تکیوں کے غلاف ، اوزاروں کے بیگ اور چھوٹے بچوں بچیوں کے نیکر میں با آسانی تبدیل کیا جا سکتا ہے اس کے علاوہ ایسی متعدد چیزوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے جن کیلئے وہ کپڑے مناسب و موزوں  معلوم ہوں۔ غرض چھوٹی یا بڑی جزوی خرابی کی وجہ سے آئے دن ڈھیروں کپڑے ضائع کر دینا نہ صرف حماقت بلکہ اسراف بھی ہے۔ فی زمانہ فینسی ملبوسات کے معاملے میں تو کچھ زیادہ ہی بے راہ روی اپنائی جاتی ہے۔ بکثرت خواتین اپنے بہت سے قیمتی اور بے عیب لباس صرف اس لئے پہننا چھوڑ دیتی ہیں کہ ان کی رشتہ دار یا جان پہچان والیاں بعض تقریبات میں انہیں وہ لباس پہنے دیکھ چکی ہوتی ہیں۔ ذرا سوچئے! بہت سی معروف خواتین جنہیں ٹی وی اسکرین اور سوشل میڈیا پر دیکھا جاتا ہے اور ان کے پاس دولت کی بھی کوئی کمی نہیں جب وہ اپنا کوئی سوٹ ایک سے زائد تقریبات میں پہن سکتی ہیں تو ہم کیوں نہیں پہن سکتیں حالانکہ ہمارے سامنے تو ہماری بزرگ خواتین کی آئیڈیل سیرت بھی موجود ہے جس میں  یقیناً دعوتِ فکر ہے کہ ایک آدھ تقریب میں پہنے جانے والے سوٹ کو ناقابلِ استعمال سمجھ کر چھوڑ دینے اور آئندہ کسی متوقع تقریب کیلئے اپنے والد یا شوہر کے کندھوں پر نیا سوٹ دِلوانے کا بار ڈالنے والیاں اپنی سوچ اور طرزِ عمل میں تبدیلی لائیں اور دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق پرانے کپڑوں کو بھی ہرممکنہ حد تک کام میں لانے کی کوشش جاری رکھیں۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن