30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
واپسی پر میں نے اپنے اخلاق وکردا ر کو مزید بہتر بنانے کی کوشش شروع کر دی اور والدین کا بھی ادب و احترام کرنے لگا۔ مدَنی ماحول کی برکت سے آنے والے اس مدَنی انقلاب پر سب ہی لوگ حیران تھے کہ اچانک اس کے گفتار و کردار میں یہ تبدیلی کیسے آگئی! کل تک تو یہ کسی کو خاطر میں نہ لاتا تھا، ہر ایک کے ساتھ بد تمیزی سے پیش آتاتھا مگر اَ لْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّمدَنی ماحول کی برکت سے میں واقعی بدل چکا تھا اور بداخلاقی سے ناطہ توڑ کر اچھی عادات و اَطوار سے رشتہ جوڑ چکا تھا اوراس طرح کچھ ہی دنوں میں اپنے پرائے سب کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔ پہلے جو لوگ مجھ پر نفرت و حقارت کے انگارے برساتے تھے اب عقیدت و محبت کے پھول نچھاور کرتے ہیں۔ اَ لْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ یہ سب دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدَنی ماحول کا فیضان ہے جس کی برکت سے معاشرتی برائیوں کا سدِّباب ہو رہا ہے ، سنّتیں عام ہو رہی ہیں ، برائی کے اڈے ویران اور مسجدیں آباد ہورہی ہیں مزید مسلمانوں میں فکرِ آخرت کی شمع روشن ہو رہی ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول کی برکت سے جہاں مسلمانوں میں فکرِ آخرت پیدا ہو رہی ہے وہیں شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی نگاہِ ولایت ، وعظ و نصیحت اور مدَنی ماحول کی برکت سے والدین کے نافرمان بھی مطیع و فرمانبردار بن گئے ہیں نہ صرف خودوالدین کی خدمت کر کے اپنی آخرت سنوار رہے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی والدین کے ادب و احترام کا درس دیتے نظر آتے ہیں ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
باب المدینہ (کراچی ) ڈرگ کالونی کے مقیم اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ 11 نومبر 2011ء کی بات ہے میری والدہ شوگر کی مریضہ تھیں ۔ مختلف ڈاکٹروں سے علاج کروایا ، مجوّزہ دوائیں بھی استعمال کیں مگر امی جان مکمل صحت یاب نہ ہو سکیں ۔ علاج معالجے کا سلسلہ جاری تھا کہ ایک دن والدہ کو بخار ہو گیا ، ہم نے اسے موسم کی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والا عام بخار سمجھ کر زیادہ توجہ نہ دی اور ہلکی پھلکی دواپر اکتفا کیا مگر یکایک بخار شدّت اختیار کر گیا اور جب ہم والدہ کو لے کر بڑے اسپتال پہنچے تو ڈاکٹر نے بتایا: شوگر ہائی (زیادہ) ہو چکی ہے جس کی وجہ سے بخار نہیں جا رہا۔ ڈاکٹرکی ادویات سے والدہ کی طبیعت جب کچھ سنبھلی تو ہمارے چہروں پر بھی کچھ رونق آئی مگر یہ خوشی زیادہ دیر باقی نہ رہ سکی کچھ ہی دیر بعد ڈاکٹر نے بتایا: آپ کی والدہ کے گردوں میں سوزِش (Infection) بھی ہے۔ اب ہم نے کڈنی سینٹر (گردوں کے اسپتال) کی راہ لی۔ والدہ کو داخل کر لیا گیا علاج شروع ہوا مگر کوئی خاص فرق نہ پڑا بلکہ ڈاکٹر نے ہمیں یہ کہہ کر جواب دے دیا کہ آپ کی والدہ کا بخار بگڑ کر نمونیا بن چکا ہے اور اسی وجہ سے خون کے سفید خَلیے (White cells) تیزی سے کم ہوتے جارہے ہیں ۔ڈاکٹر کی اس بات سے سب کے چہرے مرجھاگئے۔ اب ہم نے سول اسپتال کا رُخ کیا، ڈاکٹر نے معائنہ وغیرہ کرنے کے بعد والدہ کو (Admit) داخل کر لیا۔کئی دن علاج جاری رہا مگر ڈاکٹروں کی طرف سے کوئی تسلی بخش بات سننے کو نہ ملی۔ طبیعت سنبھلنے کے بجائے مزید بگڑ نے لگی آخر کار امی جان کو (i.c.u) میں شفٹ کر دیا گیا۔ 15 دن آئی سی یو میں علاج جاری رہا ۔ایک دن ڈاکٹر نے یہ کہہ کر قیامت ڈھائی کہ آپ کی والدہ کے گردے فیل ہو چکے ہیں ۔ یہ خبر سنتے ہی سب کے چہرے پر ہوائیاں اُڑنے لگیں ، اچانک امی جان کی طبیعت بگڑ گئی کیونکہ انہوں نے بھی ڈاکٹر کی بات سن لی تھی۔اس خبر کا امی جان کے دماغ پر گہرا اثر ہوا ، انہوں نے بہکی بہکی باتیں کرنا شروع کر دیں ، ان کے چہرے پر ہر وقت ایک خوف سا دکھائی دینے لگا۔ وہ اپنے آپ کو