دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Mahanama Khawateen (Web Edition) January-2022 | ماہنامہ خواتین (ویب ایڈیشن) جنوری-2022

Aqeeda Nabuwat o Risalat

book_icon
ماہنامہ خواتین (ویب ایڈیشن) جنوری-2022
سلسلہ: ایمانیات
موضوع: 

عقیدہ نبوت و رسالت

اللہ پاک نے  زمین میں اپنی خلافت کے لئے اپنے دستِ قدرت سے حضرت آدم علیہ السّلام کو بنایا،پھر جنت میں کچھ عرصہ رہنے کے بعد انہیں  اور ان کی زوجہ حضرت حوا   رَضِیَ اللہُ عنہا   کو ان کی پیدائش کے اصل مقصد کی تکمیل کے لیے درخت کا پھل کھانے کے بعد جنت سے زمین  پر اتار دیا گیا۔ اللہ پاک نے انہیں اولاد کی نعمت سے نوازا جس سے رفتہ رفتہ انسانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور لوگ مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم ہو کر زمین کے مختلف خطوں میں آباد ہوتے چلے گئے۔ ابتدا میں  تمام انسان  اللہ پاک کی وحدانیت پر ایمان رکھتے اور صرف اسی کی عبادت کرتے تھے، لیکن گزرتے وقت کے ساتھ  ابلیس کی فریب کاریوں اور وسوسوں کا شکار ہو گئے، یہاں تک کہ خالقِ حقیقی، معبودِ برحق کی بندگی چھوڑ دی اور اپنے ہی ہاتھوں سے تراشے ہوئے بتوں کو خدا کا شریک اور اپنا معبود  ٹھہرا لیا۔ کفر و شرک، گمراہی اور بد عملی کے ہر دور میں لوگوں کو اللہ پاک کی وحدانیت پر ایمان لانے، شرک سے روکنے، جنت کی بشارت دینے اور رب کی نافرمانیوں پر عذاب کی وعید سنانے کے لیے  اللہ پاک نے اپنے کچھ خاص اور مقرب بندوں کو پیدا فرما کر انہیں نبوت و رسالت کا منصب عطا فرمایا۔ البتہ! یاد رہے کہ اللہ  پاک پر کسی قوم کی ہدایت کے لئے نبی کا بھیجنا واجب نہیں، بلکہ یہ اس کا فضل و کرم ہے کہ اس نے لوگوں کی ہدایت کے لیے انبیا بھیجے۔نیز نبوّت کسبی نہیں کہ آدمی عبادت و ریاضت کے ذریعہ سے حاصل کر سکے، بلکہ محض عطائے الٰہی ہے کہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے دیتا ہے، ہاں! دیتا اسی کو ہے جسے اس منصبِ عظیم کے قابل بناتا ہے، جو قبلِ حصولِ نبوت تمام اخلاقِ رذیلہ(گھٹیا اخلاق) سے پاک اور تمام اخلاقِ فاضلہ سے مزین ہو کر جملہ (تمام) مدارجِ ولایت طے کر چکتا ہے اور اپنے نسب و جسم و قول وفعل و حرکات و سکنات میں ہر ایسی بات سے منزّہ(پاک) ہوتا ہے جو باعثِ نفرت ہو، اسے عقلِ کامل عطا کی جاتی ہے، جو اوروں کی عقل سے بدر جہا (کئی گنا) زائد ہے۔ چنانچہ خدا کی توحید کے ساتھ رسول کی رسالت پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔ فرعون نے  لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ  (پ11،یونس:90)کہا یعنی صرف خدا کی وحدانیت  کا اقرار کیا اور حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کی رسالت پر ایمان نہیں لایا، اس لئے وہ مومن نہ ہو سکا۔( ) یہی وجہ ہے کہ اسلام میں توحید کے بعد سب سے زیادہ اہمیت عقیدۂ رسالت کی ہے۔ بلکہ تمام رسولوں پر ایمان لانا ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے، جیسا کہ تفسیر نسفی میں ہے: ہر رسول تمام رسولوں پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے۔ لہٰذا جس نے کسی ایک رسول کو جھٹلایا تو گویا اس نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔(2)
نبی اور رسول میں فرق: نبی اس بشر(یعنی انسان)کو کہتے ہیں جس کی طرف اللہ پاک نے مخلوق کی ہدایت و راہ نمائی کے لیے وحی بھیجی ہو اور ان میں سے جو نئی شریعت یعنی اسلامی قانون اور خدائی احکام لے کر آئے اسے رسول کہتے ہیں۔ ٭رسول بشر ہی کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ فرشتوں میں بھی رسول ہیں ، جبکہ انبیا سب بشر تھے اور مرد، نہ کوئی جن نبی ہوا نہ عورت۔
انبیا و رسل سے متعلق  چند بنیادی عقائد: ٭نبی ہونے کے لیے اس پر وحی ہونا ضروری ہے، خواہ فرشتہ کی معرفت ہو یا  بِلا واسطہ۔٭وحیِ نبوت،انبیا کے لیے خاص ہے،جو اسے کسی غیرِ نبی کے لیے مانے کافر ہے۔٭نبی کو خواب میں جو چیز بتائی جائے وہ بھی وحی ہے، اس کے جھوٹے ہونے کا احتمال نہیں۔٭ جو شخص نبی سے نبوّت کا زوال جائز جانے کافر ہے۔٭ نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے۔ اور یہ عصمت نبی اور مَلَک کا خاصہ ہے، کہ نبی اور فرشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں ۔ اماموں کو انبیا کی طرح معصوم سمجھنا گمراہی و بد دینی ہے۔عصمتِ انبیا کے یہ معنیٰ ہیں کہ ان کے لیے حفظِ الٰہی کا وعدہ ہو لیا،جس کے سبب ان سے صدورِ گناہ شرعاً محال ہے۔ بخلاف ائمہ و اکابر اولیا، کہ اللہ پاک  انہیں محفوظ رکھتا ہے،ان سے گناہ ہوتا نہیں،مگر ہو تو شرعاً محال بھی نہیں۔٭ اللہ  پاک نے انبیا علیہمُ السلام پر بندوں کے لیے جتنے احکام نازل فرمائے انہوں نے وہ سب پہنچا دیئے،جو یہ کہے کہ کسی حکم کو کسی نبی نے چھپا رکھا،تقیہ یعنی خوف کی وجہ سے یا اور کسی وجہ سے نہ پہنچایا،کافر ہے۔٭احکامِ تبلیغیہ میں انبیا سے  بھول چوک محال ہے۔٭رُسل  و انبیا برص و جذام اور ایسے امراض جن سے  لوگ گِھن کھاتے ہوں ایسے امراض  سے پاک  ہوتے ہیں۔٭انبیائے کرام، تمام مخلوق یہاں تک کہ رسلِ ملائکہ سے افضل ہیں۔٭نبی کی تعظیم فرضِ عین،بلکہ اصلِ تمام فرائض ہے۔کسی نبی کی ادنیٰ توہین یا تکذیب،کفر ہے۔٭ نبیوں کے مختلف درجے ہیں،بعض کو بعض پر فضیلت ہے اور سب میں افضل ہمارے آقا و مولیٰ سیّد المرسلین  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم ہیں۔٭انبیا علیہم السلام اپنی اپنی قبروں میں اسی طرح بحیاتِ حقیقی زندہ ہیں،جیسے دنیا میں تھے،کھاتے پیتے ہیں، جہاں چاہیں آتے جاتے ہیں،تصدیقِ وعدۂ الٰہیہ کے لیے ایک آن کو ان پر موت طاری ہوئی،  پھر بدستور زندہ ہوگئے،ان کی حیات، حیاتِ شہدا سے بہت ارفع و اعلیٰ ہے۔٭ سب میں پہلے نبی حضرت آدم  علیہ السلام ہوئے اور سب میں پہلے رسول جو کفار پر بھیجے گئے حضرت نوح علیہ السلام ہیں۔(3)
اسمائے انبیا:یوں تو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آخری نبی، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  تک بہت سے انبیا علیہمُ السلام تشریف لائے، البتہ ان میں سے 27 کا ذکر صراحت کے ساتھ قرآن مجید میں موجود ہے،جن کے نام یہ  ہیں:(1) حضرت آدم(2)حضرت نوح(3)حضرت ابراہیم(4) حضرت اسماعیل (5)حضرت اسحاق (6) حضرت یعقوب (7) حضرت یوسف(8)حضرت موسیٰ(9)حضرت ہارون(10) حضرت خضر(راجح قول کے مطابق یہ بھی نبی ہیں)(11)حضرت شعیب (12)حضرت لوط(13)حضرت ہود(14)حضرت داؤد (15)حضرت سلیمان(16)حضرت ایوب(17) حضرت زکریا(18)حضرت  یحییٰ(19)حضرت عیسیٰ(20) حضرت الیاس(21)حضرت یسع(22)حضرت یونس(23) حضرت ادریس(24)حضرت ذوالکفل(25)حضرت صالح (26) حضرت عزیر علیہم السلام اور(27)خاتم الانبیاء،محمد رسولُ اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم۔ان کے علاوہ تورات میں حضرت شیث، حضرت دانیال ،حضرت یوشع ،حضرت شمویل ، حضرت ار میا  اور حضرت  شعیا علیہم السلام کے مبارک نام بھی مذکور ہیں۔(4)   انبیا و مرسلین کی تعداد: انبیا ومرسلین علیہمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی تعداد سے متعلق روایات مختلف ہیں، اس لئے ان کی صحیح تعداد اللہ پاک ہی بہتر جانتا ہے۔ ہمارے لیے حکم یہ ہے کہ ہم ان کی کوئی تعداد معین نہ کریں، کیونکہ معین تعداد پر ایمان لانے میں کسی نبی کی نبوت کا انکار ہونے یا کسی غیر نبی کو نبی مان لینے کا احتمال موجود ہے اور یہ دونوں باتیں بذاتِ خود کفر ہیں۔ انبیائے کرام کی سیرت سے متعلق مزید معلومات کے لئے مکتبۃ المدینہ کی کتاب”بہارِ شریعت،حصہ اول“اور”سیرتُ الانبیاء“کا مطالعہ فرمائیے۔
سلسلہ: فیضانِ سیرتِ نبوی 
موضوع: 

شان و برکاتِ نامِ محمد

اللہ پاک نے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   کو بے شمار عظمتوں رفعتوں ، رحمتوں سے نوازا، پوری کائنات میں جیسا مقام و مرتبہ آپ کو عطا ہوا وہ آپ ہی کا خاصہ ہے، آپ کے فضائل و کمالات اور خصوصیات کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ آپ کے  پیارے نامِ محمد کو اللہ پاک نے  ایسی ایسی برکتیں عطا فرمائی ہیں کہ عقلیں دنگ ہیں۔ قرآنِ کریم میں لفظِ محمد 4 مرتبہ ذکر ہوا ہے، کتاب المنتقی جلد 9 صفحہ 456 پر ہے: حضرت امام مالک  رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اہلِ مکہ آپس میں یہ گفتگو کیا کرتے تھے کہ جس گھر میں بھی محمد نام کا کوئی فرد ہوتا ہے تو اس گھر میں خیر و برکت ہوتی ہے اور ان کے رزق میں کثرت ہوتی ہے۔ حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:لفظِ محمد کے معنیٰ ہیں: ہر طرح ،ہر وقت، ہر زمانہ، ہر زبان میں حمد و ثنا کئے ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ جیسے حضورِ اَنور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تمام خلقت سے افضل، تمام رسولوں کے سردار ہیں، اسی طرح آپ   کا نام شریف بھی تمام نبیوں  کے بلکہ تمام خلق کے ناموں کا سردار ہے۔( )  چنانچہ آمد مصطفےٰ سے قبل   جو نامِ محمد کی شان و برکات  ظہور پذیر ہوئیں، ان میں سے چند ملاحظہ کیجئے: 
(1) نامِ محمد کی برکت سے اللہ پاک نے ابو البشر حضرت آدم علیہ السّلام  کی لغزش کو معاف فرمایا، چنانچہ جب آپ سے لغزش ہوئی تو آپ علیہ السّلام نے یوں دعا کی: یَا رَبِّ اَسْاَلُکَ بِحَقِّ
مُحَمَّدٍ لِّمَا غَفَرْتَ لِی۔اے میرے رب! صدقہ محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  کا میری مغفرت فرما۔ اللہ پاک نے  فرمایا : اے آدم !  تو نے محمد   کو کیسے پہچانا حالانکہ میں نے ان کو پیدا نہیں کیا۔ حضرت آدم نے عرض کیا: جب تو نے مجھے پیدا کیا اور مجھ میں اپنی روح پھونکی تو میں نے سر اٹھایا اور عرش کے پایوں پر لکھا 
ہوا دیکھا: لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ محمد رَّسُوْلُ اللّٰه  تو میں جان گیا کہ تو نے اپنے نام کے ساتھ اسی کو ذکر کیا ہے جو تیرے نزدیک محبوب ترین خلق ہے۔ اللہ پاک نے فرمایا: اے آدم !  تو نے سچ کہا ۔ (2) 
اسی طرح آپ نے اپنے بیٹے حضرت شیث علیہ السّلام سے فرمایا: تم جب بھی اللہ پاک کا ذکر کرو تو ساتھ حضرت محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  کا نامِ مبارک بھی ذکر کرنا، کیونکہ میں نے اس وقت بھی اُن کا مبارک نام عرش کے ستونوں پر لکھا ہوا دیکھا تھا، جب میں روح اور مٹی کے درمیان (تخلیقی مراحل میں) تھا، پھر جب مجھے آسمانوں کی سیر کرائی گئی تو اس وقت بھی میں نے ہر جگہ ان کا اسمِ گرامی لکھا دیکھا۔ میرے ربّ کریم نے مجھے جنت میں ٹھہرایا تو وہاں بھی میں نے ہر جنتی محل اور بالا خانے پر نامِ  محمد لکھا پایا۔ اس کے عِلاوہ حورُ الْعین کی پیشانیوں، درختِ طوبیٰ و درختِ سدرةُ المنتہیٰ اور دیگر جنتی درختوں کے پتوں، نیز حجاباتِ الٰہیّہ کے کناروں اور فرشتوں کی آنکھوں کے درمیان بھی یہی نامِ محمد  لکھا ہوا دیکھا ہے۔ لہٰذا ان کا کثرت سے ذکر کرنا، بے شک فرشتے بھی ہر گھڑی ان کے ذکرِ خیر سے اپنی زبان تر رکھتے ہیں۔(3)نیز حضرت آدم علیہ السّلام  کے دونوں شانوں کے درمیان مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰهِ خَاتَمُ النَّبِیِّیْن لکھا ہوا تھا۔(4)
 (2) سرکارِ دو عالَم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے نام کی برکتوں میں سے ایک برکت یہ بھی ذکر کی گئی ہے کہ حضرت نوح علیہ السّلام کی کشتی اس مبارک نام کی بدولت جاری ہوئی۔(5) اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ بارگاہِ رسالت میں عرض کرتے ہیں:
تیری رحمت سے صَفِیُّ اللہ کا بیڑا پار تھا
تیرے صدقے سے نَجِیُّ اللہ کا بجرا  تر گیا
(3)حضرت وہب بن منبہ رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا جو 200 سال تک  اللہ پاک کی نافرمانی کرتا رہا، جب وہ مرگیا  تو لوگوں نے اسے گھسیٹ کر کسی جگہ پھینک دیا۔ اللہ پاک نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی طرف وحی فرمائی: جا کر اس کی نمازِ جنازہ ادا کریں تو آپ علیہ السّلام نے عرض کی: یا اللہ! بنی اسرائیل کہتے ہیں کہ وہ 200 سال تک تیری نا فرمانی کرتا رہا ہے۔ اللہ پاک نے فرمایا: وہ ایسا ہی تھا مگر وہ جب بھی تورات کھولتا اور نامِ محمدکو دیکھتا تو اسے چوم کر آنکھوں سے لگاتا اور ان پر دُرود پڑھتا تھا۔ تو میں نے اس کا یہ عمل قبول کر کے اس کے گناہ معاف کر دیئے اور 70جنتی حوروں سے اس کا نکاح کر دیا ہے۔ (6)
(4) آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دادا حضرت عبد المطلب رضی اللہُ عنہ  نے  آپ کا نام محمد رکھا اور اسی نام پر آپ کا عقیقہ کیا۔ لوگوں نے پوچھا: آپ نے اپنے پوتے کا نام محمد کیوں رکھا (جبکہ) آپ کے آبا و اجداد میں کسی کا بھی یہ نام نہیں رہا؟ تو آپ نے جواب دیا: میں نے اس نیت سے اور اس اُمید پر اس بچے کا  نام  محمد رکھا ہے کہ تمام روئے زمین کے لوگ اس کی تعریف کریں گے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: میں نے اس امید پر  محمد  نام رکھا ہے کہ اللہ پاک آسمانوں میں اس کی تعریف فرمائے گا اور زمین میں خدا کی تمام مخلوق اس کی تعریف کرے گی۔ حضرت عبدالمطلب رضی اللہُ عنہ کی اس نیت اور امید کی و جہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک خواب دیکھا تھا کہ آپ کی پشت سے ایک چاندی کی زنجیر نکلی جس کا ایک کنارہ زمین میں ہے اور ایک سرا آسمان کو چھو رہا ہے، نیز تمام مشرق و مغرب کے انسان اس زنجیر سے چمٹے ہوئے ہیں۔ حضرت عبدالمطلب رضی اللہُ عنہ نے جب قریش کے کاہنوں سے اس کی تعبیر پوچھی تو انہوں نے اس خواب کی یہ تعبیر بتائی کہ آپ کی نسل سے عنقریب ایک ایسا لڑکا پیدا ہو گا کہ تمام اہلِ مشرق و مغرب اس کی پیروی کریں گے اور تمام آسمان و زمین والے اس کی مدح و ثنا کا خطبہ پڑھیں گے۔ ایک قول یہ ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی والدہ ماجدہ رضی اللہُ عنہا نے آپ کا نام محمد   رکھا ، کیونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  ان کے شکمِ مبارک میں رونق افروز تھے تو انہوں نے خواب میں ایک فرشتے کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا: اے آمنہ! سارے جہان کے سردار تمہارے شکم میں تشریف فرما ہیں، جب یہ پیدا ہوں تو ان کا نام محمد رکھنا۔(7) 
یاد رہے! نامِ محمد کی  برکتوں کا یہ سلسلہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ولادت سے قبل دنیا کی حد تک محدود نہیں بلکہ کل بروزِ قیامت بھی اس مبارک نام کی برکات سے کثیر مخلوق کو فیض ملے گا۔ جیسا کہ  ایک روایت میں ہے کہ روزِ قیامت دو شخص بارگاہِ خداوندی میں حاضر ہوں گے تو حکم ہو گا انہیں جنت میں لے جاؤ۔ وہ عرض کریں گے: الٰہی! ہم کس عمل کے سبب جنت کے قابل ہوئے ،جبکہ ہم نے کوئی نیک کام نہ کیا تھا؟ فرمایا جائے گا :  جنت میں جاؤ! میں نے حلف کیا ہے کہ جس کا نام احمد یا محمد  ہو، دوزخ میں نہ جائے گا۔ (8)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن