30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اٹھتے ہی ہیں، کیاہی اچھا ہو کہ سحری سے پہلےیا بعد میں کم از کم دو رکعتیں بہ نیتِ تَہَجُّد ادا کر لی جائیں۔ حدیثِ پاک میں ہے:”جب کوئی شخص رات میں اپنے گھر والوں کو جگائے پھر وہ دونوں یا وہ اکیلا دو رکعتیں پڑھ لے تو وہ ذکر کرنے والوں اور والیوں میں لکھے جائیں گے۔“ (ابو داؤد، 2/49، حدیث: 1309) حضرتِ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کی شرح میں لکھتے ہیں:تَہَجُّد کےوقت تھوڑے ذکر کی برکت سے انسان ہمیشہ ذکر کرنے والوں کے زُمرے میں آجاتا ہے۔(مراٰۃ المناجیح، 2/262)
ایک اور حدیث شریف میں ہے:رات میں قیام کو اپنے اوپر لازم کر لو کہ یہ اگلے نیک لوگوں کا طریقہ ہے اور تمہارے ربِّ کریم کی طرف قُربت کا ذریعہ اور گناہوں کو مٹانے والا اور گناہ سے روکنے والا ہے۔“
( ترمذی، 5 / 323،حدیث: 3560)
نمازِ تَہَجُّد سے مُتعلِّق2 شرعی مسائل
(1) صَلَاۃُ اللَّیْل (یعنی رات کی نماز) کی ایک قِسم تہجد ہے کہ عشا کی نماز کے بعد رات میں سو کر اُٹھیں اور نوافل پڑھیں ۔(2) کم سے کم تَہجّد کی دو رکعتیں ہیں اور حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے آٹھ تک ثابت ہیں ۔
(بہار شریعت، 1/677، 678 ،حصہ:4)
سحری سُنّت ہے مگر سحری کا اذان سے تعلّق نہیں
سحری روزے کیلئے شرط نہیں ، سحری کے بِغیر بھی روزہ ہوسکتا ہے مگر جان بوجھ کر سحری نہ کرنا مُناسب نہیں کہ ایک عظیم سُنّت سے محرومی ہے او رسحری میں خوب ڈٹ کر کھانا ہی ضَروری نہیں ، چند کَھجوریں اور پانی ہی اگر بہ نیّت سحری استعمال کر لیں جب بھی کافی ہے ۔روزے کا اذانِ فجرسے کوئی تَعلُّق نہیں یعنی فجرکی اَذان کے دَوران کھانے پینے کا کوئی جَواز ہی نہیں ۔اَذان ہویا نہ ہو،آپ تک آواز پہنچے یا نہ پہنچے صُبحِ صادِق سے پہلے پہلے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع