30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سعادت حاصل کر رہا ہوں ۔ میری دعا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ مرتے دم تک مجھے دعوتِ اسلامی کے ماحول میں استقامت عطا فرمائے۔
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! یقینا ماں باپ کا دَرَجہ بہت بلند وبالا ہے، ان کی دعائیں اولاد کے حق میں مقبول ہوتی ہیں ، بس اُنہیں خوش رکھئے، خوب خدمت کر کے ان کی دعائیں لیجئے۔ ان کی خوشی ایمان کی سلامتی اور ان کی ناراضی ایمان کی بربادی کا باعِث ہو سکتی ہے ۔ ماں باپ کا فرماں بردار سدا پھلا پھولا اور شاد و آباد رہتا ہے، دنیا میں جہاں کہیں رہے اپنے ماں باپ کی دعائوں کا فیض اٹھاتا ہے۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کے مطبوعہ 32 صَفحات پرمبنی رسالے ، ’’ سَمُندری گنبد ‘‘ صفحہ 6تا7 پر ہے : خوب ہمدردی اور پیار و محبت سے ماں باپ کا دیدار کیجئے ، ماں باپ کی طرف بَنَظَرِرَحمت دیکھنے کے بھی کیا کہنے ! سرکارِمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ رَحمت نشان ہے : جب اولاد اپنے ماں باپ کی طرف رَحمت کی نظر کرے تو اللہ تَعَالٰیاُس کیلئے ہر نظر کے بدلے حجِّ مبرور (یعنی مقبول حج ) کا ثواب لکھتاہے ۔ صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: اگرچِہ دن میں سومرتبہ نظر کرے !فرمایا : نَعَمْ، اللہُ اَکْبَرُ وَاَطْیَبُ یعنی ’’ ہاں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ سب سے بڑا ہے اوراَطْیَب (یعنی سب سے زیادہ پاک) ہے۔ ‘‘ (شُعَبُ الْاِیمان، ج۶ ص۱۸۶ حدیث ۷۸۵۶ ) یقینا اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر شے پر قادِر ہے، وہ جس قَدَر چاہے دے سکتا ہے، ہرگز عاجِز نہیں لہٰذا اگر کوئی اپنے ماں باپ کی طرف روزانہ 100تو کیا ایک ہزار بار بھی رَحمت کی نظر کرے تو وہ اُسے ایک ہزارمقبول حج کا ثواب عنایت فرمائے گا۔
مشغول جو رہتا ہے، ماں باپ کی خدمت میں ماں اللہکی رحمت سے، جاتا ہے وہ جنّت میں
باپ کو ایذا جو، دیتا ہے شرارت سے جاتا ہے وہ دوزخ میں ، اعمال کی شامت سے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{5} والدین کا فرماں بردار بن گیا
ایک اسلامی بھائی کے تحریری بیان کا خُلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں آنے سے قبل میں گناہوں کی کیچڑ میں لتھڑا ہوا تھا۔ جان بوجھ کر نمازیں قضا کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور مختلف گناہوں میں منہمک رہنا میرے معمولات میں شامل تھا۔ گناہوں کی سیاہی دل پر اس قدر جم چکی تھی کہ کسی کے سمجھانے کے باوجود بھی کان پر جُوں تک نہ رینگتی، ہر ایک کی بات سُنی اَن سُنی کر دیتا۔ مزید بُرے لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے میرے اخلاق و کردار انتہائی داغ دار ہو چکے تھے۔ میری عاداتِ بد کی وجہ سے اپنے غیر سبھی مجھ سے بیزار تھے۔ میری زندگی میں بہار کچھ یوں آئی کہ ایک دن دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ عا شقِ رسول اسلامی بھائی سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے میری گناہوں سے پرخار زندگی کو سنّتوں سے پر بہار بنانے کے لیے مجھ پر انفرادی کوشش فرمائی اور دعوتِ اسلامی کے عاشقانِ رسول کے ہمراہ مدنی قافلے میں سفر کرنے کی ترغیب دلائی۔ اُن کی پُرخلوص اور محبت بھری دعوت کے سبب مجھ سے انکار نہ ہوسکا اور میں مدَنی قافلے کے لئے تیار ہوگیا اور پھر جلد ہی عاشقانِ رسول کے ساتھ مدنی قافلے کا مسافر بن گیا۔ مدَنی قافلے میں علمِ دین کے حصول کے ساتھ ساتھ اسلامی احکام پر عمل کی بھی خوب توفیق نصیب ہوئی جس سے ایک قلبی سکون ملا۔ زندگی میں پہلی بار پانچوں نمازیں پابندی کے ساتھ صفِ اوّل میں پڑھنے کی سعادت ملی، مزید سیکھنے سکھانے کے مدَنی حلقوں میں طہارت، نماز اور دیگر ضروری شرعی مسائل سیکھنے کو ملے۔ اَ لْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ چند دن عاشقانِ رسول کی صحبت کی برکت سے میرے اخلاق و کردار میں نمایاں تبدیلی واقع ہوگئی، دل گناہوں سے بیزار اور نیکیوں کی جانب مائل ہوگیا، سنّتوں پرعمل کرنے کاذہن بن گیا، نمازوں کی پابندی کا پکا ارادہ کر لیا اور جلدہی سبز عمامہ شریف کا تاج سجالیا۔ مدَنی قافلے سے